محرومیاں
اس کے معنی ہیں نااُمّیدی، بدنصیبی، محروم رہ جانا، نامرادی، ناکامی، مایوسی، حرمان، بد بختی اور امتناع (ممانعت) وغیرہ۔
محرومیاں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ جسمانی محرومی، دماغی محرومی، معاشی محرومی، تعلیمی محرومی، عائلی محرومی وغیرہ۔
ہر قسم کی محرومی اپنے اندر ایک درد اور کرب کی داستان ہوتی ہے جو انسان کے اندر ایک ایسا خلاء پیدا کردیتی ہے جو تاحیات اس کی شخصیت کا احاطہ کئے رکھتا ہے۔
محرومیوں کی اقسام: کوئی شخص اگر ایک آنکھ، بازو یا ٹانگ سے معذور ہے تو وہ تمام عمر اسی نقص اور کمی کا رونا روتا رہے گا۔ اگر کوئی شخص ذہنی طور پر کمزور اور معذور ہے تو وہ دوسروں کے سہارے کا محتاج رہتاہے۔ ہر قدم پہ اس کو سہارے اور توجہ کی ضرورت رہتی ہے۔ معاشی طور پر محروم اگر اسی احساس کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے کہ وہ غریب اور لاچار ہے تو اس کا مستقبل امید افزاء نہیں ہوتا۔ تعلیمی محرومی بھی انسان کی ترقی میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔ اسی طرح آذادی سے محروم لوگ اور قومیں بھی اندھیروں کے مسافر ہوتے ہیں۔
محرومی کیا ہے: محرومی ایک کیفیت ہے جس کا بظاہر کوئی سَدِّ باب نہیں ۔ ایسی کیفیت انسان کو قدرت کی طرف سے آزمائش اور امتحان کی شکل میں ملتی ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے کہ وہ جہاں تکالیف اور مشکلات دیتا ہے وہیں اس کی ذات رحمانی انسان کے اندر حوصلہ، ہمت، قوت ارادہ اور امید کے ایسے طاقت ور اسباب بھی مہیا کردیتی ہے جو محروم انسان کو ایک عام اور صحت مند انسان کے مقابلے میں زیادہ بہتر زندگی گزارنے کے طریقے بتاتے ہیں اورکامیابی و خوشحالی کی راہیں کھول دیتے ہیں۔
احساس محرومی کی طاقت: محرومی ایک احساس ہے ۔ اس احساس کے دو پہلو ہیں ایک مثبت اور ایک منفی۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی قدرتی کمزوری پر فی الوقت اکتفا کریں اور اللہ تعالی کی بقیہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اندر کی قدرتی محرومی پر قابو پائیں۔
مثال کے طور پر ایک انسان اگر ایک آنکھ سے معذور ہے اور بقیہ تمام اعضاء بالکل صحت مند اور توانا ہیں تو اسے چاہیے کہ اس احساس محرومی کو اپنی تباہی اور پستی کا ذمہ دار نہ بنائے بلکہ اللہ تعالی کی دیگر بے شمار نعمتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محنت اور ایمان داری کا راستہ اختیار کرے اور اسے جو وسائل دستیاب ہیں ان سے استفادہ حاصل کرے۔ اپنے وقت، اپنی سوچ، اپنے ایمان اور پاک بازی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے رب کائنات کے بھروسے پہ ایسی محنت کرے کہ اگر وہ طالب علم ہے تو بہترین طالب علموں میں شمار ہو اور اگر کاری گر ہے تو بہترین کاریگر کہلائے اور اگر فن کار ہے تو اس کی چرچا سارے عالم میں ہو۔
انسان کے اندر کا احساس جس قدر گہرا اور پختہ ہوگا ، وہ انسان اسی قدر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھتا ہوا آگے بڑھے گا۔ انسان کے اندر کی خواہش، کامیابی کی منزل پر پہنچنے کی لگن اور پیہم جدوجہد کی تڑپ اسے اپنی منزل کے قریب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
محرومیوں کی طاقت: محرومیاں انسان کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے ناختم ہونے والا ایندھن مہیاکرتی ہیں۔ جس کے بل بوتے پر آپ اس وقت تک کامیابیوں کے زینے چڑھتے رہتے ہیں جب تک آپ اپنی محرومیوں کو اپنی ناکامی کے لئے مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔
آپ اپنی ذہنی قوت، اعصاب اور وقت کو بروئے کار لاتے ہوئے علم کا وہ مقام حاصل کرسکتے ہیں جسے معاشرے میں قابلِ تحسین سمجھا جاتا ہے اور باعزت عہدہ حاصل کرسکتے ہیں جس میں آپ کےما تحت بے شمار مکمل اعضاء والے جی حضوری کرتے ہیں۔
جب آپ کامیاب انسان بن جاتے ہیں تو آپ کی پوزیشن یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔ آپ اپنے وسائل سے اپنی فطری محرومی کا ایسا علاج کروا سکتے ہیں کہ کسی کو آپ کی طبعی محرومی کا علم تک نہ ہوسکے۔
محرومیوں سے نبٹنے کے لوازمات: محرومیوں پر قابو پانے اور اس سے نبٹنے کے لئے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے وہ درج ذیل ہیں:-
1۔ اپنی خامی کو اپنی کمزوری نہ سمجھیں۔
2۔ اپنی خامی کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیگر قدرتی انعامات اور دنیاوی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسا مقام حاصل کیجئے کہ آپ کا شمار تاریخ کے اوراق میں سنہری الفاظ سے یاد کیا جائے۔
3۔ اللہ تعالی کی رحمت پہ کامل یقین پیدا کیجئے کہ وہ محنت کرنے والے اور حق کی راہ اختیار کرنے والے کو انگلی پکڑ کے کامیابیوں سے ہمکنار فرماتا ہے۔
4۔ اپنے والدین، بزرگوں اور دیگر انسانوں سے اخلاص اور محبت سے پیش آئیں۔
5۔ اپنی کمزوری کو کبھی معذوری نہ سمجھیں اور اپنی معذوری دکھا کر کسی سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
6۔ اپنی خود داری اور غیرت کا کبھی سودا نہ کریں۔
7۔ جسمانی پاکیزگی، روحانی پاکیزگی اور سچائی کو دانتوں سے پکڑ کر رکھیں۔
8۔ اللہ تعالی کے حضور سجدہ کریں اور اسی سے اپنی کامیابی کے طلب گار رہیں۔
9۔ جب کامیاب انسان بن جائیں تو تکبر اور غرور کے قریب نہ پھٹکیں کہ یہ انسان کو زیب نہیں دیتیں۔ اور انسان کو تباہی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔
10۔ اللہ تعالی کی مخلوق سے خلوص دل سے محبت کریں اور بے لوث محبت انسان کو عظیم بنا دیتی ہے۔
11۔ ہمیشہ سایہ دار درخت کی طرح خوش مزاج اور خوش اخلاق بن کے جئیں تاکہ لوگ آپ سے استفادہ حاصل کرکے آپ کو دعاؤں میں شامل رکھیں۔
12۔ اپنی محرومیوں کے شکر گزار بنیں کہ ان کی بدولت آپ نے اپنی دیگر صلاحیتوں کو جانا اور انھیں بھر پور استعمال کرکے کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے۔

تبصرے