زندگی
زندگی کے معانی ہیں متاع جاں، حیات، زندگی، زیست، نفس، ہستی، وجود، جیون، عمر بھر۔
کائنات کی سب سے بڑی نعمت زندگی ہے۔ اس زندگی کی وجہ سے ہی اس دنیا میں رشتے بنتے ہیں، ماں کا رشتہ، باپ کا رشتہ، بہن بھائیوں کا رشتہ، بیوی اور بال بچوں کا رشتہ اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالی سے رشتہ۔
انسان کی پیدائش سے لیکر اس کی موت تک کے دورانیے کا نام زندگی ہے ۔ اس دوران اس کی زندگی میں مختلف واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ جن میں ہزاروں خوشیاں اور غم شامل ہیں۔ زندگی میں ہر انسان بے شمار ارادے اور فیصلے کرتا ہے، ان پر عمل کرتا ہے۔ اور بعض اوقات فیصلہ کرنے کے باوجود کئی کام کسی وجہ سے ادھورے چھوڑ دیتا ہے۔ انسان خطاؤں کا پتلا ہے، انسان دوسرے انسانوں کے درد کا احساس کرتا ہے۔ یہی انسان جب تجربے کی بھٹی میں سے گزر کر کندن ہوجاتا ہے تو سامنے والے شخص کی پریشانیوں کو لمحوں میں پرکھ لیتا ہے اور کبھی کبھی وہ دنیا و مافیہ سے بیگانہ رہ کر اپنی زندگی جینا چاہتا ہے۔
زندگی کے رنگ:
زندگی کے ہزاروں رنگ ہیں اور ہر رنگ سب سے الگ، سب سے حسین، سب سے انوکھا، سب سے منفرد ہے۔ اس جہان رنگ و بو میں آپ جدھر بھی دیکھیں، زندگی کا حسن پھیلا ہوا دکھائی دے گا۔ اگر آپ لاہور شہر میں باغ جناح چلے جائیں، ایسا لگتا ہے جیسے سبزے میں رنگے ہوئے حسین و جمیل میدان کا نام ہی زندگی ہے۔ اگر آپ کسی گلاب سے پوچھیں تو جواب ملے گا مسکراہٹ کا نام زندگی ہے۔ ننھے شگوفوں سے پوچھیں تو جواب ملے گا خوشبو بانٹنے کا نام زندگی ہے۔
کراچی کے سمندر کی موجوں سے پوچھیں تو کہنے لگیں گی کہ ساحل کی آغوش میں آجانا زندگی ہے، ساحلوں کی ہوائیں بولیں کہ اٹھکیلیوں کا نام زندگی ہے، گھٹاؤں کے دوش پر اڑتے بادلوں نے کہا پیاسی زمین اور تشنہ لب انسانوں کی پیاس بجھانے کے لئے ٹوٹ کر برسنا زندگی ہے۔
بارش کے بعدنمودار ہونے والی دھنک کے رنگوں سے مرسع قوس قزح نے کہا اپنے رنگین حسن کے سحر سے متاثر ہوکر چہروں پہ خوشیاں بکھیرنا زندگی ہے۔
چولستان کے ریگزاروں میں آسمان پر جھلملاتے ہوئے ستاروں نے کہا کہ اداس اور خاموش راتوں میں جگنو کی طرح روشنی بکھیر کے مسافروں کی راہنمائی کرنا زندگی ہے۔ جبکہ چودھویں کے چاند نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تاریک اور ویران راتوں پر چاندی کی طرح روشن چادر پھیلانا اور اندھیروں کے پردے چاک کرنا زندگی ہے۔
زندگی اسی کی ہے جو جدوجہد کرتا ہے
آسودہ حال گھرانوں کے چشم و چراغ ، اگر ابتدا سے تعلیم و تربیت سے جڑے رہیں اور انسانی اقدار کے علمبردار بنیں تو دنیا ان سے پیار کرتی ہے، اپنے مسائل ان سے حل کرواتے ہیں ، اپنی درخواستیں انھیں پیش کرتے ہیں۔ اور ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالی سے ان کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں۔
لاڈ پیار اور غفلت میں پروان چڑھنے والے کچھ امیر زادے بد مست ہاتھی کی طرح معاشرے میں دندناتے پھرتے ہیں۔ لوگ ان سے چھپتے پھرتے ہیں۔ لوگ ان سے اجتناب کرتے ہیں۔ لوگ ان کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ لوگ ان کے خوف و دبدبے سے سر نگوں رہتے ہیں اور اللہ تعالی سے ان کے حق میں دعائے بد کرتے ہیں کہ ان سے چھٹکارا دلا دے۔
غریب ماں باپ کی غریب اولاد اگر کسی ہنر یا تعلیم سے یکسر نابلد ہے تو وہ معاشرے کے لئے ناسور ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندہ رہنے کے لئے کسب معاش کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی اس قابل نہیں ہے تو وہ دو راستے اختیار کرتا ہے۔ ایک یہ کہ دوسروں سے چھین جھپٹ کر اپنا گزارہ کرے یا خود کو نشہ آور دواؤں کا عادی بناکر خود کو تباہی کے حوالے کردے۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی آنکھ غریب ترین گھرانے میں کھلتی ہے۔ مگر سب کی طرح ان کے اندر بھی اللہ تعالی نے سمجھ بوجھ دی ہوتی ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ وہ لوگ اچھائی کو اپناتے ہیں۔ اور ان کا اوڑھنا بچھونا خیر کے کام، خیر کے کلمات اور مسلسل جدوجہد ہوتا ہے۔ ایک طویل سفر کے بعد انھیں ایسی منزل و مقام ملتا ہے جسے دیکھ کر اور سن کر ہر طبقے کا انسان ان کی تعریف کرتا ہے، ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور انہی کے گن گاتا ہے۔
زندگی کسی ہنگامےسے کم نہیں:
پیدائش سے لیکر موت تک کا دورانیہ زندگی ہے، اس دوران ایک انسان اپنا بچپن گزارتا ہے۔ کوئی آسودہ گھرانے کا چشم و چراغ ہے تو وہ پر آسائش زندگی گزارتا ہے اور اگر کوئی نہایت خستہ حال ہے تو اسے پر آشوب زندگی سے گزرنا پڑتا ہے۔
جوانی میں ہر ایک انسان اپنے تئیں شہزادہ ہوتا ہے۔ اس کے جذبات، اس کی سوچ، اس کے خواب اسے دنیا کا سب سے بہتر انسان مانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا اسے ہی سچ مانتی ہے جو اہلیت کا حامل ہو اور ویسا دکھائی دے۔ اول العزم لوگ بہت سی ایسی سچائیوں سے باخبر ہوجاتے ہیں کہ دنیا میں اگر اپنا مقام بنانا ہے تو خود کو کس طرح ثابت کرنا ہے ۔
جو لوگ خاندانی وراثت میں مال و زر پاتے ہیں ، وہ پرتعیش زندگی کو اختیار کرتے ہیں اور اس طرح ان کی جدوجہد صفر ہوتی ہے۔انھیں دنیا کی اونچ نیچ کا پتہ نہیں معلوم ہوتا۔ انھیں زمانے کی تند و تیز اور گرم ہواؤں نے چھوا نہیں ہوتا۔ انھیں کسی نے اصلاح کی غرض سے زود و کوب نہیں کیا ہوتا، اور سب سے بڑھ کر انھوں نے زندگی کو بالکل ہی نہیں پڑھا ہوتا۔ گویا رئیس ز ادے زندگی کی حققیت سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ وہ بے خبری میں اپنی زندگی تمام کردیتے ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے وراثت کا مال کثرت سے تھا تو ان کا بڑھاپا بھی آرام و سکون سے گزر جاتا ہے اور اگر آخری عمر میں مال و دولت ختم ہوگیا تو ان کے لئے یہی دنیاوی جنت جہنم کی طرح ہوجاتی ہے اور قدم قدم پر ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اور جو لوگ متوسط گھرانے یا غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ زندگی بہت قریب سے ان کے پاس سے گزرتی ہے۔ ایسے لوگ زندگی کے انگ انگ سے آشنا ہوتے ہیں۔انھیں دھوپ وچھاؤں، گرمی و سردی، بھوک و افلاس، خوشی و غمی، مہرو وفا، رنج و الم، صبر و شکر اور جدوجہد کے معانی و مطالب از بر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ناصرف اپنے آپ کو اعلی مقام پر لے آتے ہیں بلکہ ملک و قوم کی تقدیر بدل دینے کا جوہر رکھتے ہیں۔
زندگی کیوں اجیرن ہے:
- جب ہم اپنا مقابلہ اپنے سے ذیادہ اونچے لوگوں سے کرتے ہیں۔
- جب ہم اپنی مالی استطاعت سے ذیادہ بچے پیدا کرلیں۔
- جب ہم اپنے حال پر ناخوش رہیں۔
- جب ہم صبر و شکر سے کام نہیں لیتے۔
- جب ہم دوسروں کو تکلیف پہنچائیں۔
- جب ہم دوسروں کا مال غصب کریں۔
- جب ہم ناحق خون بہائیں۔
- جب ہم ہر آزمائش سے نبٹنے کی بجائے آہ و فغاں کریں۔
بعض خواہشات کا مرجانا ہی بہتر ہے
ورنہ وہ آپ کو مار دیتی ہیں
زندگی کو بہتر اور بدتر بنانے والے دراصل ہم خود ہی ہوتے ہیں جہاں چھوٹی چھوٹی غلطیاں بعض اوقات ہمارے لئے بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیتی ہے جسے پار کرنے کیلئے ہماری پوری عمر لگ جاتی ہے ۔
ہمیں چاہئے کہ ہم مناسب انداز میں، زیادہ کی چاہ چھوڑ دیں، خود کی ذات اور خاندان کو دوسروں سے موازنہ کرنا بند کردیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اتنے ہی پیر پھلائیں جتنی ہماری چادر اجازت دیتی ہے تو زندگی اجیرن ہوگی اور نہ ہی بے سکون!
زندگی سے مایوس نہ ہوں:
زندگی مسائل اور امتحانوں سے گھری ہے ۔مشکلات کا سامنا کرنا ضروری ہے۔ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں، تدبیر پر غور کرتے ہوئے اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں، عقل و دلیل اور تجربے کی بساط پر صحیح سمت میں بروقت کوشش کریں تاکہ ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکیں۔
بصورت دیگر اگر انسان کی آس ختم ہو جائے تو وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور بکھر جاتا ہے۔ مایوسی ایک منفی قدر ہے۔ جو ہمارے وجود کا احاطہ کئے رکھتی ہے۔ زندگی کی ناکامیاں، لوگوں کی سفاکیاں، مایوسی کے احساس سے نکلنے نہیں دیتیں۔ اگر ایسی کیفیت ذیادہ عرصہ رہے تو انسان کسی حد تک بھی اقدام اٹھا سکتا ہے۔
جبکہ امید ایسی روشنی کی کرن ہے جو ہمیں گھپ اندھیروں سے نکال سکتی ہے۔امید انسان کو نیا حوصلہ دیتی ہے کہ اب بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالی کی ذات پہ بھروسہ اور امید انسان کو پرامید کردیتے ہیں۔ ایک ہارا ہوا انسان صرف امید پر جیتا ہے کیونکہ اس کے پاس زندگی (اپنی بقاء) کا کوئی اور سہارا نہیں رہ جاتا۔
ہمارا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جس میں قدم قدم پر مایوسیاں ہیں۔ ہمیں اِن مایوسیوں کو ”اُمید“ میں بدلنا چاہیے۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے، بلکہ یہ امن و سکون کا گہوارہ بھی ہو سکتا ہے اور ہم ترقی اور کامیابی کی منزلوں کو چھو سکتے ہیں۔
امید اللہ تعالی کی ذات سے ہو یا کسی رحم دل اور متقی انسان سے ہو، امید کو ختم نہ ہونے دیں۔ اگر امید کا دامن چھوٹ جائے تو انسان خودکشی کی طرف گامزن ہوتاہے۔ اس لئے ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔
زندگی اللہ تعالی کی طرف سے بہترین انعام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کریں ، لوگوں سے غلط بیانی نہ کریں، کسی کو دھوکہ میں نہ رکھیں، کسی کو سبز باغ نہ دکھائیں، کسی کے اعتماد کو متزلزل نہ کریں، امانت میں خیانت نہ کریں، کسی کا مال ہڑپ نہ کریں، ادھار لی گئی رقم واپس لوٹائیں اور نیک اعمال کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ تعالی کے شکر گزار اور فرمانبردار بندوں میں شمار ہوں اور آخرت میں کامیابی حاصل کرسکیں۔
زندگی ایک دریا ہے، جس کا ساحل روز حشر ہے اور اعمال صالحہ اس کی کشتی ہے۔
زندگی جس کا بڑا نام لیا جاتا ہے
اک نازک سی ہچکی کے سوا کچھ بھی نہیں

تبصرے