حب الوطنی
حب الوطن کے معنی وطن سے محبت کے ہیں۔ یہ فطرت ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ لفظ وطن جس قدر پیارا ہے اس کا مفہوم بھی اسی قدر وسیع ہے۔
وطن ماں کی مانند ہے، جو ہمیشہ ساتھ دے۔ وطن وہ قطعہ ارض ہے جہاں انسان کے عزیز و اقرباء نے زندگی گزاری ہو، جہاں وہ کھیلا کودا اور جوان ہوا ہو، تو پھر کیوں نہ اسے اس سرزمین سے لگاؤ ہو۔ انسان جہاں بھی قدم رکھتا ہے، بس اپنے وطن کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ انسان جب اپنے وطن سے دور ہو جاتا ہے، تو اسے اپنے وطن کی ایک ایک چیز کی یاد ستاتی ہے۔ اس کے وطن کے لوگ، زبان، آب و ہوا، مصالحے اور کھانے بھی نہیں بھولتے۔
وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے
مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں
وطن کے ہر کونے اور گوشے میں آپکو نہ جانے کتنی رنگ و نسل کے لوگ ملیں گے، لیکن ان میں سے کسی ایک سے بغض و کینہ انسان کے حب وطن کو نامکمل کر دیتی ہے، کیونکہ حب وطن کے معنی ہیں اپنے وطن کی ایک ایک چیز سے محبت کرنا، جس میں اپنے ہم وطنوں سے محبت بھی شامل ہے۔
دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو
نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
وطن کا کانٹا پردیس کے پھول سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔وطن کی یاد انسان کے دل میں ایسی نقش ہوتی ہے کہ ساری عمر محو نہیں ہوتی اور رہ رہ کر ستاتی ہے۔جس گھر میں بچہ پلتا ہے اس کا چپہ چپہ اسکے ذہن میں قائم رہتا ہے۔اس کے دروازے، اس کی کھڑکیاں، اس کی چھتیں، اسکا دالان، اس کی سیڑھیاں اور اس کا طول وعرض اور محل وقوع کا نقشہ ہمیشہ کیلئے دماغ میں جم جاتا ہے۔جن گلی کوچوں میں بچہ کھیلتا ہے انکی یاد کبھی بھی ذہن سے نہیں اترتی۔
بچپن کی یادیں سب یادوں سے زیادہ دیرپا اور حسرت ناک ہوتی ہے۔بچپن کے دوستوں کے ساتھ بھائی بہنوں کی محبت سے بھی زیادہ الفت ہوتی ہے۔
وطن کی محبت انسانی زندگی کا اعلی ترین مقصد ہونا چاہیے۔وطن سے محبت رکھنے والے کسی انعام کی خواہش نہیں رکھتے۔وہ اپنے وطن کی بہبودی کے لئے ذاتی اغراض اور فائدوں کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں۔وطن کی محبت وہ جذبہ ہے جس سے ہر چھوٹا بڑا سرشار ہوکر جان پر کھیل جاتا ہے۔یہ پاکیزہ جذبہ قدرت کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔دین اسلام حب وطن کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ " حب الوطن من الايمان"۔ یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔گویا حب وطن سے محروم انسان کے ایمان میں فتور ہے۔
انسان کو وطن کی ہر چیز سے طبعی انس ہوتا ہے۔پردیس میں خواہ کتنے ہی دلفریب نظارے ہوں، خواہ کیسی ہی راحت میسر ہو۔لیکن وہ وطن کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں ذاتی طور پر کئی دہائیاں دیار غیر میں ملازمت کے سلسلہ میں مقیم رہا۔ اگرچہ میری تنخواہ اور زندگی ہر لحاظ سے بہت خوشحال تھی مگر میرا دل ہر وقت ملک کی یاد میں غمگین رہتا۔ اور جب میں سالانہ چھٹیوں میں اپنے وطن آیا کرتا تو ایئرپورٹ سے نکلتے ہوئے میرے آنسو میرا چہرہ تر کردیتے اور مجھے استقبال کے لئے آنے والے بہن بھائیوں کا سامنا کرنا محال ہوجاتا۔
محب وطن شخص اپنے ملک و قوم سے ثقافتی و فکری طور پر جڑا ہوتا ہے اور اپنے ملک و قوم کی بقاء کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ حب الوطنی کا ایک جز نظریہ بھی ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ایک ملک قائم ہوتا ہے، مثلاً ایک پاکستانی شخص اگر اپنے ملک سے محبت کرتا ہے تو اس نظریے کی بنیاد پر کہ :
"پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو دو قومی نظریہ پر بنا ہے، پاکستان کے قیام کا مقصد ہم مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر اختیار دینا، اپنی ثقافت کی حفاظت کرنا اور آزادی سے بلا خوف و خطر مذہبی کام سرانجام دینا ہے۔"
ہمیں اپنے اندر ایسی حب الوطنی پیدا کرنی چاہیے جو ہمیں ایک متحد اور مضبوط قوم بنا کر ہم میں زندگی کی لہر دوڑا دے۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنا وہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں جس کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے جان و مال کی قربانیاں دی ہیں۔
اے اہل وطن شام و سحر جاگتے رہنا
اغیار ہیں آمادۂ شر جاگتے رہنا
پاکستان نے ہمیں پہچان دی، عزت دی اورشہرت دی ، آزادی کو سات دہائیاں گزر گئیں ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔
اگر ہر پاکستانی جسے اپنے وطن اور اپنی قوم سے پیار ہے اسے چاہیے کہ جہاں اپنی ذاتی اور عائلی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے سرگرداں ہے ، وہیں اپنے ملک کی بقاء، اس کی صفائی ستھرائی، اس کی ترقی ، اس کی خوشحالی اور اس کے استحکام کے لئے اپنے تئیں جہاں تک ممکن ہو ضرور بہ ضرور کوشش کرے۔
ہمیں ہر کام حکومت پہ نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ ہمیں انفرادی طور اپنے ملک کی سالمیت، استحکام اور ترقی کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔
پاکستان کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ساتھیوں کی مدد سے مقامی سطح پر عوام الناس کی بھلائی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اور جہاں کوئی برائی یا نقص دیکھیں جو عوام کے لئے تکلیف کا باعث ہوسکتا ہے اسے دور کرنے کے لئے امداد باہمی کے ذریعے فی الفور اس کا تدارک کریں۔ اور جو لوگ ملک و قوم میں انتشار پھیلائیں ان کے قلع قمع کے لئے متعلقہ احکام کو مطلع فرمائیں۔
کسی حادثے کی صورت میں اپنی سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے فوری متحرک ہوں اور لوگوں کی مدد سے لوگوں کے جان و مال کو محفوظ بنائیں۔
ہر پاکستانی کو چاہیے کہ اپنے پاس مختلف رفاہی اداروں، اسپتالوں، پولیس اور دیگر ایمرجنسی نمبروں کی لسٹ رکھیں تاکہ بوقت ضرورت فوری امداد حاصل کی جاسکے۔

تبصرے