چشم بینا
چشم بینا ایک صفاتی اسم ہے جس کے معنی ہیں دیکھنے والی آنکھ۔ صاحب بصیرت آنکھ، قابل، دانا اور دیدہ ور شخص۔ ایسی آنکھ ہر ایک کے پاس نہیں ہوتی۔ کیونکہ دیکھنے کو تو سبھی انسان اپنی آنکھ سے دنیا کو اور اس کے معاملات کو دیکھتے ہیں۔ لیکن صاحب بصیرت شخص میں یہ صلاحیت ہوتی ہے وہ دنیا کی باریکیوں اور مخفی مشکلات اور مسرتوں کو اپنے تجربے اور علم کی بدولت بہتر طریقے سے دیکھ سکتا ہے اور اس کے مطابق درست فیصلہ بھی کرسکتا ہے۔
مگر آج کے دور کا انسان اس قدر باخبر ہے کہ اسے نا اخبار کی حاجت ہے اور ناہی ٹی وی کے سامنے گھنٹوں بیٹھ کر وقت گزاری کرنے کی ضرورت۔ آج جو معلومات ایک عام انسان کو میسر ہیں ان تک رسائی اور حصول کے لئے ہمیں تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پہلے وقتوں میں بڑے بڑے علماء، فقہاء اور اساتذہ کرام دور دراز کا سفر طےکرکے اپنے اساتذہ کی برسوں خدمت کرکے قدرے کچھ علم حاصل کرپاتے تھے۔
علم کے حصول کے لئے نا صرف سخت گیر سفر کرنا پڑتا تھا بلکہ ایک مخصوص علم کو پانے کے لئے دور دراز علاقے میں موجود عالم تک پہنچنا پڑتا تھا اور اگراستاد گرامی راضی ہوں تو پھر ان کی اور ان کے گھر والوں کی خدمت سرانجام دے کر پورے گھرانے کا دل جیتنے کے بعد علم کا کچھ حصہ حاصل ہوتا تھا جسے بڑے فخر سے طالب علم اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ شمار کرکے اپنا قد اونچا کرتے تھے۔
علم کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک علم الیقین، دوسرا ہے عین الیقین اور تیسرا ہے حق الیقین۔ کوئی کہے کہ بادشاہی مسجد کے اس پار دریائے راوی بہہ رہا ہے۔ یہ بات سننے کے بعد ہم نے یقین کرلیا کہ دریائے راوی فلاں جگہ بہہ رہا ہے اور ہم نے یقین کرلیا اسے کہتے ہیں علم الیقین۔ اگر ہم وہاں جاکر از خود دریائے راوی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اسے کہتے ہیں عین الیقین اور اگر دریا میں اتر کر پانی کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو اسے کہتے ہیں حق الیقین۔
جدید دور میں جہاں بہت کچھ بدل گیا ہے وہیں علم کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دریافت ہوا ہے جسے کہتےہیں گوگل بینی۔ اس میں صارف بغیر کسی مددکے یا جامعہ میں داخلہ لئے بغیر بیک وقت ڈاکٹر / طبیب بن جاتا ہے اور بحیثیت مریض بن کے اسپتال میں جاکر ڈاکٹر کو دکھاتے ہوئے ڈاکٹر کو مشورے دے رہا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب فلاں گولی، کیپسول اور فلاں کریم لکھ دیں۔ ایسے میں تجربہ کار ڈاکٹر اسے فورا فارغ کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسپتال آنے کی زحمت کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے جب اپنا علاج خود کرسکتے ہو۔
ایسا علم نا تو فائدہ مند ہوتا ہے اور نا ہی قابل عمل۔ اسی کو نیم حکیم خطرہ جان کہتے ہیں۔
علم کا حصول اور اس پہ عملی تجربہ انسان کی نظر بینا کو وا کردیتا ہے۔ چشم بینا رکھنے والے موجودہ دور میں رہتے ہوئے ماضی اور مستقبل میں رو نما ہونے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ ان کا تعلق خالق کائنات سے سچا اور پکا ہونے کے ساتھ ساتھ عام انسانوں کی خدمت اور ان کی بہتری کے لئے بے لوث جذبےسے سر شار ہو اور رو بہ عمل ہوں۔

تبصرے