ضمیر


اس کے معنی ہیں  دل، قلب،  باطن، من،  جی،  اندرون دل،  اندرونہ،  اندیشہ دل، جو دل میں گزرے،  خواہش دل کے معانی میں استعمال ہوتاہے،  راز،  بھید،  مخفی ، پوشیدہ،  نہاں کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

اصطلاحی طور پر ضمیر  کے معنی ہیں صحیح اور غلط میں تمیز کی اخلاقی حِسّ، نیک و بد کی پہچان،  اچھے  برے میں فرق کرنے کی صلاحیت، حق و باطل کی شناخت کرنے کی استعداد، قوت مُمّیزہ کے اصطلاحی معنی میں استعمال ہوتاہے جیسے کہا جاتا ہے ادیب معاشرہ کا ضمیر ہوتا ہے۔

ضمیر حق ہے:

آج کے دور میں ضمیر کی بات نہیں کی جاتی کیونکہ ہم خود اس کی زد میں آجاتے ہیں۔  تاہم ایسی بات ضرور کرنی چاہیے جس سے ضمیر پر دباؤ پڑے اور ضمیر چیخ اٹھے ورنہ یہ انصاف اور ظلم کے خلاف علمبردار سپاہی  بالکل ہی بے حس ہوجائے گا اور کہیں مر ہی نہ جائے۔

ضمیر کا لفظ کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے  اور ہر خاص و عام میں نہایت مقبولیت کا حامل ہے۔ مگر یہ وہ واحد لفظ ہے  جس کا ترجمہ یا صلاحیت کسی کو معلوم ہی نہیں اور اگر ہے تو وہ لوگ اپنی عافیت اور عزت  اسی میں سمجھتے ہیں کہ اس لفظ  کو فراموش کردیا جائے اور اس کی شناخت و پرداخت اور یاد داشت سے یکسر انکار ہی کردیا جائے تاکہ یہ انسان کو اس کی انسانیت کا درس دیکر اسے انسان  نہ بنادے۔ 

ہمارے بہت سے قریبی ساتھی ضمیر کی آواز کو دبا دیتے ہیں  اور اس پر بات کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ اگر ضمیر کا  چرچا ہونے لگے تو پھر کیسے لوگوں کے حق پر ہاتھ صاف کیا جاسکتا ہے؟ ضمیر وہ جج ہے جو ہمیں صحیح راہ دکھانے کے ساتھ ساتھ  اس پہ چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔  مختصر الفاظ میں ضمیر  محض ایک لفظ ہی نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے ہونے کا جواز بھی ہے۔

ضمیر اخلاقی اقدار کا چوکیدار:

ضمیر ہماری انسانیت کی بنیا د ہے ۔   یہ ہماری ابتداء ہے اور ہماری موت سے ضمیر بھی  خیر باد کہہ کر چلا جاتاہے۔  یاد رکھئے برائی اور شیطانی  طاقتوں کے خلاف اگر کسی قوت نے علم بلند کررکھا ہے وہ ضمیر ہے۔   جو شخص اپنی زندگی میں اپنے ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہوگیا اور اس پر اسرار قوت   کے سامنے باوقار طریقے سے کھڑا ہوگیا،  وہی جیت گیا ۔

اس لئے خود سے خود مت  ہاریئے، ٹھوکر مت کھائیے،  جب تک یہ طاقت آپ میں موجود ہے، آپ ناقابل شکست ہیں۔ ضمیر کی کڑی تنقید کا نہ ہونا، آپ کی اخلاقی تنزلی ہے اور دونوں جہانوں میں آپ کے لئے شرمندگی کا باعث بھی ہے۔

آخرت میں ناکامی سے بچنے کے لئے اپنے ضمیر کو زندہ رکھیئے،  اسے کمزور نہ ہونے دیں۔   اس کے جینے کی خاطر بیشک خود مر جایئے  کیونکہ یہی آپ کی اپنے ساتھ اور کائنات اور ربِ کائنات کے ساتھ ایمانداری ہے اس کی آواز پر کان کھلے رکھیں، اس کی ہمیشہ سنتے رہیں کیونکہ آپ کے اندر کی یہ نور بھری طاقت جھوٹی،  دوغلی یا منافق نہیں ہے۔ 

ضمیر کی پکار:

زندہ ضمیر والے لوگ کھرے لوگ ہوتے ہیں۔ اور جب ایسے لوگ کوئی اخلاق سوز واقعہ دیکھتے ہیں ،  اخلاقی اقدار کا قتل ہوتادیکھتے ہیں تو  ان کا ضمیر ایک دم پھڑک اٹھتا ہے اور وہ ظلم کے خلاف آواز حق بلند کرنے کے لئے بے چین ہوجاتا ہے اور یہاں تک  کہ وہ ظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے چہ جائیکہ ظالم کتناہی طاقتور کیوں نہ ہو۔

ضمیر کی خوشبو:

کسی بھی شخص اور معاشرے کی بقاء میں ضمیر بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی چبھن کی وجہ ہی سے آپ میں جان ہے۔  اور اس ہی کی وجہ سے آپ کی زندگی گل و گلزار ہے،  جو سارے جگ کو معطر کردیتی ہے۔   

اس خوشبو کی حفاظت کیجئے،  اس کو اپنے اندر ڈھانک کر رکھئے،  اس کی عزت کیجئے۔  اس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچنے دیں،  یہ پوری زندگی آپ کو پھول کی طرح تر و تازہ رکھے گی۔  یہ آپ کے اور آپ کے پیدا کرنے والے کے بیچ ربط کا سب سے بڑا واسطہ اور راستہ ہے اس کے راستے پر سیدھے قدموں سے چلتے جائیے پوری دنیا سیدھے راستے پر رواں دواں ہوجائے گی۔

یاد رکھئے ضمیر ایک لفظ نہیں ہے بلکہ یہ کائنات کو جنت نظیر بنانے میں ضامن کا کردار ادا کرتا ہے۔  جو آپ کی  برائی کو روکنے اور اچھائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اپنے ضمیر کی تعظیم و تکریم کیجئے۔ 

ضمیر کی اہمیت:

جب ضمیر ملامت کرنا چھوڑ دے تو سمجھ لو،  اب انسانیت ختم ہوگئی۔
شطرنج میں وزیر اور زندگی میں ضمیر اگر مر جائے تو کھیل ختم ہی سمجھیں۔
ضمیر انسان کے اندر دھیمی لیکن خدا کی واضع آواز ہے۔
ضمیر سڑک پر لگے اس معلوماتی سائن بورڈ کی طرح ہے جو راستہ اور صحیح سمت تو بتاتا ہے مگر اس پر چلنے کے لئے مجبور نہیں کرتا۔
ضمیر کی عدالت میں جاتے رہا کیجئے وہاں فیصلے سچے ہوتے ہیں۔
ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے۔

ضمیر کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری اقدامات:

اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہیے۔  جہاں آپ کو محسوس ہوکہ ایمان گراوٹ کا شکار ہے۔ اپنے رب کی طرف رجوع کیجئے۔ نمازوں میں باقاعدگی پیدا کیجئے۔ لوگوں کے دلوں میں جھانکیں اور ان کا درد محسوس کریں۔ غریبوں کو صدقہ خیرات کریں تاکہ آپ کے اندر احساس کی رمق بیدا ر ہو۔

راستے میں کوئی خطرناک چیز دیکھیں تو فوری راستہ صاف کردیں،  بیشتر اس کے کہ کوئی حادثہ رونما ہو اور کوئی تکلیف میں مبتلا ہوجائے۔  راستے میں شیشے اور کانچ کی بوتلوں کو کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیں۔  اگر کوئی گڑھا ہے تو اس کے قریب جھاڑیاں لگا کر لوگوں کو خبردار کردیں۔ کوئی گٹر کھلا رہ گیا ہوتو اسے بند کردیں۔  

مسافر کی دلجوئی کیجئے،  اسے کھانا کھلا دیں یا محض ایک ٹھنڈی بوتل یا چائے لیکر دے دیں۔  سڑک کنارے کھڑے فقیروں کو مسکرا کر ان کا حال پوچھیں اور دس روپے یا اپنی حیثیت کے مطابق مالی مدد کیجئے۔  آپ کی مسکراہٹ اس کے چھپے ہوئے بے شمار غموں پر مرہم کا کام کرے گی۔

دو افراد میں معمولی جھگڑا کو رفع دفع کرنے کے لئے کبھی بھی نہ ہچکچائیں۔ فوری مداخلت کرکے، شیریں گفتگو کا سہارا لیکر دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیں تاکہ جھگڑا آگے نہ بڑھے۔

اپنے چہرے پہ مسکراہٹ سجا کررکھئیے کیونکہ یہ وہ میٹھی گولی ہے جو ہر ایک کے دل کو توانا کردیتی ہے۔

اپنے لئے پھل خریدتے ہوئے تھوڑے سے کیلے ، امردو یا دیگر کوئی سا پھل علیحدہ سے ایک تھیلیاں میں خرید کررکھ لیں۔  اور گھر پہنچتے ہوئے گھر کے بزرگ کو دیں کہ آپ کے لئے لایا ہوں کہ آپ کو پسند ہے۔  اسی طرح  کسی  بچے یا بڑے پڑوسی کو تحفتاً  پیش کردیں کہ یہ آپ کے لئے ہے۔  پھر دیکھئے اس کرشمہ کا کمال۔ ناصرف آپ کا پڑوسی خوش ہوجائے گا بلکہ آپ کا دل بھی بلیوں اچھلنے لگے گا۔

اپنے عزیز و اقارب کی تیمار داری کے لئے اسپتال جائیں تو کچھ پھل وغیرہ ضرور لے جائیں۔ اور علیحدہ سے چند ایک دانے ایک تھیلیاں میں رکھ لیں تاکہ اپنے مریض کے قرب و جوار میں موجود کسی اجنبی مریض کو دے سکیں۔

گھر اور محلے کے بزرگوں سے شفقت سے پیش آئیں۔  انھیں گاہے بگاہے کچھ نہ کچھ خرید کر کے دیتے رہیں اور خوشی کے موقع پہ انھیں مناسب جیب خرچ  دینا نہ بھولیں۔  کیونکہ اس اسٹیج پر جبکہ وہ کمانے کے قابل نہیں رہے مگر ان کے ذاتی اخراجات میں ان کے مددگار بن جائے، آپ ہر دم خوش رہیں گے۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت