تمکنت


اس کے معنی ہیں  خُود نُمائی، شان و شوکت، عزت جتانا،  مرتبہ ظاہر کرنا،   اختیار، اقتدار، حکومت، جلال،  خود پسندی ،   آن بان، جاہ،   دبدبہ،  رعب،  رعونت،  زور، شان،  طاقت، غرور، فخر،  قدرت، گھمنڈ، نخوت ،  ناز نخرے سے چلنے والا اور نمود۔

دنیا میں بہت سے انسان ترقیوں کی اعلی منازل طے کرنے میں کامیاب  ہوجاتے ہیں۔ ان کی اس کامیابی میں اُن کی اَن تھک محنت، اِخلاص اور جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔  مگر اس سے بڑھ کر ان کا جذبۂ  خدمت ِ اِنسانیت ہمہ وقت موجزن  رہتا ہے ۔ اپنی ترقی کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے  ان کی فلاحی سرگرمیاں مخفی رہتی ہیں لیکن جب  ان کی کامیابی روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے تو  ان کی دریا دلی کُھل کر سامنے آجاتی ہے۔ پہلے وہ اپنی کمائی کے لئے سرگرداں تھے اور اب وہ لوگوں کے چہروں پہ خوشیاں بکھیرنے کے لئے بے تاب ہوتے ہیں۔

ہر وہ انسان جو دوسرے انسانوں سے جذباتی طور پر جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی اپنے سے کمزور لوگوں کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھتا۔  بلکہ اس انسان کی ترقی میں سب سے اہم عنصر احترام انسانیت ہوتا ہے۔ خواہ یہ احترام گھر میں والد  یا  والدہ کی وجہ سے شروع ہوا ہو اور بڑھتےبڑھتے  وہ تمام انسانوں سے محبت اور الفت  کے رشتے استوار کرلیتاہے۔ کیونکہ انسانی رشتوں میں اتنی طاقت اور اتحاد ہوتا ہے جو انسان کے ترقی کرنے کے جذبوں کو دوام دیتا ہے۔  ورنہ اکیلے انسان کے لئے تو ایک کمرہ اور دو وقت کی روٹی ہی کافی ہوتی ہے۔ 

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان کے خون پسینے سے کمائی گئی دولت میں بہت برکت ہوتی ہے۔ اسے اللہ کی راہ اور لوگوں کی بھلائی کے لئے جتنا بھی خرچ کیا جائے اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا ہے۔  کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرو وہ  تمہیں کئی گنا بڑھا کردے گا۔

وہ محنت کش لوگ، جنھوں نے اپنا کاروبار اپنے لئے رز‍ق حلال کے حصول کے لئے شروع کیا تھا اور اللہ تعالی کے فضل سے وہ اس قدر بڑھ گیا کہ اس بارے میں انھوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔ ایسے لوگ کبھی بھی عاجزی و انکساری  اور اللہ کے شکر کے رویے سے منہ نہیں پھیرتے بلکہ اللہ کی نعمتوں کو اس کا انعام سمجھتے ہوئے اپنی زندگی سادگی اور وفا شعاری میں گزار دیتے ہیں۔

تاریخ میں کسی ایسے شخص کا  برائی کے زمرے میں ذکر نہیں ملے گا جس نے مسلسل محنت اور خلوص سے تاحیات محنت کرکے پیسہ کمایا ہو۔

البتہ ایسے لوگ جنھوں نے چور دروازے،  ناحق طریقےسے، دھونس اور زبردستی  کے ذریعے  دوسروں کا مال ہڑپ کیا  ہو، ان کے اندر تمکنت نمایاں ہوتی ہے اور ایسے ناحق مال  کی وجہ سے ان کی اولادیں بھی  خود پسند اور گھمنڈی ہوتی ہیں۔

اگرچہ یہ دولت ان کی آنے والی کئی نسلوں تک ختم نہیں ہوسکتیں  لیکن برائی کا پیسہ اپنے اندر ایسا خمیر رکھتا ہے کہ انسان ایک پل سکون میں نہیں ہوتا اور اس کے پیسہ جمع کرنے کی طمع  ھل من مزید کے مصداق روز افزوں ہوتی ہے۔

کہتے ہیں سو دن چور کے  ایک دن سادھ کا۔   اسی طرح حرام کی کمائی ایک نہ ایک دن انسان کو بے عزتی کے زیریں گڑھوں میں گرا کر ہی دم لیتی ہے اور انسان اپنا  منہ چھپانے کے لئے  بہت ہاتھ پاؤں مارتا ہے لیکن سبھی تدبیریں بے سود ثابت ہوتی ہیں۔

برائی  کے مال پہ تعمیر ہونے والی  تمکنت اور گھمنڈایک دن  چکنا چور ہوکر ریزہ ریزہ ہوکے بکھر جاتے ہیں۔ 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت