اعتماد
اس کے معنی ہیں یقین کرنا، امید واثق، صحیح سمجھنا، ارادہ کرنا، آس، آسرا، اعتبار، اعتقاد، بھروسہ، تکیہ، ساکھ، مان، یقین۔
دنیا میں انسان اکیلے زندگی نہیں گزار سکتا۔ بلکہ ہمیں دوسروں کے درمیان اور ان کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ کسی کے ہمراہ وقت گزاری ممکن نہیں جب تک ہم اس کے بارے میں اچھا گمان نہ رکھیں، اس کی بات پہ یقین کریں اور اس کی ذات پہ اعتماد رکھیں۔
اعتماد انسانی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے کیونکہ عدم اعتمادی ہمیں ناامیدی، اندھیروں، پستی کی طرف ہی گامزن رکھتی ہے اور ہماری شخصیت کے بلندی کی طرف بڑھنے کے سفر میں رکاوٹ کا باعث ہوتی ہے۔
اعتماد وہ جذبہ اور ولولہ ہے جو اخلاص، محنت، نیک نیتی اور اللہ تعالی پہ بھرپور ایمان کی بدولت ہمارے اندر اجاگر ہوتا ہے۔ اعتماد طاقت کا ایسا سرچشمہ ہے جو ہمیں بے سروسامانی کے باوجود طاقت ور مد مقابل کا سامنا کرنے کی جرات عطا کرتا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالی پہ مکمل اعتماد ہونا چاہیے کہ رب کائنات حق اور سچ ہیں اور ہماری حفاظت کرتے ہیں ہر وقت ہمارے ساتھ ہیں۔ پھر ہمیں اپنے آپ پہ اعتماد ہونا چاہیے کہ ہم کسی کے لئے نقصان دہ، خطرہ یا وبال جان نہیں ہیں اور ہم اللہ تعالی کے احکامات کو تہہ دل سے مانتے ہیں اور کسی کی حق تلفی کرنا ہمارا شعار نہیں۔ اس کے بعد ہمیں اپنے دوستوں اور تمام ملنے والوں پہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ ہم سے جھوٹ نہیں بولیں گے، ہمارے ساتھ دھوکہ نہیں کریں گے اور ہمارا حق نہیں ماریں گے۔
اعتماد کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں ضرور رکھیں کہ آپ دنیاوی معاملات طے کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اعتماد اپنی جگہ ہے اور کاروبار اپنی جگہ ہے۔
کسی کو اپنا قیمتی سامان دیتے ہوئے یہ دھیان میں رکھیں کہ وہ شخص کتنا ایمان دار ہے اور اس کے بارے میں آپ کے پاس اتنی معلومات ہیں کہ اگر وہ ادھر ادھر ہوجائے تو کیا آپ اس کے گھر اور اس کے گھر والوں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔اور کیا اس کے گھر والے اس قابل ہیں کہ وہ آپ کو آپ کی قیمتی شے واپس لوٹانے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
اگر آپ صرف اس شخص کو تھوڑا بہت جانتے ہیں اور اس کے موبائیل نمبر کے علاوہ آپ کے پاس اس کی شناخت اور قربت داری کا کوئی فرد نہیں تو آپ ایسے شخص کو نا ہی اپنا قیمتی سامان دیں ، پیسوں کا لین دین کریں یا اس کی شہادت دیں۔
یاد رکھیئے کہ چند ملاقاتوں میں آپ کی دوستی تو ہوسکتی ہے لیکن انسان کی پہچان، اس کی اصلیت، اس کا خاصہ اور اس کا ماضی جاننے کے لئے برسوں بھی کم ہوتے ہیں۔
دنیا میں اندھا اعتماد صرف والدین پہ کیا جاسکتا ہے ان کے علاوہ اس دنیا میں کوئی انسان ڈیزائن ہی نہیں ہوا جس پہ آپ آنکھ میچ کے اعتماد کرسکیں۔
جو لوگ دوسروں پہ اندھا اعتماد کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیادہ دھوکہ بھی کھاتے ہیں اور نقصان سے دوچار ہوتے ہیں۔
پھل خریدتے ہوئے، آپ دوکاندار پہ اعتماد مت کیجئے بلکہ خود گاڑی یا موٹر بائیک سے اتر کر اچھے اچھے صاف ستھرے پھل چھانٹیئے اور اس کی رقم ادا کیجئے۔ اگر آپ نے ذرا سستی کی اور دوکاندار پہ اعتماد کیا تو وہ یقینا آپ کی سستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ایک خراب پھل آپ کے شاپر میں ڈال دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اعتماد ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے ۔ آپ جو کچھ اپنے بارے میں تصور کرتے ہیں وہی آپ آپ اپنے دوست یا عزیز و اقارب یا کلاس فیلو کے لئے بھی سوچتے ہیں۔ اور ایسا ہی رویہ اس کا آپ کے لئے ہے۔ اور یہ سنگت ایک آدھ ہفتے کی نہ ہو بلکہ عشروں پر محیط ہوتو آپ ایسے شخص پر اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اعتماد کرسکتے ہیں۔ کیونکہ جہاں انسیت ہو، رشتہ ہو، قربت ہو وہاں معمولی معمولی بات کو خاطر میں نہیں لاتے مگر سنجیدہ معاملات جیسے اپنے بچوں کی شادی اپنے دوست کے بچوں سے کرتے ہوئے آپ کو ضروری احتیاط برتنا چاہیے اور ایسی صورت میں اندھا اعتماد کی بجائے مکمل معلومات حاصل کرنا چاہیں تاکہ رشتوں میں دڑاڑ نہ آسکے اور آپ کو پچھتاوا بھی نہ ہو۔

تبصرے