طوطا چشمی


طوطا چشمی کے معنی ہیں بے وفائی کرنا،  بے مُروّتی کرنا،  بے لحاظی کرنا،  بے اعتنائی کرنا اور کسی کو دھوکے  (اندھیرے)  میں رکھتے ہو‏‏ئے اپنا کام نکالنا۔  

جو شخص کسی کے احسانات کو بُھول جائے اسے طوطاچشم کہتے ہیں۔ طوطے کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی گول گول ہوتی ہیں جنہیں وہ اکثر گھماتا رہتا ہے۔ غالباً آنکھیں گھمانے کی عادت کی بناءپر وہ آنکھیں پھیر لینے والوں کی علامت بن گیا ہے اور ہر بے مروت شخص کو طوطا چشم کہا جاتا ہے۔ طوطا چشمی کا کھیل رچانے والے  کبھی اپنے لئے اور کبھی دوسروں کی منشاء پہ  یہ قبیح عمل سرانجام دیتے ہیں۔

طوطا  چشمی ایک فطری عمل ہے جو مطلب پرست انسانوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وصف ان لوگوں میں  اعلی درجہ پہ پایا جاتاہے جو اپنی تشہیر چاہتے ہوں اور اہلیت نہ ہونے کے باوجود اہل اور قابل لوگوں  کے برابر میں بیٹھنا  پسند کرتے ہوں۔

طوطا چشم لوگ  بہ یک وقت خوش پسند  اور ناامیدی کے مظہر ہیں ۔ان کی فطرت میں دوستوں کو اذیت پہنچانے کی عادت  کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے ۔لذت ایذا  حاصل کرنا  ازل سے طوطا چشم لوگوں   کا وتیرہ رہا ہے ۔ 

 جس طرح طوطوں کی کئی قسمیں ہیں جن میں فصلی طوطے ،نسلی طوطے ، بولنے والے طوطے،  پر تولنے والے طوطے،  بٹورنے والے طوطے، گھورنے والے طوطے،  ادھیڑنے والے طوطے، کھدھیڑنے والے طوطے، یک رنگ طوطے، صد رنگ طوطے،  وجیہہ طوطے،  وضیع طوطے،  عمو می طوطے،  نجومی طوطے،  ہر کار طوطے،  خرکار طوطے،   باد نما طوطے اور صیاد نما طوطے قابل ذکر ہیں۔  اسی طرح طوطا چشم لوگوں کی بھی کئی قسمیں ہیں اور کئی روپ ہیں۔    کچھ ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ  جو اپنی چالاکی، عیاری اور ہوشیاری میں اتنے  ماہر ہوتے ہیں کہ آپ کو  ان کی مسکراہٹ سجائے ہوئے چہرے پہ ذرا سا بھی شبہ نہیں ہوسکے گا ۔ 

طوطا چشم لوگ ہمیشہ یہ روپ اپنی خاطر نہیں دھارتے بلکہ اکثر اوقات اپنے آقاؤں، اپنے محسنوں کو خوش کرنے کے لئے اور کبھی کبھی یونہی  یہ کھیل رچاتے ہیں تاکہ  دوسروں سے معلومات حاصل کرکے اور انھیں سنہرے  خواب دکھا کر اپنا الو سیدھا کرسکیں اور اپنی ذات کی تسکین حاصل کرسکیں۔ 

طوطا چشم شخص وہی ہوسکتا  ہے جس  کی گھٹی میں الزام تراشی، بہتان طرازی اور غیبت رچ بس گئی ہو۔      طوطا چشم شخص  اپنے اہداف  یا ان افراد کو جسے  وہ شکار کرنا چاہتا ہے ان کی تر دامنی کے من گھڑت واقعات سنا کر  عام لوگوں  کے دل کے پھپولے پھوڑتے ہیں۔ ایسے سادیت پسندی کے مریض اور خفاش منش انسانوں کے ہاتھوں کسی کی پگڑی محفوظ نہیں۔   طوطا چشم لوگوں  کے مانند کوئی انسان پینترے اور رنگ نہیں بدل سکتا۔

طوطا چشم لوگ  اس وقت تک اپنے آقا اور صیاد کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں جب تک وہ  اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوجائیں۔  اس کام  کے لئے وہ اپنے آقاؤں کے ہاں سے  چُوری کھاتے  رہتے ہیں اور کبھی کبھار ان  کے ساتھ کھڑے ہوکر ایک آدھ تصویر بنوا لیتے ہیں تاکہ اپنی دھاک جمع سکیں۔ 

طوطا چشم لوگ ضروری نہیں اپنے آقاؤں کے ہمیشہ وفا دار رہیں۔ جب تک ان کے آقا انھیں چوری کھلاتے رہتے ہیں اور ان کی جیب بھرتے رہتے ہیں  تب تک وہ اپنے آقاؤں کے وفادار رہتے ہیں اور جیسے ہی ان کی آسائیشیں اور عیاشیاں ختم ہوجائیں وہ  چونچ پھاڑ کر اور پنجے جھاڑ کر اپنے آقاؤں کے قبیح کردار کو ہد ف تنقید بناتے ہیں اور اس طرح صیاد کا کچا چٹھاسامنے لاتے ہیں کہ اس کو چھٹی کے دودھ کے ساتھ ساتھ نانی بھی یاد آجاتی ہے۔

طوطا چشم لوگ  فریب صنعت ایجاد کی انوکھی صورت ہیں ۔اپنی ظاہری شکل میں یہ لوگ   نہ صرف سبز باغ دکھانے میں ید طولی رکھتے ہیں بلکہ وقت پڑنے پر گدھے کو بھی اپنا باپ بنانے میں کوئی خجلت محسوس نہیں کرتے۔

 طوطا چشم  صفت  افراد  کے شریف النفس لوگوں سے  مراسم  ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں ۔ گرگٹ محض رنگ بدلتا ہے جب کہ طوطا  چشم لوگ اپنا ڈھنگ  بھی بدلتے رہتے ہیں۔گرگٹ سرعت سے چولا بدلتا رہتاہے جبکہ طوطا  چشم لوگ بڑ بولا بن کر اپنے منہ میاں مٹھو بنے رہتے ہیں۔ اور اپنی چونچ مال مفت میں پیوست کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے  ہر کسی کو پھانسنے اور تکلیف پہچانے میں لگے رہتے ہیں۔  

طوطا  چشم لوگوں کا    چہرہ  بظاہر بہت معصوم دکھائی دیتا ہے اور  آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔ دنیا میں طوطا چشم لوگوں کی مقبولیت بہت ہی زیادہ ہے۔ اور وہ کبھی بھی اپنے شکار سے غافل نہیں رہتے بلکہ خود کو سماج کے اہم لوگوں سے منسلک رکھتے ہیں۔

طوطا چشم لوگ اس وقت تک اپنے ہدف  کا پیچھا کرتے رہتے ہیں جب تک اپنے ہدف  کو اپنے مفاد کے لئے  زیر نہ کرلیں۔ ان کی طوطا چشمی کی صفت کسی بھی حالت اور کسی بھی مرحلے میں کم نہیں ہوتی۔  وہ لوگ سوتے جاگتے اسی  بارے میں سوچتے رہتے ہیں کہ فلاں کیوں چین سے جی رہا ہے۔  

شیطانوں کا سردار جب شام کو اپنے چیلوں کی میٹنگ بلاتا ہے اور ہر ایک سے یہ سوال کرتا ہے کہ فلاں نے کیا  کیا اور فلاں نے کیا کیا۔  کوئی جواب دیتا ہے کہ میں نے ایک جوڑے میں نفاق کا بیج بویا اور ان میں طلاق کروادی، کوئی کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو طیش دلوا کر اس کے ہاتھوں اسی کے دوست کا خون کروا دیا۔   اسی طرح جب سب نے اپنی اپنی رپورٹ دے دی تو شیطانوں کے سردار نے غصے سے میز پھر ہاتھ مار کر سب کو خبردار کیا کہ تم سب نالائق ہو۔ کسی کام کے نہیں۔   تم سب کو چاہیے کہ فلاں طوطا چشم کی حرکات پر نظر رکھو اور سیکھو کہ وہ اپنے شکار پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے۔  کیونکہ میں بھی جہاں پھنس جاؤں میں اسی طوطا چشم کی  کاپی کرتا ہوں۔ 

طوطا  چشم خواہ بدصورت ہی کیوں نہ ہوں، اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر قسم کا بھیس بدل لیتے ہیں اور وہ روپ دھار لیتے ہیں جو شکار کو چوکنا نہ کرے۔

طوطا چشم جب تک اپنا مقصد پورا نہ کرلیں، بہت دھیما لہجہ اپنائے رکھتے ہیں اور جیسے ہی مقصد پورا ہوجائے؛  نا  تو  اپنے شکار کو خاطر میں لاتے ہیں اور نا ہی اس شخص کو اہمیت دیتے ہیں جس کے ذریعے اپنے ہدف کا شکار کیا ہو۔

طوطا چشمی  کا وصف عارضی نہیں ہوتا بلکہ یہ قبر تک انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ ایسے لوگ کبھی اطمینان قلب کی نعمت سے  بہرہ مند نہیں ہوتے بلکہ  حزن اور خوف ہمیشہ ان کا احاطہ کئے رکھتا ہے۔ 

اللہ تعالی ایسے بد فطرت لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے اور ان کے سایے  سے دور  رکھے۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت