نقطۂ نظر
نقطہ نظر کے معنی ہیں احساس ، انداز، تناظر، جذبات، جگہ، حالت، خیال، رائے، رویہ، زاویہ نگاہ، صورت، عقیدت، کونہ، کیفیت، گوشہ، مقام، منظر، موقع، مؤقف، نظارہ، نقطہ نگاہ، وضع، کسی کے بارے میں اپنا نظریہ ، ترچھی وضع اختیار کرنا، کوئی ذہنی میلان لئے ہونا، کسی خاطر جھکاؤ اور کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا۔
نقطہ نظر ایک خاص رویہ ہے، کسی معاملے پر غور کرنے کا طریقہ ہے، کسی کے بارے میں سوچنے کا انداز ہے، کسی کو دیکھنے کا طریقہ ہے، کسی کے بارے میں خاص سوچ اور خاص خیالات بھی نقطہ نظر کے زمرے میں آتے ہیں۔
نقطہ نظر ہر ایک انسان کا الگ الگ ہوتا ہے مگر کچھ نقطہ نظر بہت سے افراد کا ایک جیسا بھی ہوسکتا ہے۔
نقطہ نظر چیزوں پر غور کرنے کا زاویہ ہے، جو ہمیں ایک صورت حال میں شامل افراد کی رائے یا احساسات سے ظاہر ہوتا ہے۔
ادب میں نقطہ نظر مصنف کا وہ انداز بیان ہے جو وہ پڑھنے والوں کو اپنی کہانی ، نظم اور مضمون میں بیان کئے گئے واقعات کو دیکھنے اور سننے کی صلاحیت بہم پہنچاتاہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہر انسان اس دنیا میں جب پیدا ہوتا ہے تو وہ شعوری طور پر کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ بے سمجھ بچے کا ذہن ، عقیدہ اور نقطہ نظر اس کے والدین، اس کا قریبی ماحول استوار کرتے ہیں۔ اور اگر بچے کا مذہبی ذوق ہے تو وہ کسی جماعت ، گروہ یا فرقے سے متاثر ہوکر اپنا ذہن اس طرف مائل کردیتا ہے۔ اور وہاں ایک ہی جیسے خیالات بار بار سن کر ، پڑھ کر اور اپنے ساتھیوں کو ایک جیسا عمل کرتے ہوئے دیکھ کر وہ اپنا مخصوص ذہن بنا لیتاہے اور ایک نقطہ نظر رکھتا ہے۔
نقطہ نظر کو سمجھنے کے لئے آپ ایک سفید کاغذ لیں، اسے رول کریں اور اس رول پر ربڑ بینڈ لگا دیں۔ اس طرح یہ کاغذ ایک نلکی نما بن جائے گا۔ اسے اپنی آنکھ پہ لگا کردیکھیں آپ کو وہی کچھ نظر آئے گا جو نلکی کا قطر ہوگا۔ اس سے ذیادہ دیکھنے کے لئے آپ کو نلکی کو بڑا کرنا پڑے گا۔ یاد رکھیئے نلکی کے قطرکے اندر سے جو دکھائی دیتا ہے وہ ہی نقطہ نظر ہے۔ نلکی جتنی باریک ہوگی، نقطہ نظر بھی اتنا ہی محدود ہوگا۔ اور نلکی جتنا کشادہ ہوگی، نقطہ نظر بھی اتنا وسیع ہوگا۔
یاد رکھئے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو نقطہ نظر ہمارا ہے، سبھی اس سے متفق ہوں۔ بلکہ کوئی ایک نقطہ نظر نہیں ہوتا، بلکہ ایک سے ذیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن ہم دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے یا پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اپنے نقطہ نظر کو ہی آخر سمجھتے ہیں۔ یوں انسان سچائی کو سامنے پاکر بھی دیکھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔
اس محرومی سے بچنے اور دنیا و آخرت میں کامیابی کے لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نظریں اپنے موجودہ نقطہ نظر سے ہٹائیں، آنکھوں پہ لگی نلکی کو ہٹائیں، کھلی آنکھوں سے دوسرے حقائق غور سے دیکھیں اور انھیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ بلکہ اپنی رائے اور دیگر مشاہدوں کا تقابلی تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ سچائی کہاں ہے۔اس طرح آپ تعصب کا شکار ہوجانے سے بچ جائیں گے اور درست سمت پر گامزن ہوجائیں گے جو آپ کو دنیا اور آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔

تبصرے