تیمار داری


اس کے معنی ہیں بیمار کی خدمت، غم خواری، چارہ گری،  خدمتِ مریض، علاج معالجہ،  مریض کی دیکھ بھال، مزاج  پُرسی  اور ہمدردی۔

زندگی اور صحت اللہ تعالی کی بڑی نعمتوں میں سے ہے۔  ہمیں جہاں زندگی کی قدر کرنا چاہیے وہیں اپنی صحت کے لئے بھی فکر مند ہونا چاہیے اور اس کی حفاظت اور احتیاط کے لئے ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔

کوئی انسان جب بیمار پڑ جائے تو بہت حسّاس ہوجاتا ہے۔   اس کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں۔ جسمانی طور پر نڈھال ہوجاتا ہے۔  اس کی قوت جواب دے جاتی ہے۔ کمزوری حاوی ہوجاتی ہے۔کھانے پینے کو جی نہیں چاہتا۔  بستر پر لیٹ لیٹ کر کمر تھک جاتی ہے اور باہر گھومنے پھرنے اور گپ شپ کرنے کو جی چاہتا ہے۔

مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق: 

مندرجہ  ذیل   دینی احکامات اور اخلاقی اصول انتہائی     بابرکت،  پُر اثر  اور نتیجہ خیز  اوامر پر مبنی ہیں ، جن   پہ عمل کرکے معاشرہ  صالح اور طیب بن جاتا ہے۔   دلوں میں محبت  کا  دریائے بے کراں بہنے لگتاہے۔ کدورت بھرے سینے اور عداوت سے لبریز  ہوجاتے ہیں۔  قلوب  بُغض و عناد بھول کر ایک دوسرے کی بھلائی  اور بہتری کے لئے دھڑکنا شروع کردیتے ہیں اور دل کے چمن میں چاہت اور پیار کے خوشبُودار پھول کِھل اُٹھتے ہیں:۔ 

جب ملاقات کرو تو ایک دوسرے کو سلام کہو۔
جب مسلمان دعوت پر بلائے تو اسے قبول کرو۔
جب  کوئی آپ سے نصیحت طلب کرے تو اسے اچھی نصیحت کرو۔
جب چھینک مارے اور ’’الحمدللہ‘‘ کہے تو اس کا جواب دو۔ یعنی اسے ’’یرحمک اللہ‘‘ کہو ۔
جب بیمار ہو جائے تو اس کی تیمار داری کرو اور
جب فوت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرو۔

بیماری کا عذاب:

بیمار انسان اللہ تعالی کے بہت قریب ہوتا ہے اور ہر لمحہ اپنی صحت یابی کے لئے دعائیں کرتا ہے۔  اپنے ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق دوا لیتا ہے اور دیگر پرہیز بھی کرتا ہے تاکہ وہ نارمل زندگی میں واپس آسکے۔

 کچھ بیمار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پاؤں پہ خود سے نہیں چل سکتے اور کچھ ایسے مریض ہوتے ہیں جو رفع حاجت کے لئے بھی دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ 

انسان چونکہ  بہت غیرت مند ہے اور جب اس کی ایسی حالت ہوجائے تو کتنا مجبور اور کمزور ہوجاتا ہے۔  اس کا اندازہ ہم اپنی صحت مند زندگی میں بالکل بھی نہیں کرسکتے۔ کچھ مریض ایسے  بھی  ہوتے ہیں جو کئی کئی ماہ سے اسپتال میں داخل ہوتے ہیں اور ان کی بیماری اور اس کی طوالت کے باعث ان کے گھر والے ہر روز ان کی عیادت اور خیر و عافیت پوچھنے نہیں آسکتے۔ جو کسی مسیحا کے منتظر ہوتے ہیں جو اُن کا حال اَحوال پوچھے۔

تیمار داری:

مریض  کی  تیمار داری کرنا ہمارا دینی ، اخلاقی اور معاشرتی  فریضہ ہے۔ بیمار کی تیمار داری کرتے ہوئے دوست، دشمن، غیر مذہب وغیرہ کی تخصیص نہیں کرنا چاہیے۔   

کسی بھی مریض کی عیادت صرف اور صرف خدا تعالی کی خوشنُودی  اور محبت کی خاطر کرنا چاہیے۔ اور عیادت بار بار کرنا چاہیے تاکہ  ہم ایک طرف اپنے اعمال صالحہ میں گراں قدر اضافہ کرسکیں اور دوسری طرف اِنسانیت کی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھا سکیں اور ایک مریض کی تکلیف کی شِدّت کو اپنی ہمدردی اور شیریں گفتگو سے کم کرسکیں۔

بیمار کی عیادت کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ  مریض کے ساتھ  باہمی طور پر ہمدردی و انسانیت کے جذبات کا اظہار ہو۔اس طرح کی ملاقات بیمار کی صحت یابی کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ 

 مریض کی عیادت کے آداب:

 اس ضمن میں چند رہنما اشارے دیے جارہے ہیں تاکہ عیادت فائدہ مند ہوجائے:۔

مریض کے پاس جائیں تو سب سے پہلے السلام علیکم کہیں اور حال احوال پوچھیں۔  اپنے دل میں مریض کے لیے نیک جذبات رکھیں اور چہرے پر ایسے تاثرات لائیں جن سے باہمی اعتماد کی فضا پیدا ہو تاکہ مریض کھل کے بات کرسکے اور اپنا دل ہلکا کرسکے۔  

اگر اپنے ساتھ  حسبِ استطاعت کچھ تازہ پھل لے جاسکیں تو بہت بہتر ہے۔

بیمار سے ملاقات کے وقت اسے صحت یابی کی اُمید دلائیں اور چہرے پرایسے تاثرات پیدانہ ہونے دیں کہ آپ بے انتہا فکر مندلگیں۔  آپ کی ظاہری حالت دیکھ کر مریض کچھ سے کچھ سمجھ سکتا ہے۔ بہتر ہے اپنے چہرے پہ مسکراہٹ رکھیں  تاکہ مریض کے ذہن پہ اچھا  اثر پڑے اور مریض سے ا س کی بیماری میں بہتری کے لئے دعا کریں اور اسے تسلی دیں کہ انشاءاللہ آپ جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔

مریض کے ساتھ مایوس کن، پریشان کن اور تکلیف دینے والی گفتگو نہ کریں۔ بیمارکے بستر سے  ذرا ہٹ کے  بیٹھیں۔ یہ خیال رہے کہ پلنگ کو ٹھوکر نہ لگے کہ ذرا سا بھی ہلناجلنا بیمار کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

کمرے میں ایسی نشست  پر تشریف  رکھیں جو مریض کی کے سامنے ہو تاکہ مریض کو آپ سے گفتگو کے دوران خود کو جھکانا یا موڑنا نہ پڑے۔  اور کوشش کریں  کہ آپ کی نشست کا زاویہ ایسا نہ ہو کہ کمرے کی روشنی یا دھوپ مریض کے چہرے پہ براہ راست پڑ رہی ہو۔ 

بیمار پر شور وغل اور کریہہ منظر کاشدید احساس  و اثر ہوتا ہے۔ مریض کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنے   اور قہقہہ لگانے سے پرہیز کریں۔ 

بیمار  سے بات چیت کے دوران خوش کن باتیں کریں  اور  پریشان کن باتوں سے اجتناب کریں۔ کسی کے مرنے کی خبر ہر گز نہ دیں اور نہ کسی کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع دیں۔ مریض کو مالی اورمعاشی مشکلات کی اطلاع بھی نہ پہنچائیں۔

بیمار کو   ہر گزکوئی  مشورہ دینے کی کوشش  نہ کیجئے    کہ اس کاعلاج کس طرح ہونا چاہیے اور نہ کوئی ٹوٹکہ بتائیں کہ فلاں مریض ایسے ٹھیک ہوگیا تھا۔   بیمار کے  ڈاکٹر  اور سہولتوں کے بارے میں کوئی منفی بات نہ کریں۔ 

آپ کی موجودگی کے دوران ڈاکٹر جب بھی کمرے میں داخل ہو تو اخلاق کاتقاضا ہے کہ آپ کمرے سے باہر آجائیں۔

بیمار سے ملاقات کاوقت دس منٹ سے زیادہ نہ رکھیں۔ بہرحال تھوڑی دیر کی ملاقات بحالی صحت کاباعث ہو سکتی ہے۔ 

اگر کسی وقت آپ بیمار کے پاس جائیں اور وہاں دوسرے ملاقاتی ہوں تو انتظارکرلیں یاآپ واپس آجائیں۔ پھرکسی دوسرے وقت جائیں تاکہ بیمار پر بوجھ نہ پڑے۔ 
بیمار کے عزیز و اقارب کو ملاقات سے زیادہ اس بات کااہتمام کرناچاہیے کہ مریض کے اہلِ خانہ کو اگر کسی تعاون کی ضرورت ہے تو وہ بہم پہنچایا جائے۔ مثلاً بیمار کے بچوں کو اسکول چھوڑنا اور گھر کاسودا سلف لانا وغیرہ۔

مریض کی دلجوئی میں کنجوسی سے کام نہ لیں۔ اگر مالی طور پر آپ مریض کی مدد نہیں کرسکتے تو پھر مریض  کی بحالی صحت کے لئے   دعا کیجئے ۔

بیمار سے رخصت کے وقت جذباتی نہیں ہوناچاہیے۔ بلکہ مریض سے اپنے لئے یہ کہہ کر دعا کروائیں کہ اللہ تعالی مریض کی دعاء جلدی سنتا ہے۔

مریض کے لئے دعا:

مریض کے سرہانے بیٹھ کر سات مرتبہ یہ دعا ضرور پڑھیے:


​میں   اللہ عظیم ، عرش بریں کے رب سے سوال کرتا ہوں کہ تمہیں شفاء دے



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت