اِفترا پَردازی


اس کے معنی ہیں  الزام دینا،  بہتان تراشی، بہتان لگانا، تہمت تراشی، تہمت رکھنا، شرارت کرنا اور فساد پیدا کرنا، شرانگیزی، فتنہ پروری، دروغ گوئی، جھوٹ، کھوٹ، ناحق، لغو، باطل، بے حقیقت، ناراست،  الزام، رسوائی،  ہتک آمیزی،  غلط بیانی وغیرہ۔

جب بھی کوئی داعئ حق اپنی آواز بلند کرتا ہے،  قرب و جوار میں موجود باطل کے پرستار اور ظلم و استبداد کو  پروان چڑھانے والے یک زبان ہوکر اس کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔  یاد رکھیئے حق و باطل کے معرکہ میں کوئی کسی کا بھائی ، کسی کا بیٹا ، کسی کی بیٹی ، کسی کی بہن اور کسی کا چچا    وغیرہ نہیں ہوتا۔   بلکہ ایک طرف شیطان کے پیروکار اور دوسری طرف حق اور سچ کے علمبردار ہوتے ہیں۔

اِفترا پرداز لوگ اپنے ایمان کی کمزوری، دنیا کی ہوس، مال کی محبت اور اپنی موجودہ  خوشحالی و کامرانی  کی حالت میں ایسے گرفتہ ہوتے ہیں کہ  اُنھیں خدا کی قدرت ،  ربِ کائنات کی کِبریائی اور روزِ محشرمیں  پیشی کا کوئی ڈر ہوتا ہے اور نا ہی قبر کی سنگینیوں کا کوئی خوف ہوتا ہے۔

افترا پرداز لوگ خواہ کتنی نمازیں ادا کرلیں، حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرلیں، روزے میں بھوکے رہ لیں، مسجدوں میں اذانیں دے لیں اور اپنی ظاہری شکل و صورت بھی مسلمانوں جیسی بنالیں، لیکن ان کے دلوں پہ مہر ثبت ہونے کی وجہ سے وہ حق اور باطل کے فرق کو اپنے فائدے کے لئے قربان کرنے میں ذرا  برابر بھی دیر نہیں کرتے۔ 

افترا پرداز لوگ اگرچہ بظاہر اچھے حال میں ہوتے ہیں۔  اور دیکھنے میں چنگے بھلے لگتے ہیں۔ لیکن ان کے اندر کدورتیں تہہ در تہہ جمی ہوئی ہوتی ہیں،  اُن کا نفسِ امّارہ انھیں ہر وقت  سازشوں کو بنُنے، فساد ڈالنے کی ترکیبیں اور شر انگیزیوں کے لئے اُکساتا رہتا ہے۔   ایسے لوگ برائی کی دلدل میں ایسے دھنس جاتے ہیں کہ انھیں  اچھے کردار والا شخص، اچھی باتیں کرنے والا، اچھی صلاح دینے والا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ بلکہ وہ ایسے شخص کو اپنی جوتی کی نوک پہ رکھتے ہیں اور کسی اچھائی یا اچھے کردار کو خاطر میں نہیں لاتے۔

قدرت بڑی بے نیاز ہے۔ اللہ تعالی کی شفقت، مہربانی اور رحم  ان کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ ان کے اپنے گھر کا  اجڑا ہوا چین،  اپنے خاندان کی عصمت دری اور بے میل رشتے ،   رشتوں میں بگاڑ اور تلخیاں جو اُن کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں، اب بھی توبہ کرلیں اور اپنا قبلہ و کعبہ درست کرلیں۔   لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ایسے لوگوں کے دلوں پر بے حیائی، بے قدری، بے توقیری اور بے اطمینانی کی مہر لگ چکی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسے  ناہنجار لوگ اپنی برائی کی روش پہ قائم رہتے ہیں اور ذرا بھی  تاسف نہیں ہوتا۔
 
وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ایک بار غلطی کرکے اپنی اصلاح نہ کرنے والا ناصرف نا شُکرا  ہوتا ہے بلکہ قانون قدرت کو پائمال کرنے والا مجرم ہوتا ہے۔ موت سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا  رہتا ہے اور جب موت کا فرشتہ آجائے تو پھر توبہ قبول نہیں ہوتی۔  خواہ وہ مجرم کسی بھی مرتبے کا شخص ہو۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتا ہے ایک دن خود اسی میں گر کر ہلاک ہوجاتا ہے۔   جو بندشیں اور رکاوٹیں ہم اپنے ناجائز مفادات  کے لئے کھڑی کررہے ہیں، وہی ہمارے لئے مصیبتوں کے پہاڑ بن کر کھڑی کردی جائیں  گی۔ اور ہم ناصرف دنیا میں رسوائی کا منہ دیکھیں گے بلکہ آخرت میں بھی منہ کے بل جہنم میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ اور دوزخ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

افترا پرداز لوگوں کی پہچان:

یہ لوگ  ہر وقت مال و رز کی محبت میں پاگل ہوئے رہتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے مال کو دوگنا،  چار گنا، آٹھ گناکرنے کی فکر میں غرق رہتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے گماشتے پال کررکھتے ہیں اور ان کی مالی مدد کرتے ہیں تاکہ  ان کے گماشتے انہیں مطلوبہ معلومات فراہم کرتے رہیں اور اپنی افترا پردازیوں کو دوام دے سکیں۔

یہ لوگ اخلاقیات کی تمام حدوں کو بے خوف و خطر پار کرجاتے ہیں اور ایسے ایسے جملے ادا کرجاتے ہیں کہ  انتہائی گرے ہوئے طبقے کے لوگ بھی شرم سے منہ چھپانا شروع کردیں۔

یہ لوگ ہر اس شخص کو برا بھلا کہنے سے نہیں کتراتے جو ان کے پول کھولنے کی استطاعت رکھتا ہو۔

یہ لوگ اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لئے جال تیار کرکے شکار کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

افترا پرداز لوگوں کے وار سے محفوظ رہنے کا طریقہ:

شیطان اور شیطانی صفت لوگ ہر دور میں بہتات میں رہے ہیں۔ ان سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی سے اپنے تعلق کو مضبوط رکھیئے۔

لڑائیاں اور فساد کروانے والوں  سے دور رہیے اور ان کی کذب بیانی پہ بالکل بھی یقین مت کیجئے۔

اپنی روش ہمیشہ صراط مستقیم پہ رکھیئے اور برے لوگوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیجئے اور اپنے مفادات کو ان کے مظالم سے محفوظ رکھیئے۔

اپنی دعاؤں میں  اللہ تعالی سے  فجر اور مغرب کی نماز کے بعد سات مرتبہ یہ دعاء ضرور پڑھیں:

 اے اللہ ہم تجھ کو دشمن کے مقابل کرتے ہیں یعنی تجھ سے اس بات کی درخواست کرتے ہیں کہ تو  ان کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ اور ان کے اور ہمارے درمیان حائل ہو اور ہم ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

افترا پردازوں کا انجام:

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس افترا پردازی    کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت