ایمان داری


ایمان داری کے معنی ہیں   وفاداری کے عزم کا مظاہرہ کرنا،     اخلاص سے معاملات کرنا، سیدھی راہ اختیار کرنا ،  اعتماد قائم رکھنا، سچ مچ  وہی  کہنا اور کرنا جو حقیقت ہے اور  دین و ایمان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا۔  ایمان داری   کہنے و سننے میں بہت ہلکا  و آسان ہے مگر عمل میں بہت مشکل  اور آزمائش والا وصف ہے۔ 

 بے ایمان وقتی فائدہ اٹھا کر مستقل نقصان و پریشانی میں رہتا  ہےجب کہ ایمان دار کو ظاہری طور پر وقتی نقصان نظر بھی  آجائے  مگر در حقیقت اس میں دیرپا فائدہ چھپا ہوتا  ہے ۔    اس کے علاوہ ایمان دار انسان کو نہ توخجلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی  کسی خوف کا کوئی ڈر ہوتا ہے۔

عزت اور نیک نامی سے بڑی کوئی دولت نہیں۔  مگر اسے کمانے کے لئے انسان کو  سچا انسان، شائستگی کا مظہر اور ایمان دار ہونا چاہیے۔  دنیا میں " کمانا"  اتنا اہمیت نہیں رکھتا جتنا کہ " کیسے کمایا"  رکھتا ہے۔  اس کی پوچھ یہاں بھی ہوتی اور آخرت میں بھی ہوگی ۔  بے ایمانی کا تھوڑا سا کمایا بھی آپ کے حق و حلال کی کمائی کو  آلودہ اور ضا‏‏ئع کردیتا ہے۔ 

ایک ایمان دار شخص کو ہمیشہ کامیاب انسان سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ اصول اس کی رہنمائی صحیح اور درست رستے کی طرف کرتا ہے اور اسے دنیا کے غم و آلام سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح اخروی زندگی میں بھی سکھ و آرام پہنچاتا ہے۔ آج کی تیز دنیا میں جہاں ہر قدم پہ خطرات انسان کو گھیرے رکھتے ہیں اور اگر دل میں بے ایمانی اور حرام کی کمائی کا احساس  گھر کرجائے تو آپ کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے اور آپ کا خدائے ذوالجلال کی رحمت پہ یقین  کو بھی بٹہ لگ جاتا ہے۔ نتیجتاً آپ  حزن و ملال کے چنگل میں پھنس کر بے بس ہوجاتے ہیں۔ 

ایمانداری کو اختیار کرکے انسان ایک محفوظ راستے کا انتخاب کرتا ہے۔۔ کیونکہ اگر ہم روزمرہ زندگی کی طرف دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ کہ ایمانداری کا ہمیشہ اچھا صلہ ملتا ہے۔۔ ایک ایماندار شخص کی ہمیشہ قدر کی جاتی ہے۔ اسے قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ارد گرد کے لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ اسکے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ ایک ایماندار شخص مینارہ نور کی طرح ہوتا ہے۔ جو زندگی کے اندھیرے اور تنہائی  میں رہنمائی  کرتا ہے۔ لوگ اپنی مشکلات اور پریشانیاں اسکے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا شخص ہی انکی مشکلات حل کر سکتا ہے۔ اور وہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے۔کہ انکی مشکلات اور پریشانیوں کا صحیح اور درست حل تجویز کر سکے۔

دنیا کی بنیاد اللہ تعالٰی نے نیکی اور خیر پر رکھی ہے اور یہ قانون قدرت ہے کہ بدی ہمیشہ دنیا سے مٹ جاتی ہے۔   اللہ تعالٰی نیکی اور خیر کو برقرار رکھتا ہے۔ اور بدی اور برائی کو مٹا دیتا ہے۔ بے ایمان اور بد دیانت شخص کو ہمیشہ ملکی قانون کے تحت یا قدرت کے اصول کے تحت سزا ملتی ہے۔ اور اگر کسی وجہ سے قانون کی نظر سے بچ بھی جائے تو اس کا ضمیر عمر بھر اسے ایسے کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ ایک پل بھی سکون میسر نہیں ہوتا بلکہ پچھتاوا اور احساس گناہ  کے زیر سایہ رہتا ہے۔ 

 بنی نوع انسان کی اجتماعی دانش اس بات کا تقاضا کرتی ہے۔ کہ انہیں برائی اور برے طور طریقوں کا خاتمہ کرنا چاہیئے تاکہ دنیا میں امن و آشتی کو فروغ حاصل ہو  اور امن پسند لوگ اطمینان سے زندگی گزار سکیں۔

بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ معاشرے کے لیئے ٹھیک نہیں وہ بغیر کسی خوف کےاپنے مذموم  کام کر رہے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ  برے کام اور برے طور طریقے چھوڑ دیں ۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ روز بروز طاقتور اور مضبوط بھی ہوتے چلے جاتے ہیں۔

دراصل یہ صورتحال کا اصل رخ نہیں ہے۔ ایسے لوگ درحقیقت خوف اور غم میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کا ضمیر ہمیشہ انکے برے طور طریقوں اور برے اعمال کی وجہ سے انہیں ہر وقت ملامت کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے برے کاموں کی وجہ سے ہمیشہ بےچین اوربے کیف رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انکا اندرونی خلفشار اور پریشانی بڑھتی رہتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے۔ کہ  ملکی قانون اور قانون قدرت ان پر لاگو ہوتا ہے۔ 

زندگی ایک آیئنے کی طرح ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے صاف ستھرا اور شفاف رکھیں۔ ایمانداری
 کا ئنات کا حسن ہے۔ ہمیں اس حسن میں مزید نکھار اور خوبصورتی پیدا کرنا چاہئیے۔ ہمیں زندگی کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا چاہیئے۔ جو ہمیں ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنا سکھاتے ہیں۔

دوسری طرف اگر ہم قوانین قدرت اور اقدار پر عمل نہ کریں تو اس سے ہماری زندگی مشکل اور تکلیف دہ ہو جائے ۔

ایمانداری کو ہم بعض اوقات ایمان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے۔ کہ اگر آپ میں ایمان ہے۔ تو آپ ایماندار ہوں گے۔ کیونکہ یہ ہمارا ایمان ہی ہے۔ جو ہمیں زندگی میں ایمانداری اور دیانتداری سے رہنا سکھاتا ہے۔ اگر آپ ایک ایماندار شخص ہیں تو یہ بات آپکے شعوراور لاشعور میں ہو گی کہ خدا  مجھے   دیکھہ رہا ہے  اور میں ہر وقت اسکی نگاہوں کے سامنے ہوں۔ یہ عقیدہ آپکو ایک ایماندار شخص بنادے گا۔ آپ ہر وقت اسی عقیدے کو سامنے رکھیں گے۔ اور یہی عقیدہ آپکو بدی کی طاقتوں سے محفوظ  رکھے  گا۔ یہ آپکو نافرمانی ، سرکشی اور بےایمانی سے  بھی محفوظ رکھے گا۔

اب ہم ایمانداری کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ پہلے ہم انفرادی زندگی کو لیتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص ہمیشہ خوش و خرم رہتا ہے۔ اسکے والدین، بیوی، بچے اور بہن بھائی اس سے خوش رہتے ہیں۔ اور اسکا احترام کرتے ہیں۔ وہ اسکی خوبیوں اور اسکی ایماندار فطرت کی تحسین کرتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص اپنے خاندان اور تمام دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔  اپنی انفرادی زندگی میں وہ اپنے بیوی بچوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور آسانی بہم پہنچاتا ہے۔  وہ اپنے بچوں کو بہتر اور معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھاتا ہے  تاکہ وہ اچھے  اور کارآمد شہری بن سکیں  اورملک و قوم کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں  اور اسکا بھی بڑھاپے میں سہارا بنیں۔ اور اگر اسکے خاندان کا کوئی فرد بیمار پڑ جائے تو وہ فوراً  اچھے   ڈاکٹر سے اسکا علاج کراتا ہے۔ اسکے علاوہ وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نکالتا ہے۔ اور ہوم ورک میں انکی مدد کرتا ہے۔ اپنی بیوی اور بچوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔ ان تمام اقدامات سے اسکی زندگی خوشی اور آرام سے گزرتی ہے۔

اجتماعی حوالے سے وہ مقامی، ملکی اور پھر بین الاقوامی سطح پرتمام بنی نوع کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرتا ہے۔ مثلاً  خیراتی کاموں اور اداروں کے ساتھہ وابستہ ہونا اور انکی مثبت سرگرمیوں میں شامل ہونا۔ وقت پڑنے پر رضاکارانہ طور پر کام کرنا وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔ یہ تمام امور اور سرگرمیاں اسکی اجتماعی زندگی کو بھی خوبصورت اور ہر کشش بنا دیتی ہیں۔اور اسے ایسا مقام عطا کرتی ہیں جو رہتی دنیا تک اسے زندہ رکھتا ہے۔

ایمان داری کا تقاضہ ہے کہ ہم  وقت کی پابندی کریں   اور باقاعدگی سے اپنے دفتر یا کام پر جایں۔ اور وقت پر گھر واپس آئیں ۔ اسی طرح ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے بلکہ وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہیئے۔ 

اسی طرح ہمیں روپیہ حلال اور جائز ذرائع سے کمانا چاہیئے۔ اور حلال اور جائز جگہ اور مواقع پر ہی خرچ کرنا چاہیئے۔ اسکے ساتھ ساتھ ہمیں بچت بھی کرنا چاہیئے تاکہ آڑے اور مشکل وقت میں کام آئے۔

اس کے علاوہ ہمیں اپنا کام وقت پر اور درست طریقے سے کرنا چاہیئے۔ اور اس طرح سے کام کرنا چاہیئےکہ  ہمارے مالکان اور آفیسر  ہم سے خوش اور ہمارے کام سے مطمئن ہوں۔ اور اگر ہم کوئی شے گاہک کو بیچ رہے ہیں تو ہمارا مال وہی ہونا چاہیے جو ہم بیچ رہے ہیں اور دام بھی مناسب ہو۔

اللہ تعالی ایمان دار شخص کو کنول کے پھول کی طرح   رکھتا ہے، جو غلاظت و کیچڑ والے ماحول و سسٹم میں بھی خوبصورت و پرسکون نظر آتا ہے۔  ایمانداری زندگی کا ایک بہترین طریقہ اور روشن راستہ ہے۔ ہمیں اسی روشن راستے پر چلنا چاہیئے۔ تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔ 

 کبھی ایسی کامیابی کو ، منافع کو ، امیری کو حاصل کرنے کی کوشش مت کیجئے  جو آپکو " بے ایمان"  کا لقب   دے۔

ایماندار ی بہترین حکمت عملی ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت