کردار


کردار کے معنیٰ ہیں طرز ، طریق ،قاعدہ ، شغل، کام ، چلن ، خصلت، عادت ۔

وہ خواص  یا علامات جو ایک انسان میں   ہوں  اسے کردار کہتے ہیں۔  کسی  صورت حال میں انسان کا  برتاؤ اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔  زندگی کی پیچیدگیوں سے جس طریقے سے آپ نبٹتے ہیں  اسے آپکا کردار کہتے ہیں۔  کردار کی تعریف   عزت نفس، خودداری، ارادے کی پختگی اور دیانت داری ہے۔ ان تمام خصوصیات کا   نہایت  درجہ  پہ    موجود ہونا بلندی کردار ہے۔ قوم کے اجتماعی مفاد کیلئے افراد کا اپنے آپ کو قربان کر دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا بلند کرداری ہے۔

اصطلاحی طور پر کردار ان امتیازی خصوصیات کو کہتے ہیں جو انفرادی طور پر انسان میں نشونما پاتی ہیں۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے سوراخ   ایک اندھیرے  کمرے میں روشنی کی نوید دیتے ہیں؛ اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کے  کردار  کو  عیاں  کرتی ہیں۔

 وہ کام جو کہنے سننے اور لکھنے لکھانے سے نہیں ہوتے وہ کردار کے ذریعے تکمیل پاجاتے ہیں۔  انسان کی زندگی میں کردار ہی ایک ذریعہ ہے جس سے ہم اپنی عادات و اطوار بنا لیتے ہیں۔ انسان کا کردار ایک ایسی کتاب ہے جسے  ہر ایک انسان خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا جاہل گنوارا،   بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

تعمیر انسانی شخصیت  اس کے کردار سے  ظاہر ہوتی ہے اور اس کا کردار اس کی تربیت سے واضح ہوتا ہے۔ لیکن انسان کی عملی تربیت اس کے راسخ عقیدہ اور اس کے روشن نظریات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

کردار میں عظمت ہے۔ انسان کا کردار  وہ حسن ہے، جسے زوال نہیں۔  انسان کا کردار اسے عظیم بنا دیتا ہے۔ انسان کی تربیت کی ابتدا  ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔ پھر جب بچہ چلنا پھرنا سیکھتا ہے اس کی تربیت کا دوسرا  دور  مدرسہ سے شروع ہوتا ہے۔  اور تیسرا  مرحلہ انسان کے دوست اور وہ ماحول ہے جس میں وہ پروان چڑھتا ہے۔

تحصیل علم   اور پھر عملی زندگی کے کسی بھی شعبہ میں خدمات سرانجام دینے سے انسان نہ صرف زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتا ہے بلکہ اپنے علم کی روشنی میں اپنی خدمات کوسرانجام دینے  سے اسے بے شمار تجربات سے واسطہ پڑتا ہے۔ اسی  مرحلے  پر اسے حقیقی معنوں میں سچ اور جھوٹ، اصل اور نقل، انصاف اور ناانصافی، ایمان اور بے ایمانی، خیر اور شر، غرضیکہ حق اور باطل کا عملی نمونہ  نوکری یا کاروبار  سے حاصل ہوتا ہے۔ جہاں وہ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کے رویے اور برتاؤ کو دیکھتا ہے اور دنیا کی مکاریوں اور دروغ گوئی کا سامنا کرتا ہے  ۔ مگر اچھا انسان وہی ہے جو منفی رویوں کو سمجھتا ہو اور ان کے سد باب کے لئے  صحیح راستہ اپنائے چہ جائے کہ دنیا کے رنگینیوں میں رنگ جائے ۔ 

اللہ جل شانہ نے مسلمانوں کے لئے قرآن مجید میں نبی کریم سرور کونین حضرت محمد مصطفی کی ذات اقدس کو رہتی دنیا تک ایک نمونہ قرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ (ترجمہ) ”بے شک تمہارے لئے حضور کی ذات بہترین نمونہ ہے۔

احکام الہی   جہاں عبادت کے لحاظ سے  شرک سے روکتا ہے اور ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہے وہاں وہ اخلاقی اقدار کی نسبت   جھوٹ بولنے ، وعدہ خلافی ، خیانت ، بدی، رشوت، بغض و حسد اور دوسری برائیوں سے بھی منع کرتا ہے۔

ان بری باتوں کے بر خلاف  قرآن مجید جن خوبیوں کو اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ان میں سچ بولنا ، عفت و پاک بازی ، عفو و درگزراور ایثار و قربانی جیسے نیک اوصاف کی طرف توجہ دلاتا ہے ، انسان جس حد تک ان اوصاف سے متصف ہو گا، اسلام اسے اسی حد تک انسان کے معیار کی بلندی قرار دیتا ہے۔ انسان کا کردار اتنا بلند ہونا چاہیے کہ وہ اگر اس دنیا سے چلا بھی جائے تو لوگ اسے اچھے لفظوں میں یاد کریں اور اگر زندہ ہو تو اس سے دوبارہ ملنے کی تمنا کریں۔

اگر انسان ذاتی مفادات  سے بالاتر ہوجائے     تو اشرف المخلوقات کہلاتاہے۔ حیوانیت سے انسانیت تک کا سفر بہت طویل اور پیچیدہ ہے۔ عمریں بیت جاتی ہے اس سفر کے پیچ وخم میں۔    بعض لوگ پیدائشی خوش نصیب ہوتے ہیں اُن کی تربیت فطری ہوتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ انساانیت کا عملی نمونہ بن جاتے ہے۔اس دنیا میں کچھ لوگ تربیت دینے کے باوجود انسانیت کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔ بعض لوگوں کے مرنے سے بہت سے لوگ مرجاتے ہیں  (کیونکہ ان کی ہستی  ایک سایہ دار درخت کی طرح کئی گھرانوں کی کفالت کررہی ہوتی ہے)  اور بعض لوگوں کے مرنے سے بہت سے لوگ جینے لگتے ہیں  (کیونکہ  ان  کا   وجود   بہت سے لوگوں کا حق غاصب کئے ہوئے ہوتا ہے )      یہ سب اپنے اپنے کردار کا نتیجہ ہے۔

خدائے ذوالجلال نے کسی انسان کو بغیر کسی   مقصد کے نہیں بنایاہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس حقیت کا ادراک رکھتے ہیں۔    عموما بہت سے لوگ  یہ  سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی کا ایک مقصدہے تو اِس مقصد کے حصول میں ہمیں کیا کرنا چائیے؟ اس مقصد کے حصول میں  کیا،  کیوں، کیسے اور کب کے سوالات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کے لئے ہمیں ہدایت اور راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل وشعور رکھنے کے باوجود ہم اِن سوالات کے جواب دینے یاپانے سے قاصرہیں۔ 

اس کی اصل وجہ یہ ہے  کہ ہم اپنے کردار کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے   ہیں ۔  ہرفرد کا معاشرے میں کوئی نہ کوئی کردارہے۔ اس لئے ہرکردار کی ادائیگی وقت پر ہوناچائیے۔ بعض لوگ اس معاشرے میں  کئی قسم  کے کردار کے حامل ہوتے ہیں   جیسے ایک انسان  کسی کا شوہر ہے، کسی کا باپ ہے کسی کا بیٹا ہے کسی کا بھائی اور کسی کا دوست ہے  ،  کسی کا مالک  ہے اور کسی کا نوکر ہے، لیکن ایک  کردار کو بھی تسلی بخش طریقے سے سرانجام نہیں دیتا؛    اس  کے اپنے حقیقی کردار  کو نہ نبھانے کی وجہ سے   اس کا حصہ  رہ جاتاہے اور معاشرے کی ترقی رک جاتی ہے۔ 

ہمارے دین میں ایسے کرداروں کو فرائض میں شامل کیا گیا ہے۔  حقوق وفرائض کی ادائیگی کردار سے ہی ممکن ہے۔ ہم حکومت کا کردار  (سرکاری نوکری ) لیتے ہیں لیکن احسن طریقے سے اس کو نبھاتے نہیں۔ ہم سرکاری اداروں ،  نجی اداروں،  محکموں،  تنظیموں،  انجمنوں،  گروہوں اور دینی اداروں میں بڑے بڑے کردار(عہدے) لیتے ہیں لیکن ان تمام سے عہدہ براء نہیں ہوتے ہیں۔ ادھورے اور غیرتسلی بخش کاموں کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی بے نتیجہ  ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس ضمن میں چند افراد کی ایمانداری کوئی اثر دیکھا نہیں سکتی۔ زیادہ لوگ کم لوگوں پرغالب آتے ہیں اور معاشرے میں ان کا کردار زیادہ نظر آنے لگتاہے۔

تاریخ  انسانیت میں کڑوڑوں لوگ  آئے اور گئے لیکن چند ایک کی یاد ان کی کردار کی وجہ سے مشہور ہوکر رہ گئی۔ وہ اِس دنیا میں نہ ہوتے ہوئے بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ ہرفرد کو اِن چیزوں کا علم ہے لیکن اس کے باوجود اپنے کردار میں غفلت برتتے ہیں ۔  اِن کے دل پر قفل ہے اِن کی انکھوں پر پردہ ہے اور ان کی بصیرت کام نہیں کرتی ہے ۔ 

ہمار ی سوچ یہ ہونا چاہیے کہ  ہمیں بھلا   انسان بننا  ہے۔ سب کچھ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں  تو اچھے لوگوں کی یا بُرے لوگوں کی راہ پربھی چل سکتے ہیں۔اس لئے اللہ سے ہم دُعا مانگتے ہیں ’’اے اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت کرتا  رہ اور ان لوگوں کا راستہ جن پر تُو نے اپنی نعمتیں بھیجی نہ کہ اُن کا جن پر تُونے غضب کیا اور نہ ہی گمراہوں کا۔

کردار کیسے صحیح کریں؟ کون تعمیر کردار  کی تعلیم دیں؟ یہ سوالات ایک مسلمان کے لئے مناسب نہیں کیونکہ اللہ نے قرآن پاک اور سنتِ رسول میں اِن سوالات کا جواب دے رکھا ہے۔فرماتے ہیں ’’بیشک ہر ایک سے اُن کی      ایک چھوٹی سے چھوٹی اچھائی کو بھی دیکھا جائے گا اور برائی کوبھی‘‘ اب ضرورت عمل کی ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے کردار کی ادائیگی میں بھرپور رکھیں تاکہ معاشرے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ 

کردار کی عظمت کے لئے درج ذیل نقائط پر توجہ دیں:-
  • اختیار ہوتے ہوئے غلطی نہ کریں۔ 
  • طاقت ہوتے ہوئے طاقت کا استعمال نہ کریں۔ 
  • بھوک لگی ہو، اپنا کھانا مفلوک الحال شخص کو دے دیں۔ 
  • آپ جواب دینے کی سکت رکھتے ہوں مگر معافی دے دیں۔
  • آپ سامنے والے کو  اڑا کے رکھ سکتے ہوں مگر چپ کر جائیں۔ 
  • حق دار کو چل کے جا کے حق دیں کہ بھائی تمہارا یہ حق ہے، مہربانی کرو، پکڑ لو۔

ایمان پر چلنے والا، ریگستان  کی تنہائی میں بھی گناہ کا موقع آئے تو کہے گا مجھے میرے اللہ کا خوف ہے۔ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا، میرا رب دیکھ رہا ہے۔ اختیار کے ہوتے ہوئے غلطی نہ کرنے والا باکردار انسان ہے۔ وہ ولی بندہ ہے۔ اللہ کا دوست ہے۔ جو پوری طاقت رکھنے کے باوجود ایک ایسا راستہ اختیار کرتا ہے جو ویران راستہ ہے۔  سارے اس راستے پہ نہیں چلتے۔ وہ اپنے سے انتخاب کرتا ہے کہ نہیں بھئی میں نے صحیح راستے سے نہیں اترنا۔

کردار  یہ ہے لوگ آپ پہ اعتبار کریں۔ لوگ آپ پہ یقین کرسکیں۔ لوگ آپ پہ بھروسہ کرسکیں۔ لوگ آپ کے ساتھ محفوظ و مامون محسوس کریں۔ لوگ آپ کے ساتھ چلتے ہوئے خواہ آپ جاب لے رہے ہوں یا آپ کے پاس جاب کررہے ہوں، محفوظ محسوس کریں۔ وعدہ پورا کریں، تنخواہ وقت پر دیں۔ عزت دیں، انھیں اہمیت دیں، چھوٹے سے چھوٹے انسان کی قدر کریں۔

دھوکہ دہی، دروغ گوئی، حقیقت کو چھپانا،  لغویات سے کام لینا،  اور وعدہ خلافی کرنا،  کردار سے عاری ہونے کی نشانی ہے۔ جیسے آپ بالکل نیک ہیں، ساری نمازیں  پڑھتے ہیں مگر تنخواہ نہیں دیتے، لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں ان کی عزت نفس کو لہو لہان کرتے ہیں، لوگوں کو باتیں سناتے ہیں، ان کو خوار کرتے ہیں۔ یہ سب وصف آپ کے خود غرض ہونے کی دلیل ہیں۔  

کردار وہ واحد کسوٹی ہے جس سے ہم کسی کی انسانیت اورتمیز کو پرکھ سکتے ہیں۔ 

جنہیں ملتا ہے اعلی ظرف اور کردار اےغوری
نہیں کرتے کبھی پرچار وہ اپنی شرافت کا
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت