عداوت


اس کے معنی ہیں  بغض، بیر، بداندیشی، برائی، بُرا دل، لڑائی، کڑوا پن، تندی، تُرشی، جلن، رنج، آزردگی، افسوس،  دل سوزی، غم،  بگاڑ،  بھڑاس،   پھوٹ، تنازع،   اختلاف،  حسد،  جھگڑا، خصومت،  دشمنی،   عناد،  مخاصمت،  مخالفت،  کینہ ، تلخ عداوت،   بدخواہی،  معاندت اور نفرت کرنا۔

محبت کا مآخذ محب ہے یعنی پیار،  الفت، آشنائی، قربت،   اور عداوت کا مآخذ ہے عدو ہے۔ دشمن جو ہر وقت گھات لگا کر چھپ کر شکار کرنے کے لئے بے قرار رہے، ہمیں دنیا سے ختم کرنے کے درپے ہو اور ہمیں ذلیل و رسوا کرنے کے لئے  بے چین ہو۔

محبت اور عداوت کبھی پوشیدہ نہیں رہ سکتے کیونکہ دونوں جذبات دل کے احساسات سے جڑے ہوئے ہیں۔ محبت کا  تعلق انسیت، قربت،  چاہت سے جڑا ہوا ہے جبکہ عداوت کا تعلق نفرت،   بغض اور حسد سے جڑا ہوا ہوتاہے۔

محبت میں انسان اپنی جان قربان کردینے کو تیار رہتا ہے اور عداوت میں انسان جان کے درپے ہوتاہے۔  گویا محبت ایک مثبت عمل ہے اور عداوت  منفی رجحان ہے۔

مگر دونوں جذبے   ایک طویل تعلق داری پر مبنی ہوتے ہیں۔  محبت راتوں رات اجاگر نہیں ہوتی اور اسی طرح عداوت بھی ایک دن میں نہیں پنپتی۔

محبت میں  شک و شبہات کا کوئی گزر نہیں ہوتا جبکہ عداوت سراسر شکوک و شبہات پر جنم لیتی ہے۔ محبت ایک دائمی رشتہ ہے اور عداوت ایک وقتی  وہم  اور خود غرضی ہے۔  محبت میں کمزور کو سنبھالا دیا جاتا ہے اور اس کی توقیر میں اضافہ کیا جاتا ہے جبکہ عداوت میں کمزور کو زور بازو کے ذریعے بے توقیر کیا جاتا ہے۔   یعنی محبت اور عداوت دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

محبت میں مسکراہٹوں کا تحفہ  تقسیم کیا جاتا ہے۔ عداوت میں مسکراہٹوں کا گلا دبایا جاتا ہے۔   محبت دوام زندگی ہے اور عداوت اختتام زندگی ہے۔  اگر محبت طلوع آفتاب ہے تو عداوت غروب آفتاب ہے۔

 محبت انسانوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کردیتی ہے   اور عداوت  قربتوں میں دوریاں پیدا کردیتی ہے۔ اگرآپ کسی سے محبت کے لئے روا دار نہیں ہیں تو  کم از کم آپ اپنے دل کو عداوت سے پاک کرلیں۔ کیونکہ عداوت کا جذبہ آپ کے دل و دماغ پہ ایک مسلسل بوجھ کی طرح حاوی رہتا ہے جو آپ کو اٹھتے بیٹھتے کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ اپنے ہدف کو کس طرح  نشانہ بنایا جائے۔ کسی کو نقصان پہنچانے سے آپ کو صرف وقتی احساس برتری ضرور حاصل ہوگا مگر آپ ہمیشہ ہمیشہ اپنی یاد داشت پہ منفی بوجھ پیدا کرلیں گے جو آپ کو اچھا انسان بننے میں نا صرف رکاوٹ ثابت ہوگا بلکہ آپ کو اپنے کئے پہ شرمسار بھی کرتا رہے گا۔ 

اس لئے بدلے کی آگ سے کنارہ کشی انسان کو پرسکون اور مطمئن  کرکے آپ کو دائمی خوشیاں دے سکتی ہے۔ جبکہ کسی کو نقصان پہنچا کر صرف شیطانی صفات کو تسلی دی جاسکتی ہے۔  اور یہ مت بھولیئے کہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے ۔جس کا مشن آپ کی شخصیت کو مسخ کرنا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت