جھوٹ


جھوٹ کے معنی ہیں ،وہ بات جو سچ نہ ہو ،  دھوکہ، غلط،  دغا، فریب،  لغو، مکر،  کھوٹ،  ناحق،  باطل، بے اصل،  واقعہ کے خلاف بات۔ 

معاشرے میں جھوٹ ایک برائی کے طور پر گردانا جاتا ہے۔  جھوٹ بہت خطرناک  عادت ہے کیونکہ یہ ہمیشہ سچ  کی قیمت پر بولا جاتا ہے۔  جھوٹ بولنے والا وقتی طور پر اپنے مقصد میں ضرور کامیا ب ہوسکتا ہے لیکن  آخر کار جھوٹ کی قلعی اتر کر رہتی ہے۔  جب  حق اور باطل بالکل عیاں ہو جائیں تو جھوٹ کا سہارا لینے والوں کی حالت یکدم غیر ہوجاتی ہے اور وہ راہ فرار کے لئے  بے چین ہوجاتے ہیں۔ ہر مذہب میں جھوٹ بولنے کی ممانعت ہے اور دین اسلام میں جھوٹ بولنے والے کو سزاوار قرار دیا گیا ہے۔

گفتار  میں  نہ  پوچھئے  کیسی  بلا ہے  وہ
سو جھوٹ بولنے پہ بھی سچا  لگا  ہے  وہ

جھوٹ ہمیشہ  غلطیوں ، کوتاہیوں یا کسی نقص کو  چھپانے کے لئے بولا جاتا ہے یا پھر  ذاتی فائدے کے لئے  بولا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ لوگ اپنی جھوٹی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لئے بھی جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور اپنا تعارف ایسے الفاظ میں کرواتے ہیں جیسے وہ  بہت  ہی معزز گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔  کچھ لوگ جھوٹ اس لئے بولتے ہیں کہ لوگ ان سے متاثر ہوں۔  اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جھوٹ بولتے بولتے یہ بھول جاتے ہیں کہ جھوٹ بولنا برائی ہے بلکہ جھوٹ ان کی شخصیت کا خاصہ بن جاتا ہے۔  ایسے لوگ جھوٹ کو ہی اپنے مافی الضمیر میں سچ  سمجھتے ہیں کیونکہ اسی جھوٹ نے ان کے بہت سے مشکل کام بآسانی انجام دیئے اور وہ  کئی قابل لوگوں سے آگے نکل گئے۔

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے
اور   میں   تھا  کہ   سچ  بولتا   رہ  گیا

یاد رکھئیے کوئی رشتہ، کوئی کاروبار یا کوئی کام جس کی بنیاد جھوٹ پر قائم ہو، یقیناً  ناپائدار ہوتے ہیں اور ایک دن جھوٹ کی قلعی کھل کررہتی ہے اور جھوٹ بولنے والے کا پول کھل جاتا ہے۔  اور وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔  نتیجتاً  اسے روپوش ہونا پڑتا ہے تاکہ اپنی خفت چھپا سکے۔

جھوٹ بولنا ایسی برائی ہے جو ہر برائی کی جڑ ہے۔  ایک جھوٹ کے لئے انسان کو ہزاروں جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔   جھوٹ کے اس دلدل میں انسان دھنستا ہی چلا جاتا ہے۔  ایسا انسان  ایک مرحلہ پہ یقینا ً پشیمانی کا سامنا کرتا ہے اور اچھے اچھے لوگوں  کو کھو دیتا ہے۔  کوئی بھی ذی شعور انسان دشمن سے  تو  ملنا گوارہ کرلیتا ہے مگر کسی جھوٹے دوست  کا سامنا اسے بہت ناگوار گزرتا ہے۔

جھوٹ کی اقسام:

سیاہ جھوٹ –  ایسا جھوٹ جس میں صرف اپنی ذا ت کو پوری طرح  مصیبت سے نکالنا  یا  بچانا  مقصود ہو، خواہ دوسرا کوئی بھاڑ میں  چلا جائے کوئی پرواہ نہیں۔ 

سرخ  جھوٹ -   وہ جھوٹ جس میں دوسروں سے بدلہ لینے کی خاطر کوئی  بیانیہ  جاری کیا  جائے۔     ایسے جھوٹ میں جھوٹا شخص اپنے ساتھ اپنے ہدف کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔  

سرمئی جھوٹ  -   یہ ایسا جھوٹ ہے جس میں جھوٹ بولنے والا   خود  تو  فیضیاب  ہوتا  ہی  ہے  اور کچھ دوسرے  کا بھی خود بخود فائدہ  ہوجاتا ہے۔

سفید جھوٹ -  یہ  ایسا جھوٹ ہے جس کا مظاہرہ ہم آئے روز دیکھتے ہیں ۔  سفید جھوٹ ہمارے سماج کا لازمی  حصہ بن چکا ہے۔   یہ جھوٹ ایسا ہے جس میں جھوٹ کو اس طرح بیان  کیا جاتا ہے کہ جھوٹ سچ پہ فوقیت لے جاتا ہے۔ ایسے جھوٹ کے استعمال کے لئے میڈیا سیل، سوشل میڈیا اور دیگر وسائل کو بھی بروئے کار لایا جاتا ہے تاکہ اپنی ساکھ مضبوط سے مضبوط  تر  ہو اور معاشرے میں ہمارا قد اونچا  رہے۔  اس جھوٹ میں  کسی کو جذباتی طور پر پریشانی، تکلیف  اور  درد   سے بچانے کیلئے بولتے ہیں۔  تشد د اور جارحانہ  رویہ سے بچنے کیلئے ہر کوئی سفید جھوٹ بولتا ہے۔  مثلا ً نہ چاہتے ہوئے بھی کسی کے برے لباس کی تعریف کرنا پڑتی ہے کہ وہ بہت اچھا ہے۔

مفاد پرستی پر جھوٹ -   اس میں  ارباب حکومت، صاحب  اختیار، سرپرست ، پولیس اور  ڈاکٹر حضرات   حقیقی صورت  حال  بتانے کی بجائے طفل تسلیاں دیتے ہیں۔   جیسے  قریب المرگ مریضوں اور ان کے لواحقین کو مریض کی حقیقی حالت سے آگاہ نہیں کرتے۔

کینہ پرور جھوٹ -   یہ جھوٹ کی خطرناک شکل ہے۔  جس میں جھوٹا شخص ذاتی مفاد کیلئے معاملات کو مخفی رکھتا ہے اور جھوٹ گھڑ تا رہتا ہے جو  آپ کو بیان کرتا  ہے۔

دغابازی پر مبنی جھوٹ -   اس قسم میں جھوٹا شخص افواہ سازی کا  کارخانہ بن جاتا ہے۔ جس میں وہ اپنے شکار  کو اپنے نشانے پر رکھتا ہے اور    اس کی نفسیات، کردار، ساکھ   کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے ایسے جھوٹ  کے شاہکار تیار کرتا ہے کہ آپ سمجھ ہی نہیں سکو گے۔  ایسے جھوٹ کے  نتائج،   انسان  کو اندر سے توڑ مڑوڑ کے رکھ دیتے ہیں۔

جھوٹے کی اقسام:

فطری جھوٹا – ایسا جھوٹا جس کو اپنے جھوٹ بولنے میں اپنی  مہارت  پر یقین ہو۔ اور وہ تسسل سے اس پر عمل پیرا ہو۔

غیر فطری جھوٹا – ایسا جھوٹا جسے بچپن میں ہی اس کے والدین یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔

  عاشق جھوٹا -   یہ جھوٹوں کا سلطان ہوتا ہے۔ یہ ہر سچ کو چھپانے میں نہ صرف ماہر ہوتے ہیں بلکہ ایک جھوٹ کو مزید غلط بیانیوں کی ہزاروں تہوں میں چھپانے کے لئے ہر سطح پر جاتے ہیں۔  اپنی پرکشش شخصیت کو استعمال کرتے ہوئے اور جنس مخالف کو بھی جیتنے کا فن خوب جانتے ہیں۔  وہ دوسروں کا استحصال کرنے کے لئے جارحانہ طرز عمل اور دروغ گوئی کی کسی بھی سطح  تک پہنچنے سے گریز نہیں کرتے اور اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔  

جھوٹے انسان کی پہچان:

جھوٹا شخص ہر معاملے میں اپنا نام مخفی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔  جبکہ سچا انسان ہر بات  کا جواب  بآسانی دے دیتا ہے۔ جیسے کچن میں اگر کوئی برتن ٹوٹ جائے تو جھوٹا چیخ کر کہے گا کہ یہ برتن کس نے توڑا ہے۔ مجھے یہ برتن یہاں ٹوٹا ہوا ملا ہے۔  جبکہ سچا انسان  معذرت خواہانہ انداز میں اعتراف کرلے گا کہ یہ برتن اس کے ہاتھ سے  ٹوٹا ہے۔ 

جھوٹا شخص  کسی غلطی کے لئے  جھوٹی اور تلخ تاویلیں دے گا۔   جبکہ سچ بولنے والا  دھیمے لہجے  میں   حقیقت بتا دے گا اور معذرت بھی کرلے گا۔

جھوٹا شخص دوسروں کو گمراہ کرنے کے لئے الجھا دینے والے الفاظ ادا کرے گا اور بات کو بنا کر خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔  لیکن سچا شخص بآسانی حقیقت کا اعتراف کرلے گا۔

جھوٹا شخص کسی آسان سے معاملے میں  یہ کہہ اپنی جان چھڑالے گا کہ میں نہیں جانتا۔  جبکہ سچا شخص  کھلے دل سے  اپنی غلطی کا اعتراف کرلے گا۔

آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں۔    سچ بولنے والے انسان کی آنکھیں  اپنے معمول کے سائز پر رہیں گی، جبکہ جھوٹے انسان کی آنکھ کی  پتلیاں اس وقت پھیل جائیں گی  جب وہ جھوٹ بول رہا ہوگا۔

جھوٹے افراد،  جھوٹ  بولتے ہوئے ہکلانے لگتے ہیں، ان کی سانس تیز ہوجاتی ہے  یا انہیں پسینہ بھی آنے لگتا ہے۔ 

جھوٹ کی حقیقت کیا ہے۔

انسان جو چیزیں کماتا ہے اُن میں جھوٹ بدترین چیز ہے۔
جان ،مال یاعزّت کو خطرہ لاحق ہو اور جھوٹ بولنے سے وہ خطرہ ٹل جاتا ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولنا جائزہے۔
جھوٹ بدترین نفسیاتی بیماری ہے۔
جھوٹ شیطان کے ہاتھ کی زینت ہے۔
جھوٹ فسق و فجور ہے۔
جھوٹ منافق کی علامت ہے۔
جھوٹ نسیان اور بھول پیدا کرتا ہے۔
جھوٹ ہدایت سے محرومی کا اور گمراہی کا سبب ہوتا ہے ۔
جھوٹا آدمی دوستی کے اور بھائی بنائے جانے کے قابل نہیں ہوتا ۔
جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو اگرچہ اُس نے مذاق میں جھوٹ کہا ہو۔
جھوٹے سے انسانیت رخصت ہوجاتی ہے۔
جھوٹے شخص کا مشورہ شرعی لحاظ سے پسندیدہ نہیں ہے۔
کسی بھی جھوٹ کومعمولی نہیں سمجھنا چاہیئے۔
جھوٹے لوگ سچائی کا سامنا نہیں کرپاتے۔

اللہ تعالی نے جھوٹ کو گناہ کبیرہ  قرار دیا ہے۔  اگر انسان صرف جھوٹ سے کنارہ کشی کرلے تو ہر برائی سے بچ سکتا ہے۔





 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت