زاد ِ راہ


زادِ  راہ کے معنی ہیں  توشہ سفر، لوازم سفر، سامان سفر،  خرچ راہ اور رستے کا توشہ یا خرچ۔

ہر کام کی انجام دہی کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے  ہے اور اسی طرح ہر کا م ، ہر سفر، ہر عمل  کے زاد راہ کے لوازمات بھی مختلف ہوتے ہیں۔

کچھ کام ایسے ہوتے ہیں ، جنھیں انجام دہی سے پہلے ان کی تیار ی کی جاتی ہے۔ جیسے کمرہ امتحان میں پرچہ حل کرنا۔ پرچہ حل کرنے کے لئے اس کی تیاری بہت پہلے سے کرنا پڑتی ہے۔ ہر روز کلاس روم میں  حاضری دی جاتی ہے، ہر روز ہوم ورک کیا جاتا ہے اور پھر سہ ماہی امتحانوں کی تیاری کی جاتی ہے اور اسی طرح سالانہ امتحانوں کے لئے کھیل کود اور دیگر مصروفیات کو خیر باد کہہ کر پوری توجہ اور انہماک سے امتحان کی تیار  ی کی جاتی ہے تب جاکر ایک طالب علم کمرہ امتحان میں پرچہ حل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر آپ کا سفر بہت کڑا ہے اور دشوار گزار  بھی ہے تو آپ کو اس سفر کے لئے ایسا زاد راہ اکٹھا کرنا ہوگا جو آپ کے سفر کو آرام دہ  اور کامیاب بنا دے۔  جیسے آپ کو ایک مضبوط اور لمبے جوتوں کی ضرورت ہوگی، پینٹ اور قمیض بھی مضبوط کاٹن کے کپڑے کی بنی ہوئی ہو۔ دھوپ اور مٹی سے بچنے کے لئے آنکھوں کا چشمہ،  اپنی جان اور سر کو بچانے کے لئے ایک عدد ہیٹ کی ضرورت ہوگی۔  آگ جلانے کے لئے لائٹر یا ماچس، اندھیرے میں سفر کرنے کے لئے ٹارچ، پھل ، سبزیاں اور دیگر کاٹنے کے لئے ایک عدد چاقو، پانی پینے کے لئے گلاس، کھانے کے لئے برتن اور پلیٹیں وغیرہ۔   اور شاید ایک عدد لاٹھی کی ضرورت ہوگی تاکہ خونخوار جانوروں اور دیگر خطرات سے نبٹا جاسکے۔

کسی کو ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہے تو اس کے لئے زاد راہ مختلف ہوگا۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جتنا عالی مرتبت مقصد ہوگا  اس کے لئے زاد راہ بھی اسی قدر زور آور درکار ہوگا۔یہی نہیں بلکہ زاد راہ  کے ساتھ ساتھ  نیت میں اخلاص، عمل پیہم،                 سچی لگن، علم دوستی اور مقصد میں سنجیدگی ضروری ہیں۔

زاد راہ، کسی بھی سفر یا کام  کے حصول کی ایسی جزیات ہیں جس کی مدد  سے آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔                 

زاد راہ ایسے لوازمات ہیں  جو آپ کو نا تو اپنے مقصد سے بھٹکاتے ہیں، بلکہ آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی کی کنجی ثابت ہوتے ہیں۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے امور انجام دینے سے پہلے اس کا م کی اکائیوں پہ عمیق طریقے سے غور کرے اور جو بھی درکار ہو اسے محفوظ طریقے سے اپنے ساتھ رکھے اور اپنے زاد راہ سے قطعی غافل نہ ہو۔ اور جہاں جہاں زاد راہ کی ضرورت ہو اسے سلیقے سے  بروئے کار لائے تاکہ خاطر خواہ نتائج برآمد ہوسکیں۔

یہ دنیا  اس کے لئے حقائق اور سچائیوں کا گھر ہے جو اس کی حقیقت کو پہچان لے ،یہ اس کے لئے دارِ عافیت ہے جو اسے اچھی طرح سمجھ جائے ۔  یہاں جو سمجھداری سے کام لیتا ہے اسے کامیابی کا منہ نصیب ہوتا ہے۔ 
اس دنیا میں ایک مسلمان کی زندگی  ایک امتحان ہے جسے پاس کرنے والے جنت کے حق دار ہوں گے اور جو خدا نخواستہ اپنی غفلت، کوتاہی اور ناسمجھی کی وجہ سے ناکام ٹھہرائے گئے تو ان کا انجام بہت ہولناک اور تکلیف دہ ہوگا۔

ایک عقل مند، زیرک اور صاحب فکر انسان اس زندگی کو کامیابی سے  گزارنے کے لئے اپنے ساتھ ایسا زاد راہ کا اہتمام کرکے رکھتا ہے جو اسے اس دنیا میں فخر سے جینے اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کروانے میں ممد و معاون ثابت ہوسکے۔

یہ   زادِ  راہ  کسی  مرحلے  میں  رکھ  دینا
کوئی  گلاب  مرے  راستے میں رکھ دینا

دنیاوی زندگی  ہماری آخرت کی کھیتی ہے۔ ہم جو یہاں بوئیں گے آخرت میں وہیں کاٹیں گے۔ یہ زندگی ایک نعمت ہے، ایک موقع ہے جس  میں ہم اپنے کردار، اپنے عمل اور اپنے علم سے ناصرف خود کامیاب ہوسکتے ہیں بلکہ بے شمار دوسرے انسانوں کوبھی اس دنیا میں اور آخرت میں کامیاب و کامران کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جس طرح ہم دیگر معاملات میں اپنے ساتھ ضروری لوازمات کا اہتمام کرکے رکھتے ہیں اسی طرح ہمیں چاہیے کہ اس زندگی کو کامیابی سے گزارنے کے لئے زاد راہ جمع کرکے اسے بروئے کار لاتے ہوئے کامیاب ہوجائیں۔

اس زندگی میں کامیابی کے لئے ہمیں سب سے پہلے اللہ تعالی پہ اپنے ایمان کو انتہائی درجہ پہ مضبوط کرنا ہوگا۔  اس کے بعد ہمیں اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ پہ عمل پیرا ہونا ہوگا۔ تیسرے اللہ تعالی کے احکامات کو من و عن اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوگا تاکہ مقصد حیات  سے بھٹک نہ جائیں۔  چوتھے کلمہ حق کی آواز کو بلند کرنا ہوگا تاکہ کوئی ہمارا یا ہمارے کسی ساتھی کا حق نہ مار سکے۔پانچویں پاکیزگی، طہارت، اخوت، سچائی  اور عف و درگزر کو ہمہ وقت اپنائے رکھنا ہوگا تاکہ قرب الہی حاصل کرسکیں۔ چھٹے تقوی کو  بھرپور انداز میں اختیار کرنا ہوگا کیونکہ تقوی انسان کو برائیوں سے بچانے میں مددگار ہوتا ہے اور اچھائیوں کی فکر دیتا ہے اور اچھائیوں کی ترغیب بھی دیتا ہے۔

اللہ تعالی نے اپنی کتاب مبین اور حضور صلعم کی سیرت طیبہ کے ذریعے ہمیں  ایسی تعلیم  دے دی ہے جس پہ پابندی سے عمل کرکے ہم آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

عزم  سفر  تو  ملک  عدم  کا ہے اے قلقؔ
کچھ اپنے ساتھ لے بھی چلے زاد راہ آپ



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت