کمال
اس کے معنی ہیں انوکھا پن، غایت درجہ اعلی، انتہائی ترقی والا کام، بے حد عمدہ کام، مکمل کام اور حیرت انگیز اور کامل کام۔
کسی شے کی لاجواب خصوصیات اور فوائد یا انسان کی بہترین کارکردگی اور صفات کے لئے لفظ کمال استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے جے ایف تھنڈر پاکستانی انجینئروں اور سائنس دانوں کی کاوشوں کا کمال ہے۔ بشری انصاری ، معین اختر اور سہیل احمد کیا کمال کی اداکاری کرتے ہیں۔
یوں تو ہر انسان اپنا اپنا کام اچھی طرح جانتا ہے اور تندہی سے سرانجام بھی دیتا ہے اور جہاں تک اخلاص کی بات ہے کچھ لوگ اپنا کام ایمانداری سے سرانجام دیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی دنیا والے ان کے کاموں میں کوئی نہ کوئی کیڑا نکال دیتے ہیں۔
کسی بھی شعبے میں کمال حاصل کرنے کے لئے اس کام سے متعلق ہر پہلو کے بارے میں علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ پھر اساتذہ کی راہنمائی سے انسان ہر قسم کے جھول کو ختم کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ کام کی انجام دہی میں کام سے محبت کا جذبہ کارفرما ہونا چاہیے۔ جب تک ہم اپنے کام سے محبت نہیں کرتے، ہمارا کام واجبی سا رہے گا۔ ہر وہ کام جسے آپ اپنے لئے بطور پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کام سے محبت بڑھائیے۔ اسے دل و جان سے سرانجام دیں۔ کم سے کم وقت میں عمدہ سے عمدہ کام کیجئے اور جہاں کوتاہیاں محسوس ہوں انھیں دور کرتے رہیے تاکہ کام میں نفاست اور عمدگی جھلکنے لگے۔
ہر کام کی انجام دہی میں بجٹ کو ہمیشہ سامنے رکھا جاتا ہے۔ وہ کام جو براہ راست ، بغیر کسی عیب کے بروقت اور مناسب قیمت میں مکمل ہوجائے اور گاہک یا خریدار کو پسند آجائے اسے کمال کہنا کاریگر اور فن کار کی تحسین و توصیف کرنے کے مترادف ہے۔
کمال فن کے لئے علم کا جاننا، کام کا جاننا اور کام سے متعلق تمام ضروری کاریگری، درکار مواد کی موجودگی اور مناسب قیمت ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاص اور خوش خلقی بہت اہم ہیں۔
ان تمام لوازمات کے ساتھ ساتھ کاریگر کا تجربہ ایسی نایاب چیزیں اور تخلیقات بناتا ہے کہ دیکھتے ہی لوگ عش عش کہنے لگتے ہیں۔
کمال کا درجہ حاصل کرنے کے بعد انسان کو ناصرف عزت و تکریم سے نوازا جاتا ہے بلکہ اس کا کاروبار بھی چمکنے لگتا ہے۔ اور ایک مقام ایسا آتا ہے کہ آپ کا نام آپ کے کام سے منسلک ہوجاتا ہے۔
یہی وہ دور ہوتا ہے جب آپ کو آپ کی محنت اور جانفشانی کا پھل ملنا شروع ہوجاتا ہے۔ وہ تمام کڑوی اور کسیلی باتیں جو آپ نے اس مقام تک پہنچنے میں برداشت کیں تھیں؛ وہ سب آپ کی تعظیم، آپ کے روشن کاروبار کی چمک کے آگے مندمل پڑ جاتے ہیں۔
اس کے بعد آپ کو ہر طبقے میں پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے اور کئی کمپنیاں آپ کے کام سے خوش ہوکر آپ کو ایوارڈ اور اسناد سے بھی نوازنا شروع ہوجاتے ہیں۔
لاہور میں سہگل موٹرز کسی بھی پرانی گاڑی کو نئی شکل اور نیا انداز دیکر کم پیسوں میں جدید ماڈل بنا دیتے ہیں۔ پرانی گاڑیوں کو نئے ماڈل میں ڈھالنے میں سہگل موٹرز کو کمال حاصل ہے۔ مٹھائیوں میں نرالا سویٹ والے کمال کی مٹھائیاں بناتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اس بارے میں حکیم الامت، علامہ محمد اقبال صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ:-
کسبِ کمال کُن کہ عزیزِ جہاں شوی
اپنے کام میں کمال حاصل کرو تاکہ دنیا والے تمہیں عزیز جانیں۔
تبصرے