اعمال صالحہ
عمل ِصالح کے معنی ہیں درست عمل۔ انسان کا درست عمل وہی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں اور اس کی حکمت و دانائی کے مطابق ہوں۔
اعمال صالحہ ہر انسان کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کوئی انسان اچھا انسان نہیں کہلا سکتا جب تک اس کا رویہ، اس کا اخلاق، اس کا کردار دنیا والوں کے لئے فائدہ مند نہ ہو۔ انسان کا اچھا کردار انسان کی اخلاقی نشوو نما کے لئے ضروری ہے۔
انسان کے اچھے اعمال اس کی روح کو بالیدگی عطا کرتے ہیں۔ اور انھی اعمال صالحہ کی وجہ سے انسان حیوانی سطح سے بلند ہوکر ملکوتی صفات کا حامل ہوتا ہے۔ اعمال صالحہ ہی انسان کو سماجی اور معاشرتی پہلو سے ترقی دے کر اسے ایک متمدن اور مہذب انسان بناتے ہیں۔
اعمال صالحہ کا تعلق بندوں سے ہوتاہے جبکہ عبادات کا تعلق بندے اور رب سے ہوتا ہے۔ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے ’’ ایمان اور عمل صالح ‘‘ یعنی نیک اعمال۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء۔ آج عمل ہے حساب نہیں، کل حساب ہوگا عمل نہیں۔آخرت میں صرف اعمال صالحہ یعنی نیکی کے کام ہی قابل قبول ہوں گے۔
آخرت کی کرنسی – اعمال صالحہ : کرنسی ایک قدر ہے ، جس کے عوض آپ اپنی ضرورت اور من پسند کوئی سی شے حاصل کر سکتے ہیں۔ جس قدر کرنسی آپ کے پاس ہوگی اتنا ہی آپ خود کو محفوظ و مامون سمجھ سکیں گے۔
دنیا میں کرنسی کی شکل میں روپیہ، ریال، درہم ، پاؤنڈ اور ڈالر وغیرہ ہیں۔ اور دنیا میں یہ کرنسی کسی طرح بھی حاصل کرسکتے ہیں۔یہ کرنسی سخت محنت ، حلال طریقے اور جانفشانی سے حاصل کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ فراڈ، دھوکہ دہی، حرام طریقے اور چوری کے ذریعے اسے حاصل کرلیتے ہیں۔
جبکہ مرنے کے بعد قبر میں اور روز حشر میں جس کرنسی کی ضرورت ہے اسے ایمان کی دولت، پرہیز گاری ، تقوی اور عمل صالحہ کہتے ہیں۔ آخرت کی کرنسی پاکیزہ اور ہر برائی سے پاک ہوتی ہے۔
انسان دنیا میں رہتے ہوئے جس قدر اعمال صالحہ اپنے حساب میں جمع کروا سکتا ہے۔ اس کے لئے بہتر ہے اور جنت کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ آخرت میں اعمال صالحہ کی کرنسی کے ذریعے پہلے کسی کا حق ادا کیا جائے گا (اگر آپ کے ذمہ کسی کا کوئی حق ہے) اور جو کچھ بچ رہے گا اس کا میزان کردیا جائے گا۔ پھر جس کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنت کا حقدار ٹھہرایا جائے گا۔ اس لئے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر اپنے اعمال صالحہ میں اضافہ کرتا رہے تاکہ آخرت میں کسی نقصان یا گھاٹے کا سامنا نہ کرناپڑے۔ کیونکہ وہاں ہر ایک اپنے اعمال صالحہ کی فکر میں ہوگا اور کوئی کسی کو ایک بھی نیکی دینے کا روادار نہیں ہوگا۔ اور کوشش کیجئے کہ کسی کا حق نہ ماریں اور اگر کوئی غلطی ہوجائے تو اسے دنیا میں ہی بے باک کردیں تاکہ آخرت میں آپ کو کوئی خفت نہ اٹھانی پڑے۔
اعمال صالحہ کیا ہیں:
⦁ والدین کا خیال رکھنا، ان کا احترام کرنا اور ان کی ضروریات پوری کرنا۔
⦁ اہل و عیال کا خیال رکھنا، ان کی پرورش کرنا، ان کی ضروریات پوری کرنا اور ان پہ نظر رکھنا۔
⦁ پڑوسیوں اور قریبی لوگوں سے عزت و احترام سے پیش آنا اور ان کے لئے درد دل رکھنا۔
⦁ رشتہ داروں، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر خرچ کرنا۔
⦁ انسانیت کی فلاح کے لئے علم کا فروغ، سماجی مسائل کے لئے اپنا وقت نکالنا، مظلوم لوگوں کی آواز بننا، اور لوگوں کی مشکلات کم کرنا۔
⦁ ملک اور قوم کی بقاء اور استحکام کے لئے مال سے، جان سے اور اپنے کردار سے برائیوں کو روکنا اور کسی ہنگامی صورت حال میں اپنا عملی کردار ادا کرنا۔
⦁ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نیک نیتی سے سرانجام دینا اور حلال روزگار کمانا۔
⦁ لین دین میں دھوکہ دہی نہ کرنا اور جو مال فروخت کریں اس میں ملاوٹ نہ ہو۔
اعمال صالحہ کے فائدے:
زمین کی خلافت: اللہ نے سورۃ النور کی آیت نمبر 55 میں وعدہ کیا ہے کہ اگر میرے بندے ایمان لانے کے بعد عمل صالح کرتے ہیں تو میں انہیں زمین کی خلافت اسی طرح عطا کر دوں گا جیسا کہ میں نے پہلے کے لوگوں کو عطا کیا اور ان کے خوف کو امن میں تبدیل کر دوں گا۔
خوش گوار زندگی: جو بھی عمل صالح کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت تو ہم اس کی زندگی کو خوش گوار اور پاکیزہ بنا دیں گے اور ہم انہیں ان کے عمل کا ضرور بہترین بدلہ دیں گے" سورة النحل کی یہ آیت نمبر 97 بتاتی ہے کہ جو بھی عمل صالح انسان کرے گا تو اس کے بدلے میں اللہ اس کی پریشانیوں کو دور کرکے اسے بہترین زندگی عطا کر دے گا۔
خوف اور غم سے نجات: اللہ نے قرآن مجید کی متعدد آیات میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو ہم خوف اور غم سے آزاد کر دیتے ہیں، پھر انہیں دنیا کی کسی بھی چیز اور شخص کا خوف لاحق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ "لومۃ لائم" کی پرواہ کرتے ہیں۔ یہ لومۃ لائم کیا چیز ہے؟ لوگ کیا کہیں گے، اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو فلاں کیا کہے گا، برادری کی طرف سے ملامت کا ڈر ہے، دوسرے عام لوگوں کی ملامت کا ڈر ہے
سب سے بہترین مخلوق: اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سورۃ البینۃ کی آیت نمبر 7 میں ارشاد فرمایا ہے کہ :
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اُولٰٓئِكَ هُـمْ خَيْـرُ الْبَرِيَّةِ
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے یہی لوگ بہترین مخلوقات ہیں۔
عمل صالح کے ان فوائد کو جاننے کے بعد ہر بندے کی یہ خواہش ہونی چاہیئے کہ وہ نیک عمل کر کے ان فوائد کو حاصل کر لے اور اپنے آپ کو اجر عظیم کا مستحق بنا لے۔

تبصرے