مکافات عمل
اس کے معنی ہیں عمل کا بدلہ (عمومی طور پر) گناہ کی سزا۔ باہم برابر ہونا، کرنی کا پھل، اجر، انتقام، پاداش، جرمانہ، جزا، معاوضہ وغیرہ۔
مکافات عمل کا مطلب ہے عمل کا بدلہ، وہ عمل جو ہم کرتے ہیں اور بدلہ جو ہمیں ملتا ہے۔ مکافات عمل قانون قدرت ہے ۔ یہ اٹل ، ناقابل تغیر اور یکساں لاگو ہوتا ہے۔ حالات کیسے بھی ہوں قوانین قدرت اس سے بے نیاز اپنے نتائج دیتے ہیں۔ قانون فطرت کے مطابق ہر عمل کا ردعمل ضرور ہوگا لیکن اس کی شکل کیا ہوگی؟ ردعمل کا وقت کیا ہوگا؟ ماہیت کیا ہوگی؟ اس کا انتخاب قدرت اپنی منشاء کے مطابق کرتی ہے۔
انسانی تاریخ مکافات عمل کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جو کچھ کسی نے بویا، وہ اسے کاٹنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی دنیا نہ کبھی بدی کی طاقت کے حوالے کی ہے اور نہ شیطان مردود کے۔
اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا بدلہ اسے ضرور ملتا ہے۔ اچھائی کی جزا جس طرح ضرور ملتی ہے اسی طرح برائی کی سزا بھی ملتی ہے۔ آج ہم کسی کا دل دکھائیں تو کل کو ہمارا دل ضرور دکھے گا۔ آج کسی کا حق ماریں گے تو کل ہمارا حق بھی نہیں ملے گا۔ آج کسی کو دھوکہ دیں گے تو کل کو خود بھی دھوکہ کھائیں گے۔
بچا کوئی مکافات عمل سے؟
وہی کاٹے گا جو بوتا رہا ہے!
جب کوئی انسان کسی کے ساتھ برا کرتا ہے اور خود پر برا وقت آجائے ، تب انسان کو چاہیے کہ بیٹھ کر سوچے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے۔اگر جواب نہ ملے، حقیقت جانتے ہوئے بھی اس بات کا اعتراف نہ کرسکو کہ یہ مکافات عمل ہے۔ تو سمجھ لو کہ ابھی ضمیر خواب غفلت میں ہے۔ ہر انسان کو اللہ تعالی نے یہ صلاحیت دی ہے کہ جب وہ کچھ بھی برا کررہا ہوتا ہے تو اس کا نفس لوامہ اس کو ضرور خبردار کرتا ہے۔ مگر یہ الگ بات ہے کہ انسان اس آواز حق کو فراموش کردیتا ہے۔ اور سنی ان سنی کردی جاتی ہے۔ برے وقت کی برائی سے ڈرنا چاہیے اور اس فانی دنیا میں کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار مکافات عمل کے بارے میں ضرور سوچ لینا چاہیے۔
آج کے دور کا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثریت اپنے نفس کے چنگل میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ ہم ہر وہ کام کرنا اپنا بنیادی فرض سمجھتے ہیں جس میں ہمارا فائدہ ہو ، اور خواہ وہ کام غیر اخلاقی ہو اور جس میں دوسرے کا یقینی نقصان ہو رہا ہو۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اندر اللہ تعالی نے ایک جج بٹھایا ہوا ہے جو نہ خریدا جاسکتا ہے اور نا ہی جھکتا ہے۔ اس جج کا کام ہے آپ کو بروقت خبردار کرنا اور بار بار کرنا۔ وہ جج آپ کو تنبیہ کرتا ہے کہ آپ جو کررہے ہیں وہ غلط ہے اور آپ کو قدرت کی طرف سے بلایا جائے گا اور مجرم بناکے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ اور ثابت کیا جائے کہ آپ نے کیا غلط کیا اور فی الفور فیصلہ ہوجائے۔ مجرم کو کبھی بھی سزا ملنے میں دیر نہیں لگتی۔
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَـهَـا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُـمْ ۖ وَلَا تُسْاَلُوْنَ عَمَّا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ
وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، ان کے لیے ان کے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے عمل ہیں، اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے گا۔ (سورہ بقرہ آیت 141)
انسان خود کو بہلاتا رہتا ہے ، خوش فہمی کا شکار رہتا ہے اور خود کو تسلی دیتا رہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن آپ کے اندر بے چینی اور ہلچل مچی رہتی ہے۔ اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے جو آپ نے کسی اور کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ تب کہیں آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے غلط کیا تھا۔
مکافات عمل ہونا اٹل ہے صاحب
دیر سویر ہوسکتی ہے پر ٹل نہیں سکتا
ایک مرتبہ میری پروموشن ہوئی اور یہ پروموشن میرٹ پر ہوئی تھی۔ میں نے نئی جاب کا چارج سنبھالا اور ڈیپارٹمنٹ کو نئے سرے سے منظم کیا۔ تین ماہ کے بعد مجھے مکہ المکرمہ میں اعتکاف کے لئے جانا تھا۔ میں نے چھٹی لی اور اعتکاف مکمل کیا۔ اور عید کے بعد جب ڈیوٹی پر آیا تو مجھے ایک نامہ موصول ہوا کہ آپ نے نئی جاب اچھے طریقے سے انجام دی اور شکریہ کے ساتھ یہ لکھا تھا اب آپ واپس اپنی پرانی جاب پر لوٹ آئیں۔
مجھے بہت دکھ ہوا اور افسوس بھی ہوا کہ کیا ماجرا ہے۔ جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جس صاحب کو میں نے سفارش کرکے اپنی جگہ پہ عارضی طور پر کام کرنے کے لئے رکھوایا تھا، انھوں نے کسی تیسرے پاکستانی کے ساتھ ساز باز کرکے وہ پوزیشن مجھ سے ہتھیا لی، اور خود تیسرے شخص کی پوزیشن لے لی۔ جس کے لئے انھوں نے نجانے کہاں کہاں سے کیا کہہ کر سفارش ڈلوائی ۔ مجھے نئی پوزیشن پر ایک ہزار ریال بڑھنے کی توقع تھی۔ لیکن دو افراد کی ملی بھگت سے مجھے وہ پوزیشن خالی کرنا پڑی۔ میں نے اس معاملے کو اللہ تعالی کی حکمت سمجھتے ہوئے بہتر سمجھا۔ اور پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ فوری طور پر ایک نئی پوزیشن کا اجراء ہوا اور میں اس پوزیشن کے لئے بھی منتخب ہوگیا۔ اور الحمد للہ نئی پوزیشن پہ مجھے 1400 ریال کا اضافہ ملا۔ یہ سچ ہے کہ اللہ پہ توکل کرنے سے انسان گھاٹے میں نہیں رہتا اور جو دوسروں کا حق مارتےہیں انھیں جواب دینا پڑتا ہے ۔ خدا کے سامنے بھی شرمندہ ہوتے ہیں اور اپنے ضمیر کے سامنے بھی رسوا ہوتے ہیں۔
ازل سے ہے مکافات عمل
کا سلسلہ قائم
رولایا جس نے اوروں کو
وہ خود بھی چشم تر ہوگا۔۔۔۔
اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے جو لوگ جان بوجھ کر کسی کا حق مارتے ہیں، غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں اور گناہ گار اور دھوکہ دہی کرتے ہیں ، اپنے دل کو کالا کردیتے ہیں۔ ان کے اندر ایک شیطان براجمان ہوجاتا ہےجو ہر فیصلہ ان کے حق میں کرتا ہے اور وہ بڑے فخر سے سر بلند کرکے کہتے ہیں کہ ہم ٹھیک کررہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ آپ کو الزام دیں گے، آپ پہ چڑھائی کریں گے کہ آپ غلط ہیں۔ ایسے لوگوں کو ایک ہی بار چوٹ لگتی ہے جو ان کی روح کو اندر سے گھائل کردیتی ہے۔ جب وہ اپنے اندر جھانکتے ہیں تب ان کو احساس ہوتا ہے ۔ تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ گزرا وقت لوٹ کر نہیں آسکتا اور پچھتاوے کے سوا اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔
کسی کا دل دکھانے کے بعد بہتر ہوگا
کہ آپ اپنی باری کا انتظار کریں!!
یہ دنیا مکافات عمل ہے، یہاں ہر شخص کو اپنے کیے کا حساب دینا ہے، ہر جھوٹ ، ہر دھوکے، ہر فریب ، ہر تکلیف، ہر اذیت جو وہ کسی کو دیتا ہے، اُسے اپنی ذات پہ بھگتنا ہے۔ہر غلط ارادے ، سوچ، عمل کا حساب دینا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اس دنیا میں آئے ہیں اور ایک دن واپس بھی جانا ہے۔
ہم نے اس مزرع ہستی میں کیے ہیں جو عمل
ایک دن کھینچیں گے سر ان کی مکافات کے بیج
مکافات عمل کی چکی چلتی بہت آہستہ ہے لیکن پیستی بہت باریک ہے۔

تبصرے