کچّے کان


اس کے معنی ہیں شک میں پڑنے والا،  گلا کرنے والا،  شکایت کرنے والا،  دوسرے سے شکایت کرنا،  جھگڑے والا،  شاکی، متشکک، مشکوک۔

کچھ لوگ کان کے اتنے کچے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی انھیں یہ کہہ دے کہ    تمہارا  کان کُتّا لے گیا۔یقین کیجئے کہ وہ اتنی سی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے کہ اپنے کان کو پکڑ کر چیک کرلیں ہے کان صحیح سلامت ہیں یا نہیں۔     بلکہ وہ کتے کے پیچھے پتھر لیکر بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔  ایسے لوگ ناصرف خود بے وقوف بنتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی حقائق سے بھٹکا دیتے ہیں۔ 

اسی طرح بہت سے لوگوں میں یہ ایک خراب عادت ہوتی ہے کہ سچ و جھوٹ،  اچھی یا بری  بات کوئی کہہ دے تو فوراً  اس پہ یقین کرلیتے ہیں۔  اور بغیر کسی چھانٹ پھٹک کے  اس بات کو مان کر اس پر طرح طرح کے خیالات و نظریات  قائم کرلیتے ہیں۔    یہ وہ  بری عادت  ہے جو  انسان  کو شکوک و شبہات کے دلدل میں پھنسا  دیتی ہے۔  اور بلا  وجہ  آدمی  اپنے مخلص دوستوں کو دشمن بنا لیتا ہے اور خود غرض و فتنہ  پرور لوگ اپنی چالوں میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالی  نے قرآن مجید ، سورۃ الحجرات آیت 6 میں ارشاد فرمایا  کہ:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُـوٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَـةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْـتُـمْ نَادِمِيْنَ 

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔

مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کی خبر پر بھروسہ کرکے تم یقین مت کرلیا کرو بلکہ خوب اچھی طرح تحقیقات اور چھان  بین کرکے خبروں پر اعتماد کرو۔   ورنہ تم سے بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوجائیں گی۔  لہذا خبردار،   کان کے کچے مت بنو۔ اور ہر آدمی کی بات سن کر بلا تحقیقات کئے نہ مان لیا کرو۔

یاد رکھیئے کہ اچھے لوگ عفو و  درگزر سے کام لیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پہ نہیں لیتے اور معاملے کو وہیں ختم کردیتے ہیں لیکن کچھ بد طینت لوگ  ایسے معاملات کو دل میں رکھتے ہیں اور مناسب موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں جب اپنے دشمن پہ  کاری  وار کرسکیں۔

ممکن ہے بدلہ لینے والا  اور  اس کا دشمن،  دونوں ہی آپ کے مصاحب میں سے ہوں۔  اور کسی موقع پہ آپ کو  آخری الذکر کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا ہوجائے تو ایسے موقع پر اول الذکر  (بدلہ لینے والا آپ کا  قریبی بندہ)  موقع کی نزاکت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے چار منفی باتیں اپنے دشمن کے بارے میں آپ کو بیان کرکے آپ کے شکوک و شبہات کو اور زیادہ قوی بنانے کی کوشش کرے گا۔ اس طرح   آپ شدتِ جذبات کے تحت  اپنے ہی کسی خاص بندے کے بارے میں منفی رائے قائم کرلیں گے۔ اور ممکن ہے آپ کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے ،  جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو۔  اور اس بے بنیاد بات کی وجہ سے آپ کا ساتھی ناصرف شرمسار   ہوگا بلکہ حقیقتِ حال اور سچ ظاہر ہونے پر  آپ  کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔  

ایسی خِفّت آمیز صورتِ حال سے بچنے کے لئے آپ علیحدگی میں اس شخص کو بلائیں  جس کے بارے میں آپ کو کوئی اعتراض ہے۔  اسے پوری طرح حوصلہ دیں تاکہ وہ اپنی بات کُھل کر بیان کرسکے ۔  اگر آپ اپنے ذاتی شکوک وشبہات کے زیر ِ اثر  اسے بولنے سے روکیں گے تو آپ کو سچ نہیں معلوم ہوسکے گا۔ بلکہ آپ نے یکطرفہ سُنی سُنائی آدھی باتوں کو ہی پورا سمجھ کر ایک شریف اور پاکیزہ انسان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا۔

یاد رکھیئے!  اس طرح کے ناروا  رویوں کی وجہ سے آپ اپنے قیمتی اثاثوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور بدمزگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت