قلب ِسَلیم
اس کے معنی ہیں ایسا دل جو آتشی پسند ہو۔ بھلا چنگا دل، سادہ دل، صاف دل، صحت مند دل، صحیح و سالم دل، صلح پسند دل، نرم دل، بردبار دل، تندرست دل، حلم دل، خاموش دل، مکمل دل، ٹھیک دل اور کامل دل۔
قلب سلیم کی پہچان: ایسا دل جو فطری طور پر اللہ تعالی کو تمام جہانوں کا خالق اور مالک گردانے ، اس کی کبریائی میں کسی کو شریک نہ کرنے اور اس کی بادشاہت میں کسی دوسرے کو قبول نہ کرے؛ قلب سلیم کہلاتا ہے۔
ایسا دل جو اللہ تعالی کو ہر جگہ محسوس کرتا ہے، اللہ تعالی کو آنکھوں سے نا دیکھتے ہوئے بھی اسے ہر جگہ پھرپور طریقے سے موجود پاتا ہے ، دنیا کی تمام قوتوں کو اللہ تعالی کے سامنے بے بس جانتا ہے اور غریب لوگوں پہ ہونے والے ظلم و استبداد پر اللہ تعالی کے غضب کے ڈر سے رنجیدہ ہوجاتا ہے اور خون کے آنسو روتا ہے؛ اس دل کو قلبِ سلیم کہتے ہیں۔
ایسا دل جو دوسروں کی امانتوں کو اپنے مال سے زیادہ عزیز سمجھ کر ان کی حفاظت کرے۔ لوگوں کی خوشی اور ان کے آرام کے لئے سب سے پہلے خود کو عملی طور پر پیش کرے۔ منافقت نہ کرے اور کسی انسان کو دوسرے کے خلاف بھڑکانے کو شیطانی عمل کہے؛ وہ دراصل قلب سلیم ہے۔
ایسا دل جسے اللہ تعالی کے رب ہونے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے، قرآن پاک کے لئے آسمانی کتاب ہونے پر کوئی شک و شبہ نہ ہو۔ قرآن اور اسلامی تعلیمات کو سمجھنے میں تذبذب کا شکار نہ ہو بلکہ صحیح اور درست بات سمجھنے اور ماننے کے لئے بہترین سوچ اور فہم و شعور ہو؛ اسے قلب سلیم کہتے ہیں۔
ایسا دل جس میں اگر کوئی برائی پنپنے لگے تو وہ اللہ تعالی کے خوف سے اس خیال کو فوراً جھٹک دے۔ اورکوئی ایسی خواہش جنم لے یا انگڑائی لے رہی ہو، جس سے کسی کا نقصان ہو یا کسی کا حق مارے جانے کا احتمال ہو اور آپ کو مفت میں مل رہی مگر آپ ہی اس کے اکیلے حق دار نہ ہوں تو آپ خود کو اس معاملے سے دستبردار کرلیں؛ یہ قلبِ سلیم کہلاتا ہے۔
ایسا دل جس کے اندر دنیا کی حُبّ نہ ہو، جسے کوئی حکومتی اہلکار جو صاحبِ اختیار ہو اور اپنی طرف سے حکومتی اراضی بلامعاوضہ آلاٹ کرنے کی آفر کرے اور وہ اللہ تعالی کے خوف اور ایمانی جذبے کے تحت انکار کردے اور ایسا دل جسے دنیاوی جاہ و جلال کی لالچ نہ ہو، کسی عہدے کی طمع نہ ہو؛ ایسا دل قلبِ سلیم ہے۔
ایسا دل جس میں اپنے دشمنوں کے خلاف بُخل نہ ہو۔ ایسا صاحب ِ دل جو دشمنوں اور اپنے پہ کئے مظالم کا بدلہ لینے کی سکت رکھتا ہو اور صرف اللہ تعالی کی خاطر معاف کردے؛ اسے قلبِ سلیم کہتے ہیں۔
قلب سلیم: قلب سلیم وہ دل ہے جو اس قدر پاک صاف ہو، اس قدر طیّب ہو ، اس قدر پاکیزہ ہو کہ اس دل کے اندر کسی کے بارے میں بغض، کینہ حسد، عناد کے جذبات نہ پائیں جائیں ۔
انسان کا دل قلب سلیم ہونا چاہیے۔ ایسا دل جو صحیح و سلامت ہو۔ اس میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ جس میں کوئی کج روی نہ ہو۔ ایسا دل جس میں ہر ایک انسان کے لئے نیک خواہشات ہوں اور اخلاص والی بے لوث محبت ہو۔دوسروں کے درد کو اپنا درد محسوس کرے۔ دوسروں کا نقصان اپنا نقصان سمجھے اور ہر ایک کو آگے نکلنے میں مدد کرے۔ دوسروں کی کامیابی سے دلی طور پر خوش رہے اور دوسروں کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اگر دکان دار نے غلطی سے ذیادہ پیسے دے دیئے ہیں تو فالتو پیسے دکان دار کو واپس کرکے دلی خوشی محسوس کرے۔ اسی طرح اپنے فائدہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حق اور سچ بات کو ڈنکے کی چوٹ پر کہنے والا انسان قلبِ سلیم کہلاتا ہے اور اللہ کے ہاں وہی کامیاب انسان ہے جو صاحبِ قلبِ سلیم ہوگا۔
انسانی دل رئیس الاعضاء: انسان کان سے سنتا ہے، آنکھ سے دیکھتا ہے ، دماغ سے تجزیہ کرتا اور فیصلہ دل سے کرتا ہے۔ انسانی جسم میں رئیس الاعضاء دل کو کہتے ہیں۔ اگر دل درست ہے، کسی آلائش سے پاک ہے، تو انسان کا جسم بھی صحت مند اور توانا ہوتا ہے۔
دل اور صحت: اگر دل خراب ہوجائے، اس میں بگاڑ ہوجائے تو جسم میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔اگر دل میں فتور پیدا ہوجائے تو انسان کا صحیح ہونا ممکن نہیں۔ جو لوگ اپنے دلوں میں دوسروں کے لئے بدخواہی پالتے ہیں ان کے دل آلودہ ہوجاتے ہیں۔ ان کے چہروں سے مسکراہٹ چھن جاتی ہے۔ ان کے چہرے فقیروں کی طرح سپاٹ اور کشش سے عاری ہوجاتے ہیں۔
دل اور ایمان: بندے کا ایمان اس وقت سیدھا اور قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس کا دل صحیح نہ ہو۔ ایسا دل جو سینے کے اندر موجود ہے اگر اندھا ہوجائے یا نابینا ہوجائے تو اس انسان کی آنکھیں بھی پتھر بن جاتی ہیں۔ اگر انسان کا دل اندھا ہوجائے تو آنکھیں بھی بصیرت کھو دیتی ہیں۔
اشرف المخلوقات کی شرط: جس کے پاس دل ہو، اور اگر اس سے تدبر نہ کرے ، غور و فکر نہ کرے، تو وہ چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں۔ انسان کا دل اگر پاکیزہ اور مطہر ہوتو انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔
جب تک ہمارا دل صاف نہیں ہوگا ، نا تو ہم دنیا میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور نا ہی آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔کیونکہ دل میں موجود آلائشیں اور آلودگیاں انسان کے مقام سے نیچا گرا دیتی ہیں۔اور وہ ہمیشہ بدلہ کی آگ میں سلگتا رہتا ہے۔پرسکون نیند اس سے ناراض ہوجاتی ہے۔ پوری رات کروٹیں لے کے گزار دیتا ہے۔
جس کے دل میں دوسروں کے لئے عداوت اور بغض نہ ہو، وہ انسان بہت پرسکون ہوتا ہے۔ جو انسان دوسروں کے بارے میں اپنا دل بالکل صاف رکھتا ہے وہ بہت ہشّاش بشّاش ہوتا ہے۔
ایک صحابی مسجد آئے تو ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جنتی ہیں۔ دوسرے دن بھی آئے تو آپ نے کہا کہ وہ جنتی ہیں اور جب تیسرے دن آئے تو بھی آپ نے کہا کہ وہ جنتی ہیں۔ دیکھنے میں وہ ایک عام سے انسان سے اور واجبی نماز ادا کرتے تھے۔ ایک صحابی نے ان کی خوبیوں کو جاننے کے لئے ان سے التجا کی کہ وہ ا ن کے ہاں 3 راتیں قیام کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اجازت دے دی۔
قیام کے دوران بھی صحابی نے کوئی قابل ذکر بات نہ دیکھی ، دوسری رات بھی دیکھتے ہیں کہ کوئی خاص عبادات نہ دیکھیں، اور اسی طرح تیسری رات بھی کچھ ایسا نظر نہ آیا جس سے دل کی تشفی ہوتی۔
تاہم انھوں نے سارا ماجر سنایا اور کہا کہ آپ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آپ جنتی ہیں ، دوسرے دن اور پھر تیسرے دن بھی آپ کے جنتی ہونے کی گواہی دی تو میرے دل میں خیال آیا کہ دیکھوں تو سہی آپ کا کون سا عمل ایسا ہے جو آپ کو اس عظیم مقام پہ لے آیا۔
اس بوڑھے شخص نے فرمایا کہ "میں نے کبھی کوئی فضول بات اپنی زبان سے نہیں نکالی" اور دوسرا "میرا دل دوسروں کے بارے بالکل صاف ہے"۔
بغض، حسد، اور کینہ د ل پہ بوجھ ہیں۔ جو دل کو بےقرار کردیتے ہیں۔ اور بے چین دل کی وجہ سے انسان صحتمند نہیں ہوسکتا۔ دشمنی اور مسابقت کا جذبہ انسان کو ایک پل راحت سے نا اٹھنے دیتے ہیں اور نا ہی بیٹھنے دیتے ہیں۔
افضل الناس وہ لوگ ہیں جو زبان کے سچے ہیں اور دل کے صاف ستھرے ہوں۔ بغض اور کینہ جس کے دل میں ہوتا ہے اس کے گناہ کی معافی نہیں ہوتی۔
بغض و کینہ سے دل کو پاک کرنے کا علاج:
1۔ اللہ تعالی سے بغض اور کینے سے محفوظ رہنے کی دعا پڑھیں۔
وَالَّـذِيْنَ جَآءُوْا مِنْ بَعْدِهِـمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّـذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِىْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِـيْـمٌ
سورۃ الحشر 10
اور ان کے لیے بھی جو مہاجرین کے بعد آئے (اور) دعا مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارےان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمانداروں کی طرف سے کینہ قائم نہ ہونے پائے، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
2۔ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں کیونکہ قرآن سینے اور دل کی بیماریوں کے لئے شفا ہے۔
3۔ تقدیر پر ایمان رکھیں۔ اور اللہ کی تقسیم کے اوپر راضی ہوجائیں کہ وہ جسے چاہے جتنا دے۔
4۔ اپنی گفتگو کو اچھا بنائیں۔ ایسی بات نہ کریں جو دوسرے کو پسند نہ ہو یا کسی کی دل آزاری ہو۔
5۔ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیں۔
6۔ حلم اور برد باری کی وجہ سے سینے اور دل کو پاک کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے برداشت سے کام لیں۔
7۔ رمضان اور ہر مہنیے کی 15، 14، 13 تاریخ کو روزہ رکھنے سے بندے کے دل سے بھی برائیاں نکل جاتی ہیں۔
8۔ کوشش کریں کہ ہمیشہ پاک صاف رہیں اور پاکیزہ لباس پہنیں۔

تبصرے