تنگ دستی
تنگ دستی کے معنی ہیں مفلسی، تنگ حالی، تہی دستی، افلاس، غریبی، غربت، حاجت، فقدان اور کمی۔
دنیا میں کئی لوگ معاشی بدحالی، مفلسی کا شکار ہیں اور کچھ قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں کو نشے کی لت لگ جاتی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو دولت کی ہوس میں جؤا کھیلتے ہیں اور سارا مال و متاع ضائع کردیتے ہیں۔ کچھ بد قسمت ایسے بھی ہوتے ہیں جو قتل اور اقدام قتل، یا چوری کے سلسلے میں جیل چلے جاتے ہیں ۔جس کے باعث ان کے گھر میں چولہا ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی فاقوں تک نوبت آجاتی ہے۔
ایسے میں ان کے گھر والوں اور بچوں کو سر چھپانا محال ہوجاتا ہے۔ تعلیم منقطع ہوجاتی ہے مال مویشی یا رہی سہی پونجی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر قرض کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو ذیادہ دیرپا نہیں ہوتا۔ کیونکہ قرض کی واپسی کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔
رشتہ دار بھی ایک ایک کرکے کٹ جاتے ہیں۔ اگر گھر کرایہ پہ لیا ہوا ہے تو مالک مکان پیسوں کا تقاضا کرتا ہے۔ لوگوں کا قرض، مکان کا کرایہ، پرچون والے کاادھار اور ناامیدی کے بادل اچھےبھلے انسان کو ادھ مویا کردیتے ہیں۔
بظاہر انسانیت کا پیکر نظر آنے والے بھی اپنی اصلیت پر اتر آتے ہیں۔ ایسے میں اللہ کا آسرا، اور امید انسان کا واحد سہارا بن کر اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور اس کے بجھے ہوئے دل اور پژمردہ جان کو ڈھارس دیتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو بچپن میں تنگ دستی اور کسمپرسی کے عالم میں رہے۔ مگر ہمت نہ ہاری۔ اللہ کو یاد کرتے رہے اور اللہ سے ہی اپنے لئے رزق حلال کی دعا کرتے رہے۔ پھر کیا ہوا، اللہ تعالی نے انھیں ایسی جوانمردی بخشی اور رزق حلال کے دروازے کھول دیئے کہ خستہ حال لوگ طویل مشقت کے بعد راحت سے ہمکنار ہوگئے۔
ایسے باہمت، صابر اور پاکیزہ سیرت سپوت چونکہ مشکلات کے کٹھن مراحل طے کرکے اللہ تعالی کے انعام، لطف و عنایات سے مستفیذ ہوئے ہوتے ہیں اس لئے جہاں وہ مسلسل اللہ تعالی کا شکر بجالاتے ہیں وہیں اپنے بزرگوں کی اطاعت اور دلجوئی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھتے۔
ایسے عظیم لوگ عجز و انکساری کا نمونہ ہوتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بہت احتیاط سے استعمال کرتے ہیں، تصرف سے اجتناب کرتے ہیں، اللہ کے دیئے ہوئے مال میں غریبوں ، مسکینوں، یتیموں اور نادار لوگوں کی خاموشی سے اعانت کرتے ہیں ۔
اللہ تعالی انسان کی محنت، اس کی نیت، اس کے خلوص اور اس کی ہمت کو کبھی ناکامیاب نہیں ہونے دیتے ۔ اللہ کی مدد دیر سے آتی ہے مگر ضرور آتی ہے۔
اس لئے اللہ تعالی سے ہر دم خیر کی دعا کرتے رہیے اور امید کا دامن کبھی بھی نہ چھوڑیں۔

تبصرے