تسلیم


اس کے معنی ہیں  آداب، اطاعت، اعتراف، اقبال، اقرار، بندگی، تابعداری، سونپنا،  فرماں برداری، منظور، قبول کرنا، سلام کرنا، سپرد کرنا، محفوظ ہونا، راضی برضائے الہی ہونا، کسی چیز کے ملنے پر شکریہ ادا کرنے کے وقت کہتے ہیں۔

لفظ تسلیم کا  مادہ ہے س ل م ، اور یہ تینوں حروف  ہمیشہ سلامتی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔  بغیر لڑائی جھگڑا کے کوئی معاملہ طے کرنا۔ خون بہائے بغیر کسی جنگ کا خاتمہ۔ ازلی دشمنی کو ایک معاہدے کے ذریعے ختم کرنا۔

تسلیم کرنے کا موقع اس وقت آتا ہے ، جب آپ کے پاس قانونی طور پر اور اخلاقی طور پر کسی شے کو اپنے قبضے میں رکھنے یا اپنا قبضہ جمائے رکھنے کا کوئی جواز باقی  نہ رہے اور آپ کے پاس کوئی چارہ نہ ہو،  کیونکہ معاشرے کے سبھی لوگ یک زبان ہوکر اپنے حق کے لئے آپ کے سامنے آکھڑے ہوں۔

مثال کے طور پر جب قائد اعظم نے پاکستان کے حصول کے لئے دو قومی نظریہ پیش کیا تو برطانوی سامراج کے پاس اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس لئے برطانوی حکومت نے پاکستان کو علیحدہ ریاست  بنانا تسلیم کر لیا۔

جب کہ تسلیم ہونے کا مطلب ہے کہ جب آپ کے مدمقابل کوئی بہت بڑی قوت یا طاقت  یا گروہ ہو۔ اور آپ کسی طرح بھی اس طاقت کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں۔ تو اس صورت میں اپنے کنبے، اپنے ملک و قوم کی بقاء کی خاطر طاقت ور عناصر کے سامنے تسلیم ہونا پڑتا ہے۔  اس عمل کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ خون خرابے اور بڑی تباہی سے  اپنے آپ  کو محفوظ کرلیتے ہیں۔  اگرچہ تسلیم ہونے سے خفت او ر خجلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر آپ  مکمل تباہی سے خود کو بچا لیتے ہیں۔

تسلیم ہونا، عقلی اور منطقی اعتبار سے ایک  دانشمندانہ فیصلہ ہوتا ہے اور اس طرح کے فیصلوں کی وجہ سے ہمیں  بہت سے نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ مگر ان نقصانات کا ازالہ ممکن ہوتا ہے لیکن تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سنگین حالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور عین ممکن ہے ہماری ہستی اور وجود بھی  خطرے میں پڑ جائے۔

آپ نے ٹی وی پہ بارہا دیکھا ہوگا کہ جنگل کا شیر، جس کا کوئی  ثانی نہیں۔  اور شیر جب کہیں پھنس جاتا ہے تو فوراً  وہاں سے بھاگ جاتا ہے کیونکہ اس کی عافیت بھاگنے میں ہی مضمر ہے۔

اس لئے جب زندگی میں آپ کا مقابلہ کسی ایسی شخصیت یا گروہ سے ہو تو  فوری فیصلہ کیجئے تاکہ آپ  کسی بڑی مشکل میں نہ پھنس جائیں۔  اگر ایک لفظ معذرت سے آپ کی جان چُھٹ جاتی ہے تو ایسے موقع پہ  انا  کا  مسئلہ نہ بنائیں بلکہ مشکل کو ٹالنے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور کی دولت سے اسی لئے نواز ا ہے کہ ہم گڑھے میں نہ گریں ۔ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی سلامتی کے لئے بہتر فیصلے آپ کی زندگی اور دوام کی ضمانت ہیں۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت