روزگار


روزگار کے معنی ہیں ذریعہ معاش، گزر اوقات، بسر اوقات، دھندا کار، پیشہ، ملازمت ، نوکری اور کمائی کا ذریعہ۔

انسا ن کی فطرت ہے دور کے خواب دیکھنا ،   خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا  اور اپنی زندگی کو پر آسائش بنانا۔ اپنا نام پیدا کرنا۔ والدین، بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کا معیار زندگی بلند کرنا۔اور ماضی کی تلخیوں کو خوشیوں سے بدلنا تاکہ دل میں احساس کمتری باقی نہ رہے اور مشقت بھری زندگی پرسکون اور پر مسرت بن جائے۔

مالی اعتبار سے پس ماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی زندگی کی گاڑی کو کھینچنے کے لئے نجانے کیا کیا پاپڑ  بیلتے ہیں۔ کوئی اپنی تعلیم کو مکمل کرکے اعلی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، کوئی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، مقابلے کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ جو مقابلے کے امتحان میں نہیں بیٹھنا چاہتے، وہ کوئی سی بھی  دیگر  نوکری حاصل کرنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں۔  اس سلسلے میں سفارش  تک رسائی کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔  کبھی کسی کا رقعہ حاصل کرکے ایک دفتر کی زیارت کرتے ہیں کبھی کسی سیاسی شخصیت کے رقعے کے لئے اپنے حلقے کے انچارج کے دفتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ 

جو ذیادہ تعلیم جاری نہیں رکھ سکے وہ کوئی ٹیکنیکل کورس کرنے کے لئے دوستوں سے صلاح مشورہ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ کس کورس کی کس ملک میں ذیادہ مانگ ہے۔ 

گویا  ہر انسان اپنے مستقبل کے لئے سرگرداں ہے۔ کسی کو اعلی نوکری چاہیے، کسی کو کوئی  سی بھی نوکری چلے گی۔ کسی کو امریکا جانا ہے، کوئی کہتا ہے کینیڈا میں بہتر مواقع ہیں۔ کوئی جاپان کی تعریف کرتے نہیں تھکتا۔ کسی کو ملائشیا پسند ہے اور کوئی چائنہ کو بہتر ین ملک گنواتے نہیں تھکتا اور کسی کو یورپ ذیادہ مہذب لگتا ہے اور کوئی مڈل ایسٹ کو بہتر منزل سمجھتا ہے ۔ اور کوئی بزنس کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنے کام کا خود ہی باس ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر ایک انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا رزق بھی مقرر کردیا ہے۔ جو اس کو مل کر ہی رہے گا۔ نا  ذرا  سا کم اور نا  ذرا  سا ذیادہ۔ اللہ تعالی نے مقدار کے ساتھ رزق کےحصول کا مقام اور وقت بھی طے کررکھا ہے۔ لیکن انسان بہت جلد باز ہے۔ اسے سب کچھ چاہیے اور ابھی چاہیے۔ خواہ اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے۔

ہم میں سے اکثر لوگوں نے اپنے اپنے وقت میں کیا کیا نہیں سوچا اور کیا کیا نہیں کیا۔  مگر ہوا وہی جو قدرت کو منظور تھا۔لیکن ہم یہی سمجھتے رہے کہ میں یہ کرلوں گا، میں وہ کرلوں گا۔ اور اگر کچھ نہ ہوا تو میں سب سے الگ کرلوں گا۔

ہم سب اپنے ماضی میں لوٹ کر دیکھیں تو ہم جو سمجھ کر آگے بڑھتے رہے، ہماری منزل دوسری طرف ہمارے  انتظار میں تھی۔ ہماری سب پلاننگ بے کار ہوئی اور جو کام ملا بہت آسانی سے گھر آکر مل گیا۔

ہر انسان کی زندگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کسی کو ہمیشہ آرام دہ ماحول ملتا ہے اور کسی کو سخت محنت والا کام کرنا پڑتا ہے۔

کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ایک ڈیپارٹمنٹ میں کام کررہے ہیں اور دوسرے ڈیپارٹمنٹ کو سہل سمجھتے رہے۔ اور یہی دعا کرتے رہے کہ یا رب مجھے اس ڈیپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کروا دیجئے۔ 

یقین کیجئے آپ کی دعا پوری بھی ہوگئی ہوگی مگر جیسے ہی آپ وہاں پہنچے، وہاں کام پہلے سے بہت ذیادہ بڑھ گیا اور آپ کو پھر سے سر کھجانے کی فرصت نہیں رہی۔

اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کہاں رکھنا ہے اور کون کہاں کے لئے موزوں ہے۔  لیکن ہم ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں اور نہ جانے کتنا مال  ضائع کردیتے ہیں اور نجانے کتنے ہی برس خوار کردیتے ہیں اپنی پسند کو حاصل کرنے کے لئے۔   اور آخر میں وہی ملتا ہے جو مقدر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔

دنیا  نے  تیری  یاد  سے  بیگانہ  کر  دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت