تعلیم و تربیت


لغت کے اعتبار سے تعلیم کا مادہ ’’علم‘‘ (ع ل م) ہے۔ اس کے معنی ہیں  کسی چیز کا ادراک حاصل کرنا۔  تعلیم کے معنی بار بار اور کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں، حتیٰ  کہ طالب علم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے۔

تعلیم افراد اور فطرت سے متعلق بنیادی طور پر عقلی،  جذباتی اور روحانی   رویوں کے تشکیل پانے کا عمل ہے۔اور یہ ایسی دولت ہے جو  تقسیم کرنےسے کم نہیں ،  بلکہ  بڑھ  جاتی  ہے۔ 

تعلیم وہ مسلسل عمل  ہے، جس کے ذریعے ایک طرف نئی نسلوں کی اخلاقی، ذہنی اور جسمانی نشوونما ہوتی ہے، اور دوسری طرف وہ اپنے عقائد و تصورات اور تہذیب  و  ثقافت  کی اقدار بھی اس سے اخذ کی جاتی ہیں۔

افراد اور اقوام  کی زندگی میں تعلیم و تربیت  کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔  افراد کی زندگی  کی عمارت تعلیم کی بنیاد  پر تعمیر ہوتی ہے۔ جبکہ اقوام اپنے تعلیمی فلسفہ کے ذریعے  اپنے نصب العین، مقاصد حیات، تہذیب و تمدن، اخلاقیات ، معاشیات،  اور معاشرت   کو اجاگر کرتے ہیں۔ 

ہر انسان، خواہ غریب ہو یا  امیر، مرد ہو یا عورت، تعلیم سب کی بنیادی ضرورت ہے۔ تعلیم انسان کا حق ہے جسے کوئی   چھین نہیں سکتا۔   تعلیم  کے ذریعے فرد اور قوم   آگہی   حاصل کرتے  ہیں۔    تعلیم  انسان کے احساس و شعور کو بیدار کرنے اور  نکھارنے کا ذریعہ ہے۔ انسان اور حیوان میں فرق  تعلیم  طے کرتی ہے۔  تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کے لئے ترقی کی ضامن ہے۔  اور یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔

 تعلیم  کا مقصد فقط ڈگری حاصل کرنا   نہیں بلکہ اس کے ساتھ  اخلاقیات،  تہذیب  اور انسانیت سیکھنا بھی شامل ہے۔  تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوارتی ہے۔    تعلیم   ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کا مقصد ایسے تہذیب یافتہ  لوگ تیار  کرنا  ہیں جو ذمے داری سے   اہم فرائض انجام دینے کے اہل ہوں۔ 

انسان کو اشرف المخلوقات اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس  معاملات زندگی کی مشکلات سے نبٹنے اور ان کے حل کے لئے تعلیمی  صلاحیت   ہے۔ ہر مذہب میں تعلیم کے حصول کے لئے کہا گیا ہے مگر دین اسلام میں تعلیم کا حصول فرض  کیا گیا ہے۔  آج   تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر  درس گاہوں  میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ، ذراعت،  کاروباری معاملات  کی تنظیم،  وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضا   ہیں۔ 

جدید علوم کی تعلیم  بہت  ضروری ہیں لیکن  انسان کی تربیت کے لئے  انسانیت سے دوستی، اخلاقی تعلیم، خدا پرستی، عبادت، محبت، خلوص، ایثار، خدمت خلق، وفاداری ، پڑوسیوں کے حقوق اور ہمدردی کے جذبات بیدار کئے جائیں تاکہ نیک اور صالح معاشرہ تشکیل ہوسکے۔

ابتداء میں بچوں کی تعلیم سے پہلے ان کی تربیت ضروری ہے ۔ کیونکہ انسان کی جیسے تربیت ہوگی بڑا ہونے پر وہ ویسے  ہی  رویہ اختیار کرے گا۔

تربیت کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کو گھر کے بڑے اور بزرگ محبت اور پیار سے ایسی کہانیاں اور مضامین پڑھائیں جس میں اخلاقیات، ادب و احترام، دینی تعلیم  و عبادات  اور انسانی فلاح و بہبود کے علاوہ قرآنی سورتیں یاد کروائی جائیں  تاکہ  آئندہ کی زندگی میں اس کے کام آسکیں۔  یہی وہ عمر ہوتی ہے جب انسان کا ذہن بالکل کورے کاغذ کی طرح ہوتاہے ۔ اسے جس جانب موڑنا چاہیں آپ اس کی سمت متعین کرسکتے ہیں۔

بچپن میں انسان جو سیکھتا ہے اس کے اثرات  تمام عمر انسان کے ذہن پر نقش ہوجاتے ہیں۔ بچپن میں انسانی اخلاقیات ،  مذہبی تعلیم  ، ملک و قوم سےمحبت اور جاں نثاری   اور اچھا انسان بننے کی خواہش کو بچوں  میں  اس طرح اجاگر کریں کہ بچے تعلیم سے از خود دلچسپی رکھیں۔  اچھائیوں کو اپنائیں  اور برائیوں سے اجتناب کرسکیں۔     اگر بچپن میں ایمانداری، سچائی، حق گوئی، جھوٹ  سے اجتناب ، چوری سے نفرت ، جذبہ ہمدردی  کو فروغ دینا، لوگوں کا خیال رکھنا ، گھر محلے اور شہر کی صفائی کا خیال رکھنا،اور محنت کا شوق پیدا کیا جائے تو ایک بہترین انسانی معاشرہ تشکیل پاسکتاہے۔ 

تعلیم کا اولین مقصد انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی نشوونما کرنا ہے۔ اس کے حصول کے لئے قابل اور مخلص اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں۔ جو طلبہ و طالبات کو اعلی تعلیم کے حصول میں مدد  فراہم کرتے ہیں اور ان کی راہنمائی کرتے ہیں۔استاد وہ نہیں جو محض چند کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسیں لے کر اپنے فرائض سے آذاد ہوجائے۔  بلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ و طالبات کی مخفی صلاحیتوں کو  اجاگر کرتاہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت  سے مالا مال کرتاہے۔

وہ اساتذہ جنھوں نے اپنی ذمہ داری خلوص اور محنت سے سرانجام دی،  ان کے طلبہ و طالبات  عمر بھر ان  کے احسان مند رہتے  ہیں۔  

آج علم حاصل کرنا، محض نمبر لیکر پاس ہونا ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے۔  یہ ایسی دوڑ ہے جس میں انسان کی ذاتی  صلاحیتوں  اور خاصیتوں کو   پرکھا  نہیں جاتا  بلکہ کاغذ کی ڈگری کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ 

علم وہ دولت ہے جو انسان کی سوچوں کو بیدار کرتی ہے،  انسان کو آگہی دیتی ہے، انسان کے شعور کو اجاگر کرتی ہے اور انسان کو اپنے اور معاشرے کا معیار زندگی بلند کرنے کے بارے میں  فکر انگیز خیالات کے حصول کے لئے   راہیں ہموار کرتی ہے تاکہ انسان اعلی اور  ارفع مقام حاصل کرسکے۔

کسی ملک و قوم کی ترقی میں اس کے صاحبان اختیار  کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔  ایک جاہل معاشرے کے صاحبان اختیار لوگ اپنے علاقوں میں اسکول نہیں بننے دیتے اور اگر چند ایک اسکول  ہوں  تو ان پہ قبضہ کرکے وہاں اپنا ڈیرہ جما لیتے ہیں یا جانوروں کو باندھ دیتے ہیں۔  جبکہ   اس کے مقابلے میں مہذب دنیا کے صاحبان اختیار  اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرتے ہیں اور ذیادہ سے ذیادہ توجہ تعلیم کے حصول پر دیتے ہیں۔  کیونکہ متمدن اور مہذب معاشرہ کے لوگ  علم کی اہمیت سے واقف ہیں۔ 

انسانی فطرت سے مطابقت کی بنا پر اسلام نے علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کے ہے۔ اس کے ابتدائی آثار ہمیں غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کی  رقم مقرر کرنے پر ہوئی۔ جو نادار تھے انھیں بلامعاوضہ چھوڑ دیا گیا اور جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس بچوں کو پڑھنا لکھنا  سکھا دیں تو انھیں آذاد کردیا جائے گا۔ 

معاشرے کے تعلیم یافتہ لوگوں کو  عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔  اسی طرح ایسے ہنر مند جو اپنے کام میں ملکہ حاصل کرلیں ، ان کا چرچا  زبان زد عام ہوتا ہے۔ 

ایک قدیم چینی کہاوت  ہے کہ،  تمھارا منصوبہ اگر سال بھر کے لیے ہے تو فصل کاشت کرو،  دس سال کے لیے ہے تو درخت اگاؤ،  دائمی ہے تو تربیت یافتہ افراد پیدا کرو، کیونکہ تعلیم ہی وہ عمل ہے جس سے افراد کی تعمیر ممکن ہے۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت