جَنُون
اس کے معنی ہیں والہانہ پن، کسی چیز کی لگن، عشق، دیوانہ پن، پاگل پن، دیوانگی ، خبط، طیش، غصہ، غضب، غیظ، سودا، عقل کھو دینا، اضطراب عقلی، اضطراب ذہنی، انفصام، غم، غرور، توہین، اداسی، کینہ پروری، قناعت، اعتماد، پژمردگی، خوشی، دو قطبی ذہنی شکستگی ، اصل معنی ہے جن کا سایہ ہونا۔
جنون کو علم نفسیات میں ایک شدید مزاجی کیفیت کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کی نمایاں علامات میں انشرح (دل کا کھلنا، آذاد ہونا، چھاتی چاک کرکے دل کھولنا)، اشتعال (جھگڑا کرنا، برانگیختہ کرنا، جوش دلانا)، فرط ہیجان (شدت، غلبہ، خاک اڑانا) ، فرط سرگرمی اور خیالات و گمان کی روانی کے ساتھ گفتار و کلام میں تیزی جیسی کیفیات شامل ہوتی ہیں۔
خیالات و گفتار میں تیزی و بے چینی کی کیفیت کو علم طب میں پرواز افکار (ایسی گفتگو جو بلاکسی موزوں وقفے کے تیز رفتاری سے مسلسل اور لگاتار جاری رہے اور اچانک ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر پرواز کرتی رہے)، جیسی اصطلاح کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس کی جمع مجانین کی جاتی ہے۔
جنون کی حقیقت:
جنون ایک عام کیفیت سے کہیں بڑھ کر پُرجوش اور سرگرم جذبوں کے حامل شخص کی ظاہری حالت ہے۔ جو اپنے ایمان، نظریات اور خیالات میں اس قدر منہمک اور وابستہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا تن ، من اور دھن اپنے جنون (اپنے مقاصد اور عقائد) کی ترویج میں صرف کرنے کے لئے پرزور طریقے سے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ اپنے جنون کی تسکین کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگانے کو بھی تیار رہتا ہے۔ اس کے شب و روز اسی میں گزرتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا سکے۔
کسی جنون میں مبتلا شخص عقلی دلائل کی پرواہ کئے بغیر تہہ دل سے اپنے مقصد کے حصول کے لئے سرگرداں رہتا ہے۔
جنون ہمیشہ مالی منفعت سے بالاتر ہوتا ہے۔ جنون میں ذاتی مفاد سے بڑھ کر مقصد اور نظریہ ہوتا ہے۔ جنون میں ہوس کی جگہ قربانی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ جنون انسان کو امر کردیتا ہے اور اس کے قصّے زبان زدِ عام ہوجاتے ہیں۔ جنون کا جذبہ پاکیزہ اور متبرک ہوتا ہے۔ جنون کی لذت ایک عام انسان اپنی سوچ کے احاطے میں نہیں لاسکتا۔ جنون کی پرواز ہردم بلند رہتی ہے۔
جنون کی طاقت لازوال ہوتی ہے:
جنون کے متوالے اپنی ہمت، ارادے، یقین اور ایمان کے بل بوتے پر کئی لوگوں پہ بھاری ہوتے ہیں۔ جنون انسان کو ضرور بہ ضرور اپنی منزل پہ کامیابی سے پہنچا دیتا ہے۔ اور جنون کبھی وقت، جگہ اور کسی سہارے کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ جنون پہاڑوں کے بیچ چشموں میں سے نکلنے والے پانی کی طرح اپنا رستہ خود بناتا ہے اور اسے کوئی رکاوٹ نہیں روک سکتی۔
جنون اس سیلاب کی طرح ہے جس کے سامنے کتنے بھی بند باندھے جائیں اسے روکنا ممکن نہیں ہوتا۔
جنون کا مزاج ناقابل پیشین گوئی ہے:
جنون اپنے مزاج میں بظاہر بہت معتدل دکھائی دیتا ہے۔ بے ضرر محسوس ہوتا ہے۔ ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح پرسکون ہوتا ہے لیکن اپنی فطرت میں وہ ناقابل شکست ہوتا ہے۔ اس کی سوچ اور اس کا ایمان ایسی قوت ہیں جو اسے ہمیشہ سرگرم رکھتی ہیں۔
جنون کو اگر ایک طرف سے رستہ نہیں ملتا تو وہ دوسری طرف سے رستہ بنا لیتا ہے اور دوسری طرف بھی کوئی رکاوٹ آجائے تو پھر وہ تیسری طرف سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے۔
جنون اور آتش فشاں:
عشق ایک مقصد کے تحت برپا ہونے والا جذبہ ہے۔ اس مقام پہ پہنچنے کے لئے کئی منزلیں طے کرنا ضروری ہیں۔ یہ منزلیں ہیں، دلکشی، انس، محبت، عبادت، عقیدت اور جنون۔جب تک الاؤ جنون کی حد نہیں چھوئے گا، طوفان تھما رہے گا اور جب جنون کی حرارت اس میں شامل ہوگئی تو پھر اس آتش فشاں کو روکنا ناممکن ہے۔
جنون کی کامیابی یقینی کیوں ہے:
جس طرح کسی آتش فشاں کو کئی برس لگتے ہیں کہ وہ اس نہج پہ آئے کہ اس زور سے پھٹے کہ پورا کا پورا علاقہ روندتا ہوا آگے بڑھ جائے اور رستے کی ہر رکاوٹ کو چکنا چور کردے۔ اسی طرح جنون کی پرورش میں کئی برس لگتے ہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ جنون اپنے ارد گرد ہونے والی نا انصافیوں اور ظلم و استبداد کو مسلسل برداشت کرتا ہے اور اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیتا ہے کہ اب ظلم و ستم کا بازار نہیں چلے گا۔
اپنے مقصد کو دل کی گہرائیوں میں رکھ کر، اپنی آنکھیں، دماغ کھول کر اور عملِ پیہم کے ذریعے جنون ایسا کمال حاصل کرلیتا ہے کہ اس کے خلاف بڑبڑانے والے، چغلی کھانے والے، مزاق اُڑانے والے بھی اُس کی صلاحیتوں، کامیابیوں اور بے لوث و بے خوف فیصلوں کے سامنے جُھک جاتے ہیں اور ایک دن اس کے جنون کو سلام کرتے ہیں کہ تو سلامت رہے تا قیامت رہے۔
جنون عشق میں صد چاک ہونا پڑتا ہے
اس انتہاء کے لئے خاک ہونا پڑتا ہے
تبصرے