شادی


شادی کا لفظ فارسی زبان کے لفظ شاد (بے غم، خوش حال)  کے ساتھ لاحقہ کیفیت  "ی" کے اضافہ سے  وجود میں آیا۔  اس کے معنی ہیں خوشی، مسرت، انبساط۔ بنیادی طور پر شادی کی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ وہ رسم یا قانونی معاہدہ جس کے ذریعےمرد  کو شوہر اور عورت   کو بیوی  کی حیثیت سے رشتہ ازدواج میں منسلک کیا جاتا ہے۔ اور معاشرے میں ایک نئے گھرانے کا اضافہ ہوتا ہے۔ 

شادی  (نکاح ) ایک ایسا رشتہ ہے جو معاشرت کا نقطہ آغاز ہے۔ اس میں ایک مرد اور عورت مل کر معاشرے کی اکائی یعنی ایک خاندان بناتے ہیں۔ ایک اچھا جوڑا، اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت قرار دیا جاتاہے۔ 

شادی صرف ایک   ہی عورت سے ہوتی ہے کیونکہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم کی تخلیق کی تو اماں ہوا کو پیدا کیا۔  اگر ایک مرد کے لئے چار چار بیویاں ضروری ہوتیں تو اللہ تعالی چار اماں ہوا پیدا کرتے۔ یہ چار بیویوں کا تصور انسان کی کج فہمی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ یہ نا تو عورت کے لئے ممکن ہے اور نا ہی مرد اس آزمائش کا متحمل ہوسکتا ہے۔  چار شادیاں ایمرجنسی صورت حال (جنگ یا بیماری میں اکثریت مردوں کی تعداد لقمہ اجل بن جائے) میں یتیم اور بیوہ عورتوں کی کفالت کے لئے ہوتا ہے۔ 

ایک وقت میں ایک ہی بیوی انسان کی ضرورت ہے اور اگر میاں بیوی کے درمیان کوئی کھنچاؤ یا بدمزگی ہے تو اسے افہام و تفہیم سے دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن طلاق  یا دوسری شادی  کرنا افضل عمل نہیں ہے۔مردوں کو ازدواجی زندگی میں یہ  ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے عورت کے اندر جتنا حیاء کا مادہ  رکھا ہے اگر یہ مادہ اس مقدار میں نا ہوتا تو یہ دنیا فحاشی سے بھر جاتی۔ شوہر اور بیوی میں اعتماد اور احترام کا رشتہ ان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

شادی ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کا رشتہ ہے اگر اس میں کوئی رخنہ یا دڑاڑ آجائے تو یہ اصلاح کے قابل نہیں رہتا۔

شادی کی ضرورت:

ایک نوجوان جو تعلیم سے فارغ ہوکر برسرروزگار ہو، وہ   جب تک بیوی جیسی لائف پارٹنر سے محروم رہتا ہے اس کی زندگی خانہ بدوشوں جیسی ہوتی ہے۔ اس کی بہت  سی صلاحیتیں محدود ہوکر رہ جاتی ہیں بلکہ دب کر  رہ   جاتی   ہیں۔  اسی طرح عورت جب تک شوہر سے محروم  رہے، اس کی حیثیت انگور کی اس بیل کی طرح ہے جو سہارا نہ ملنے کے باعث پھیلنے اور پھلنے پھولنے سے محروم  رہ جاتی ہے۔ 

 عورت کو مرد مل جائے اور مرد کو بیوی کی رفاقت حاصل ہوجائے تو دونوں کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں اور زندگی کے میدان میں دونوں مل کر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔   اور اللہ تعالی ان دونوں کی جدوجہد میں برکت دیتا ہے اور ان کے حالات خوش گوار طور پر  بالکل بدل جاتے ہیں۔ 

شادی کے لئے مناسب عمر کیا ہے:

نوجوانوں کی شادی اس وقت ہو جانی چاہیے جب وہ واقعی نوجوان ہوں۔ وقت پر شادی کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مرد و زن کی زندگی اکثر مفسدات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔  وقت پہ شادی کرنے سے پاکدامن معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں نفسیاتی طور پر صحتمند شخصیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ 

سترہ سے بائیس سال کی عمر کے نوجوانوں میں ہارمونز پورے طور پر متحرک ہوتے ہیں۔  جب کوئی بھی نوجوان لڑکا ہو یا لڑکی اس کے چہرے پہ قدرتی  شادابی ، جاذبیت، دلکشی  ، حسن اور کشش ہوتی ہے اور انسان کسی عام سی شکل کے لڑکے یا لڑکی سے بھی شادی کرنے پر تیار ہوجاتاہے۔ یہی  مناسب وقت ہوتا ہے جب شادی کرنا چاہیے۔   زندگی کا حسین ترین دور وہ ہوتا ہے  جب   انسان شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد  اپنے گھر کے علاوہ ایک دوسرے خاندان کے افراد سے میل ملاپ کرتا ہے۔   رشتوں کو نبھانے ،   انھیں جوڑے رکھنے کے گوں نا گوں مراحل سے گزرتا ہے۔اور مہر و وفا کرنا سیکھتا ہے۔

بیس بائیس سال کی عمر کے بعد شادی میں جتنی تاخیر ہو اسے تاخیر ہی سمجھنا چاہیے۔ تاہم شادی کے لئے  لڑکیوں کے لئے آخری حد عمر 21 تا  28 سال ہے جبکہ مردوں کی عمر  25  تا  32 سال ہے۔ اس دوران  شادی ضرور کردیں۔  کیونکہ یہ ڈھلتی ہوئی عمر ہوتی ہے اور رشتے  تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں۔  

شادی کے لئے اصل عمر تو یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں ذہنی طور پر اتنے سمجھدار ہوں جو  زمانے کے اتار چڑھاؤ سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اور معاشرتی مسائل سے بھی باخبر ہوں۔  دونوں فریقوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا اچھی طرح ادراک ہونا چاہیے۔  خصوصا ً  مالی معاملات کو کس طرح سنبھالنا ہے۔ دونوں فریقوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ زندگی محض کھیل کود کا نام نہیں بلکہ عملی زندگی قربانیاں مانگتی ہے۔ اور دونوں فریقوں میں قوت برداشت کا ہونا  بہت ضروری ہے اور ذاتی انا کو کبھی آڑھے نہ آنے دیں ۔   اور اولاد کی اہمیت کو سمجھیں، ان کی تربیت کا بیڑا اٹھانے کا حوصلہ ہونا ضروری ہے، اپنی مالی حالت کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے خاندان کو بڑھایئے۔  کیونکہ اولاد کا اچھا ہونا ضروری ہے ناکہ جم غفیر۔

کچھ لوگ کم عمری میں پختہ ذہن کے ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ بڑے ہوکر بھی بڑے نہیں ہوپاتے۔  تاہم شادی کے لئے ضروری ہے کہ لڑکا اور لڑکی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح باخبر ہوں اور مالی معاملات کو عقل اور د لیل سے سلجھانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

اگر لڑکی کی تعلیم مکمل ہوگئی ہے اور امور خانہ داری میں ماہر ہے تو اس کی شادی کردیں۔   کیونکہ جیسے جیسے عمر ڈھلتی ہے چہرے کا روپ مانند پڑنے لگتا ہے۔  

اسی طرح اگر لڑکا تعلیم سے فارغ ہوگیا ہے اور برسرروزگار ہے تو اس کی شادی  کردیں تاکہ عائلی زندگی کا آغاز کرکے  معاشرے میں اپنی جگہ بناسکے۔

شادی کے لئے عمر کا فرق:

بڑی عمر کی عورت کم عمر مرد کے ساتھ ازدواجی تعلقات کو پسند کرتی ہے۔  اور مرد بھی عورت کی خود اعتمادی ، ذہنی پختگی پسند کرتا ہے۔ جس کے باعث یہ رشتہ اور مضبوط ہوتا ہے۔  اس کے علاوہ  دونوں کی زندگی بہت پرسکون گزرتی ہے۔  بڑی عمر کی عورت ایک اچھی ماں کے طور پر اپنے بچوں کا خیال رکھتی ہے۔  بڑی عمر کی عورت اپنے خاوند کو کاروبار یا نوکری کے بارے میں اچھے مشورے دیتی ہے، گھریلو معاملات کو بہترین انداز میں دیکھتی ہے اور انہیں سلجھانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

جبکہ چھوٹی عمر کی عورت مرد کے لئے بے شمار مشکلات کھڑی کرتی ہے۔ اور مرد کو سمجھنے کی بجائے اپنی رائے اور اپنی خواہشات کو اہمیت دیتی ہے۔چھوٹی عمر کی عورت ہمیشہ اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو اپنے خاوند کے سر تھوپ کر اپنے آپ کو  کسی خطا سے پاک رکھنا چاہتی ہے۔   ایک کم عمر عورت سے نبھاہ اس لئے بھی مشکلات سے دوچار ہوتا ہے کہ ذہنی ہم آہنگی میں بہت فرق ہوتاہے۔  

اگر عورت اپنی ذات سے بلند ہوکر خود کو مرد کی حاکمیت میں دے دے اور جہاں ضرورت ہو اپنی رائے کا اظہار کرکے معاملات کو سلجھانے میں اپنے شوہر کی مدد کرے تو یہ بہترین ازدواجی زندگی ہوسکتی ہے۔ مسلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب عورت اور مرد کی سوچ میں یگانگت نہ ہو۔

شادی پسند کی ہو یا والدین کا انتخاب ، جب تک شیریں کلامی، نرم خوئی، صبر، برداشت اور درگزر سے کام نہ لیا جائے تو دونوں ہی ناکام   ہوجاتی ہیں۔ 

لڑکیاں سسرال جاتے ہی وہاں راج کرنے کی نہ سوچیں، بلکہ اپنی جگہ بنائیں، محبتیں پھیلائیں، دلوں کو جیتیں۔   عقلمند عورت وہ ہے جو اپنے شوہر  کی پسند کو اپنی پسند، شوہر کی ناپسند کو اپنی ناپسند سمجھے۔   ایسا کرنے سے ایک دن خود راج کا تاج  آپ کے سر سجا دیا جائے گا۔

شادی میں تاخیر کا سبب:

اگر شادی میں کسی وجہ سے تاخیر ہوجائے تو نوجوان خصوصا ً  لڑکیاں   جو جسم میں کام کرنے والے ہارمونز کے زیر اثر پیدا ہونے والے احساسات  کے باعث اپنے  ذہن میں صنف مخالف کا ایک رومانوی خاکہ ترتیب دیتی ہیں جو حقیقی زندگی سے بہت ذیادہ دلکش اور حسین ہوتا ہے۔  اور ایسی لڑکیوں کا ذیادہ وقت آئینے کے سامنے گزرتا ہے۔ اور ان کے خوابوں کا شہزادہ نجانے کہاں  گم   رہتا ہے۔ بہت سی لڑکیاں اسی وجہ سے نکاح نہیں کرپاتیں  کہ انھیں   موزوں رشتہ نہیں ملا۔  اس مسلے نے ہر گھر میں  اضطراب اور ہیجانی کیفیت برپا کر رکھی ہے۔ 

بعض  لڑکوں کی شادی نئے مکان کی منتظر ہوتی ہے۔  لڑکے کی عمر پینتیس برس ہوگئی  لیکن سوچ یہ ہے کہ نیا گھر بناؤں گا پھر شادی کروں گا۔  ایسے لڑکوں کے لئے مشورہ ہے کہ پہلے شادی کرو، نیا گھر بناتے بناتے تم پرانے مکان نہ بن جانا۔  مجبوری میں ایک کمرہ بھی ہو تو نکاح کرکےبیوی  گھر لے آؤ،  اللہ تعالی تمہارے رزق میں برکت دے گا پھر نیا  مکان بھی بن جائے گا۔  ظاہر نمود و نما‏ئش چھوڑو اور برائی سے بچو۔

 کچھ لوگ شادی کو بوجھ سمجھتے ہیں  کہ  اس مہنگائی کے دور میں کیسے بچوں کی کفالت کرسکیں گے۔  ایسی سوچ ہمارا اپنا  انتخاب ہے ۔   جبکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں نکاح کرو رزق میں اضافہ ہوگا۔ اور اسی طرح کثرت اولاد بھی   دینی مطالبہ نہیں ہے۔  اس کا فیصلہ والدین کو اپنے حالات اور مالی وسائل کے اعتبار سے کرنا چاہیے۔ 

شادی کے لئے بہترین لڑکی کون ہے:

عربوں کے ہاں  مشہور ہے کہ   وہ اپنے بیٹوں کو  نصیحت کرتے ہیں کہ   ان سات قسم کی عورتوں (انانہ،  براقہ،   حداقہ،  حنانہ،   شداقہ،   کنانہ اور منانہ) سے شادی نہ کرنا، خواہ وہ کتنی ہی حسین و جمیل ہوں یا مالدار ہوں۔ وہ سات عورتیں کون ہیں:-

انانہ:- ایسی عورت جو ہمیشہ سر پر پٹی  یا ڈوپٹہ وغیرہ باندھے رکھے۔  کیونکہ شکوہ و شکایت اس کا معمول ہوتا ہے۔  
براقہ:- وہ عورت جو ہر وقت اپنی چمک دمک  اور شان و شوکت میں مگن  رہے-
حداقہ:- ایسی  عورت جوشوہر  سے ہر وقت فرمائش ہی کرتی رہے، جو چیز بھی دیکھے یا پسند آئے اس کی طلبگار ہو جائے-
حنانہ:- ایسی عورت جو ہر وقت اپنے سابقہ شوہر یا گھر والوں کو   ہی یاد کرتی رہے  اور کہے کہ وہ تو بڑے اچھے تھے مگر تم ویسے نہیں۔ 
شداقہ:- وہ عورت جو  چرب زبان   ہو اور ہر وقت باتیں بنانا ہی اس کا کام ہو-
 کنانہ:- ایسی عورت جو ہمیشہ ماضی کو یاد کرے کہ فلاں وقت میں  میرے     پاس یہ تھا  اور وہ تھا۔ 
منانہ:- وہ عورت جو ہر وقت مرد پر اپنا احسان جتاتی رہے۔  اور گلہ کرے کہ مجھے تجھ سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

شادی اور صحت کا تعلق:

شادی کا تعلق اچھی صحت سے  جڑا ہوا ہے۔  سرطان جیسے موذی مرض  کے شکار شادی شدہ مریضوں میں اس بیماری سے بچنے کا امکان کنوارے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

شادی شدہ افراد کو زیادہ بہتر سماجی معاونت حاصل ہوتی ہے جو ان کو  کسی بھی  جان لیوا مرض سے بچانے میں ممد و معاون  ثابت ہوتی ہے۔

آپ کا شریک حیات روزمرہ کی بنیاد پر آپ کی زندگی بچانے کا باعث  ہوتا ہے۔

درمیانی عمر کے شادی شدہ افراد اپنے غیر شادی شدہ ساتھیوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر زیادہ صحت مند، مضبوط گرفت اور تیز چلتے ہیں۔

شادی شدہ افراد مطلقہ افراد کے مقابلے میں زیادہ تیز چلتے ہیں جبکہ مطلقہ خواتین کی گرفت کمزور ہوجاتی ہے۔

شادی شدہ جوڑا کو   اپنے تحفظ کا زیادہ خیال،    بہتر نیند،   تناؤ کی سطح میں کمی،   دماغی امراض سے تحفظ،  طویل زندگی،   فالج کا امکان کم ہوتا ہے،   ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ 


شادی کرنے میں  8 حیران کن طبی فوائد ہیں:

1 آپریشنز کے بعد بچنے کا زیادہ امکان -  ایک اچھا شریک حیات بڑی سرجری کے بعد صحت یاب ہونے میں   مددگار ثابت ہوتا ہے جیسے دل کا بائی پاس وغیرہ۔  خوش باش جوڑوں کا بڑی سرجری کے 15 سال بعد بھی زندہ ہونے کا امکان تنہا افراد کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اچھا رشتہ لوگوں کو تندرست رہنے میں مدد دیتا ہے تاہم ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب جوڑا   ایک دوسرے سے مطمئن ہو۔

2 اپنے تحفظ کا زیادہ خیال -  شادی شدہ جوڑے کے اندر خطرناک سرگرمیوں کا حصہ بننے کا امکان کم ہوتا ہے جیسے خطرناک انداز سے ڈرائیونگ کرنا   یا  مضر صحت  اشیاء(نشے کا استعمال) سے دوری وغیرہ۔ جب لوگوں کی شادی ہوجاتی ہے تو ان کے اندر خطرناک اقدامات کے رجحان میں نمایاں کمی آتی ہے اور اس کی وجہ ممکنہ طور پر ان لوگوں کا احساس ہوتا ہے جو ان پر منحصر ہوتے ہیں (بیوی، شوہر اور بچے) اور اس وجہ سے وہ اپنے تحفظ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔

3 بہتر نیند - اگر شریک حیات سے تعلق خوشگوار ہے تو آپ کی نیند بھی نامطمئن جوڑوں یا تنہا افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ شادی کے بعد تعلق خوش باش ہو تو لوگوں کی نیند کا معیار بہتر ہوجاتا ہے تاہم ناخوش جوڑوں میں یہ نیند متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور اگر بے خوابی کی شکایت ہو تو  موٹاپے سمیت چڑچڑے پن اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

4 تناؤ کی سطح میں کمی -  شادی کے بندھن میں بندھ جانا  لوگوں کے اندر ذہنی تناؤ یا مایوسی کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کردیتا ہے۔ طویل المعیاد خوش گوار  تعلق ان ہارمونز میں تبدیلی لاتا ہے جو تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔ اگرچہ شادی کے بعد کی زندگی بیوی بچوں کی دیکھ بھال اور معاشی تناؤ جیسے چیلنج سے بھرپور ہوتی ہے مگر شادی شدہ افراد کے لیے اپنی زندگیوں کے دیگر مسائل پر قابو پانا کافی حد تک آسان ہوتا ہے۔

5 دماغی امراض سے تحفظ - شادی شدہ مرد اور خواتین میں متعدد دماغی امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ شادی شدہ جوڑے کے اندر ذہنی دباؤ   کی شرح کم ہوتی ہے اور دیگر نفسیاتی امراض   لاحق ہونے کا خطرہ کنوارے افراد یا مطلقہ افراد کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔

6 فالج کا امکان کم ہوتا ہے - شادی شدہ مردوں میں جان لیوا فالج کے دورے کا خطرہ تنہا مرد کے مقابلے میں بہت  کم ہوتا ہے۔  غیرشادی شدہ افراد کے مقابلے میں شادی شدہ افراد کو فالج کی صورت میں فوری طبی امداد   میسر ہونے کے امکان ہوتے ہیں۔ 

7 ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوجاتا ہے  -  شادی کرنا مرد اور خواتین دونوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کردیتا ہے۔ شادی سے ہر عمر کے مرد اور خواتین میں خون کی شریانوں کے مسائل سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے اور اس کی وجہ شادی شدہ افراد کی صحت مند زندگی گزارانا، زیادہ دوست اور عزیز و اقارب کی مدد کا  حاصل ہونا ہوتا ہے۔ جبکہ کنوارہ انسان کتنا ہی شریف النفس ہو معاشرے میں اسے ہر جگہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر فیملیاں سنگل لوگوں کے ہاں کم آتی ہیں۔

8  طویل زندگی -  شادی کا سب سے بڑا فائدہ طویل العمری ہے۔ شادی کے بعد جوڑوں کی زندگی کے دورانیے میں کئی برسوں تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ غیرشادی شدہ افراد میں جلد موت کا خطرہ دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

شادی بیاہ کی تقریبات :

دنیا میں معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے بہت سی نفسیاتی بیماریاں پیدا ہوگئی ہیں ۔ جس کا باعث خود بنی نوع انسان ہے۔ جیسے معاشرے کی بے جا  رسم و رواج  نے ایک عام انسان کی زندگی میں پریشانیوں کو پروان چڑھایا ہے۔ اور یہ سلسلہ کہیں رکنے کا نام نہیں لیتا بلکہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ جبکہ کوئی بھی ذی شعور انسان اسے ہمارے معاشرے کے موافق نہیں سمجھتا مگر اس کے خلاف آواز اٹھانے والے کہیں نہیں دکھائی دیتے۔ 

شادی بیاہ ایک فطرتی عمل ہے جو ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے نکاح برائیوں سے روکتا ہے اور خاندان بڑھانے کی علامت ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پہ  افراد کی خوشی قابل دید ہوتی ہے۔ اسلام  ایسے موقع پر خوشی منانے سے منع نہیں کرتا،  بلکہ نکاح کے بعد دلہے کی طرف سے ولیمہ کا اہتمام، شرعی طریقے سے خوشی کا اظہار ہے۔ مگر ہم لوگ شادی بیاہ کی فضول خرچیوں میں اسراف سے کام لیتے ہیں  اور بہت سی  غیر ضروری رسموں  کی وجہ سے شادی کی تقریبات میں بھی حد سے تجاور کرجاتے ہیں۔ 

معاشرے کے امیر لوگ جو صاحب ثروت   ہیں  انھیں اپنا مال و دولت نمائش  کرنے کی خواہش نے معاشرے کو جکڑ کر رکھ دیا ہے۔  اور بہت سے متوسط طبقہ کے لوگ معاشرے کی اس غلط روایت کی نظر ہورہے ہیں۔ یہ سب فضولیات جھوٹی شان و شوکت  اور انا   لوگوں کو خوب آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔  زندگی بھر کی جمع پونجی بھی شادیوں کے لئے ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔  لوگ سود پر قرض لے کر شادیاں کررہے ہیں۔ اور برسہا برس قرض کے بوجھ تلے دب کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔

معاشرے  میں دکھاوے کی یہ فضا بہت سے مجبور والدین کو ذہنی مشقت اور نفسیاتی آگ میں جھونک رہے ہیں۔ ایسی کیفیت سے انسانی معاشرے میں نفرت اور نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔  بہت سی شادیاں  انہی جھوٹی انا پرستی، فضول خرچیوں اور رسموں کی وجہ سے نہیں ہوپارہیں۔ ایسی سماجی تنظیمیں جو اجتماعی شادیوں کا اہتمام کرتی ہیں اس کا دائرہ کار بڑھانا چاہیے اور سبھی شادیاں  انہی کے ذریعہ انجام پانی چاہیں۔ 

متوسط طبقے کو اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیں۔ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ اپنانا چاہیے۔ 

یاد رکھیں کہ شادی کے چھ شرعی اعمال ہیں۔ جس میں دو فرائض ہیں۔  ایک ہے ایجاب و قبول اور دوسرا دو گواہ۔  اسی طرح  ایک واجب ہے جسے کہتے ہیں مہر۔  اور اس کے علاوہ تین سنتیں ہیں۔ ان میں خطبہ نکاح،  تقسیم چھوہارہ اور ولیمہ۔  ان اعمال کے علاوہ شادی میں جو کچھ بھی کیا جاتا ہے وہ غیر شرعی اور خلاف سنت ہے۔

ذاتی انا،  دوستوں اور رشتہ داروں کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالی کو نہ ناراض کریں۔

نوٹ: یہ میری ذاتی معلومات اور رائے ہے ۔  آپ میں سے کسی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت