موت


موت کے معنی ہیں اجل، مرگ،  فنا ہونا،  وفات پانا اور اس دنیا سے انتقال کرجانا۔

زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے  ہیں اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر دنیا      کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ۔

ہماری اصل منزل جنت ہے ۔ زندگی ہمیں ہنسی مزاق، کھانے پینے، کھیل کود، دولت دنیا سمیٹنے، کوٹھیاں اور بنگلے بنانے، جاہ و منصب کے حصول اور اپنی من مانیاں کرنے کے لئے نہیں ملی، بلکہ   ایک عظیم مقصد کے لئے ودیعت کی گئی ہے۔ 

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ   وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ  اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے۔ (سورہ الزاریات آیت 56)

ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنی زندگی کو اللہ تعالی کی منشاء کے مطابق گزارا؟   جبکہ ہم روز دیکھتے ہیں کہ موت نا تو کسی بادشاہ کو بخشتی ہے اور نہ ہی کسی گدا کو معاف کرتی ہے۔ 

موت سے کسی کو مفر نہیں۔   موت ایک ہیبتناک اور تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ جو انسان اس دنیا میں آیا ہے اسے واپس اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ ایسی حققیت ہے جس سے ہر انسان آنکھیں چراتا ہے اور کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا۔  یہاں تک کہ بزرگی میں پہنچ کر بھی انسان موت کو بھولے ہوئے رہتے ہیں۔

اور اگر کوئی انھیں ان کی عمر کا لحاظ کرنے یا بزرگی کا کہے تو وہ برا منا جاتے ہیں۔حالانکہ بزرگ ،   جوانوں کے مقابلے میں موت کے قریب ہوتے ہیں اور موت کی تیاری میں  ہونے چاہییں۔  لیکن انسان کی فطرت ہے کہ وہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ خواہ اس کے تمام دوست ایک ایک کرکے اس جہان فانی سے رخصت ہوجائیں۔

اللہ تعالی ہمارے خالق ہیں ۔ اور وہی اس بات سے باخبر ہیں کہ کون  کب اور کس جگہ موت کا نظارہ کرے گا۔  حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ لوگ بچپن میں، کچھ جوانی میں ، بعض ادھیڑ عمر میں جبکہ باقی بڑھاپے میں اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں۔ کچھ جواں سال لوگ موٹر سائیکل  یا گاڑی میں سوار ہوتے ہیں مگر انھیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ہے۔   سچ بات تو یہ ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ کوئی یہاں سے جلد روانہ ہوجاتا ہے اور کوئی بعد میں ۔  لیکن ہر ایک انسان کو ضرور بہ ضرور اس جہان فانی سے رخصت ہونا ہے۔ 

موت ایک ایسی حقیقت ہے جو بندوں کو ہلاک کردیتی ہے، بچوں کے سر سے سایہ اٹھا لیتی  ہے، عورتوں کو بیوہ بناتی ہے، دنیاوی ظاہری سہاروں کو ختم کردیتی ہے، دلوں کو تھرانے والی ہے، آنکھوں کو رلانے والی ہے، بستیوں کو اجاڑنے والی ہے، جماعتوں اور گروہوں کو منتشر کرنے والی ہے، لذتوں اور عیاشی کو ختم کرنے والی ہے،  امیدوں پر پانی پھیرنے والی ہے، ظالموں ، چوروں  اور لٹیروں کو جہنم کی وادیوں میں دھکیلنے والی ہے، متقی لوگوں کو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والی ہے، موت نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے ، نہ بڑوں کی تعظیم کرتی ہے، نہ دنیاوی چوہدریوں سے ڈرتی ہے، نہ بادشاہوں سے یا وقت کے مکار و عیار لوگوں سے ان کے دربار میں حاضری کی اجازت لیتی ہے۔  

موت ایسی حقیقت ہے کہ دنیا کا  ہر کوئی خواہ وہ کافر یا فاجر ہو، حتی کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔  اگر کوئی موت پر شک و شبہ کرتا ہے  تو اسے بے وقوفوں کی فہرست میں شمار کیا جاتاہے۔ موت کے سامنےسبھی عاجز و بے بس ہیں۔ 

موت کو جب بھی حکم خداوندی ہوتا ہے تو تمام دنیاوی رکاوٹوں کو چیرتی اور پھاڑتی ہوئی مطلوبہ  شخص کو حاصل کرلیتی ہے۔  موت نہ نیک اور صالح لوگوں پر رحم کھاتی ہے، نہ ظالموں کو بخشتی ہے۔  اللہ تعالی کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کو بھی موت اپنے گلے لگا لیتی ہے اور گھر بیٹھنے والوں کو بھی موت نہیں چھوڑتی۔ اخروی ابدی زندگی کو دنیاوی فانی زندگی پر ترجیح دینے والے بھی موت کی آغوش میں سوجاتے ہیں اور  دنیا کے دیوانوں کو بھی موت اپنا لقمہ بنالیتی ہے۔ موت آنے کے بعد آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی، کان سن نہیں سکتے، ہاتھ پیر کام نہیں کرسکتے مگر انسان کا ذہن سب کچھ سمجھ رہا ہوتا ہے۔  موت سے پہلے ایک مرحلہ ہے جسے سکرات الموت کہتے ہیں۔ 

سکرات الموت:

سکرات کی واحد کو سکرہ کہتے ہیں۔  جس کے معنی ہیں مستی جیسی حالت، حیرت انگیز اور سخت گیر کیفیت۔  سکرات الموت مستی اور بے ہوشی  کی مانند   ایک شدید ہیجانی حالت  ہے جس وقت انسان کو حیرانگی اور شدید بے آرامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  یہ کیفیت موت کی تکمیل کا حصہ ہے جس میں انسان بہت بے بس ہوتا ہے  اور تکلیف کا یہ عالم ہوتا ہے کہ آنکھوں سے آنسو امڈ آتے ہیں جسے نیر کہتے ہیں۔ سکرات الموت کا دورانیہ مومنین ، والدین کے فرمانبردار لوگوں کے مقابلے میں کفار اور بدکردار لوگوں میں طویل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ 

انسان کی روح نکلنے کا کام تدریجی صورت میں انجام پاتا ہے۔ جس میں سکرات الموت، نیر کے آنسو اور پھر جسم کے ہر روئیں سے روح کا اخراج جو پاؤں کی انگلیوں سے شروع ہوکر آنکھوں تک ہوتا ہے۔  ہر انسان کے لئے تین مرحلے سخت دشوار ہوتے ہیں۔ ولادت، موت   اور حشر کا میدان۔ 

سکرات کم کرنے کے طریقے:

دنیا  اور اس کی رعنائیوں سے محبت نہ کرنا، مال و دولت سے نفاق کرنا، گناہوں سے اجتناب کرنا،   خیر و بھلائی کے کام کرنا، اللہ تعالی کے احکامات پر سختی سے عمل کرنا اور عبادات کرنے سے سکرات الموت کی سختیوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔  جبکہ ماں باپ کی ناراضگی سکرات الموت  عذاب القبر کی شدت بڑھا دیتا ہے۔

مرنے کے بعد انسان کی ہیئت بدل جاتی  ہے:-   روح اور جسم کے تعلق کے خاتمہ کو موت کا نام دیا جاتا ہے۔  ایک انسان اگر بیماری میں فوت ہوا ہوتو اسے بیماری کے دوران مریض کہتے ہیں۔ اور مریض کو صحت یاب کرنے کے لئے خواہ برسوں انتظار کرنا پڑے  سب لوگ  جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔      

جب تک انسان میں روح باقی ہے اس کی شخصیت ایک وزن رکھتی ہے اور اس کے نام کا  ڈنکا بجتا ہے ، اس  کا رعب اور دبدبہ قائم  ہوتا  ہے۔  لوگ اس کے نام   کی بدولت بہت سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔  اگر وہ گھر کا سربراہ ہے تو اس گھر  کے تقدس پہ کوئی آنچ نہیں آتی۔  لیکن جیسے ہی مریض کی روح قبض ہوجائے اس کا اسٹیٹس یکسر تبدیل ہوجاتاہے۔  وہ مریض کی بجائے میت کہلاتا ہے۔ اور لوگ میت کو دفنانے میں بہت جلدی کرتے ہیں کہ کہیں جسم سڑنے نہ لگ جائے۔ اور معاشرے میں لوگ آہستہ آہستہ اس کا نام تک بھول جاتے ہیں۔

اس کے بعد انسان  دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ  کرجاتا ہے۔  موت پر انسان کے اعمال کا رجسٹر بند کردیا جاتا ہے، اور موت پر توبہ کا دروازہ بند اور جزا وسزا کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے یہاں تک کہ اُس کا آخری وقت آجائے۔

کچھ لوگ جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں موت کی تیاری سے غافل نہیں ہوتے، وہ  عجز و انکساری کو اپنا شعار بنا کر دنیا کی زندگی صبرو شکر سے گزارتے ہیں۔  نیک اعمال کرتے ہیں، حق کی پاسداری کرتے ہیں سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔ انہیں قدم قدم پہ مشکلات ،آزمائشوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  ایسے لوگوں کو  جب فرشتہ اجل  لینے آتا ہے تو وہ بخوشی تیار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے لئے یہ دنیا عارضی  ہے اور اپنے رب سے ملاقات کا شوق انہیں موت کو گلے لگانے میں خوشی کا احساس دیتا ہے۔  

جبکہ جن لوگوں نے موت کی تیاری نہیں کی ہوتی،   ان کے لئے موت کا وقت نہایت کڑا ہوتا ہے اور وہ اپنے رب سے مزیدمہلت مانگ رہے ہوتے ہیں۔  لیکن اس حققیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہےکہ موت کے لمحے نا تو کسی کا ایمان قبول ہوتا ہے اور نا ہی کسی وقت کی توسیع کا کوئی امکان ہوتا ہے۔

یہی وہ وقت ہوتا ہے جس پہ گمراہ لوگ کف افسوس ملتے ہیں۔ اور ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ اور مومن کی شان ہے کہ وہ کثرت سے موت کو یاد کرتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو آخرت کی تیاری کے لئے فکر مند رہتے ہیں۔

موت اٹل ہے، انسان جتنی بھی طویل عمر پالے، اسے اس جہان فانی سے ایک نہ ایک دن کوچ کرنا ہے۔  جس روز موت نے  دروازہ کھٹکھٹانا ہے، اسی لمحے انسان کو زندگی کا ہاتھ چھوڑ کر موت کو گلے لگانا   پڑے گا۔  جب انسان اس جہاں سے رخصت ہوتا ہے تو اس کا عمل (خواہ اچھا ہو یا  برا)   رک جاتا ہے۔ مگر تین اعمال ایسے ہیں جس کا ثواب و اجر اور نیکیاں جاری رہتی ہیں۔   ان میں سے ایک صدقہ جاریہ، دوسرے   ایسا نافع علم جس سے لوگ فیضیاب ہوں اور تیسرے نیک بخت اولاد جو اس کے لئے دعاگو ہو۔

 ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جوں جوں ہم عمر پاتے ہیں، درحقیقت ہماری عمر کم ہورہی ہوتی ہے۔ ہمارا نفس امارہ   اور شیطان انسان کو گناہوں  کی طرف مائل کرکے  اس عارضی زندگی پر مطمئن کرکے آخرت کی لازوال زندگی برباد کرنے کے درپے  رہتے ہیں، جبکہ اللہ کے نیک بندے ، دانش مند، دور اندیش اور صاحب عقل انسان  ہمیشہ ہمیشہ والی زندگی کو سنوارنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ 
   
 موت سے پہلے چند شخصیات کے الفاظ کیا تھے:
  • قائداعظم  محمد علی جناح کے  آخری الفاظ تھے کہ " میں اب نہیں"۔
  • پرنسز آف ویلز   لیڈی ڈیانا نے موت سے پہلے کہا    " میرے خدا، یہ کیا ہورہا ہے؟"
  • جمیکا  کے گلوکار  بوب مارلے کے آخری الفاظ  متاثر کن ہیں " دوست سے زندگی نہیں خریدی جاسکتی"۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی
خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت