تسکین
اس کے معنی ہیں آرام کرنا، آسودگی تشفی، بے فکری، صحت مندی، اطمینان، افاقہ، تسلی، چین، دلاسہ، دلجمعی، سکون، طمانیت، قرار ، غم غلط، دکھ دور کرنے والی بات ، تخفیف، شدت میں کمی اور متحرک کو ساکن کرنا۔
تسکین عربی زبان سے ماخذ ہے اور اس کا مادہ ہے س ک ن ۔ یہ حروف ان الفاظ کے لئے استعمال ہوتا ہے جو سکون سے متعلق ہوں۔ تسکین سے مراد ہے خوابیدہ خیالات اور جذبات کو ان کی منزل کا مل جانا تاکہ وہ سکون ، اطمینان اور راحت کی حالت میں آجائیں۔
تسکین جان:
انسانی زندگی موسمی اثرات کے باعث بے چینی اور پریشانی سے دوچار ہوجاتی ہے۔ جیسے سخت گرمی کے موسم میں گھر سے باہر کسی کام سے نکلیں تو جسم پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے۔ دھوپ، گرد اور ٹریفک کی وجہ سے طبعیت میں بے چینی آجاتی ہے۔ ایسے میں ٹھنڈے شربت کا گلاس پینے سے جان کو تسکین حاصل ہوتی ہے اور تمام سختیاں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ اسی طرح سفر کرنے والے مسافروں کو اگر کہیں سایہ دار جگہ میسر آجائے تو بھی ان کی جان کو تسکین مل جاتی ہے۔ اور اگر کسی بیمار کو اس کا مسیحا صحت یاب کردے تو اس کی جان بھی تسکین محسوس کرتی ہے۔
تسکین قلب:
اللہ تعالی نے تمام مخلوقات میں انسان کو افضل قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انسان کو سمع (سننے کے لئے سماعت) بصرہ (دیکھنے کے لئے آنکھیں) اور فؤاد (سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے لئے دل ) دیا ہے۔ آج کے ہنگامہ خیز دور میں ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ اور جسے منزل مل گئی ہے وہ بھی اطمینان میں نہیں اور جو اپنی دوڑ جاری رکھے ہوئے ہیں وہ بھی بے قرار ہیں۔
آج کی اس مادی دنیا میں دل کو سکون دینے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ کوئی تو میڈیا کے ذرائع استعمال کر کے اپنے دل کو سکون دینے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی مختلف نشہ آورچیزیں استعمال کر کے ،کوئی سارا دن موبائل استعمال کرتا ہے تو کوئی سارا دن فضول گپیں ہانکنیں، توکوئی تاش کھیلتا نظر آتا ہے، مگر پھر بھی دل کو سکون نہیں ملتا۔
گویا اولاد اپنے مسائل میں گرفتار ہے، والدین اپنے جھنبیلوں میں پھنسے ہوئے ہیں، طالبعلم الگ پریشان ہیں اور اساتذہ اپنے طلباء سے نالاں ہیں۔
اگر معاشرے کے سبھی لوگ، اللہ تعالی سے اپنے تعلق جوڑے رکھیں ، آپس میں ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں ، ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے ہوئے ، اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تو معاشرہ جنت نظیر ہوسکتاہے۔ کیونکہ خوشیاں بانٹنے سے مزید بڑھتی ہیں اور دکھ ہمیشہ بانٹنے سے کم ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی کی مشکل آسان کرنے میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور اس کی دلجوئی کریں تو سامنے والے کو جو فائدہ ہوگا اس سے بڑھ کر آپ تسکین قلب محسوس کریں گے۔
تسکین روح:
تسکین روح کے لئے انسان کو سب سے پہلے اپنے جسم کو پاکیزہ رکھنا چاہیے، پھر روح سے روح کا رشتہ جوڑیں۔ اس کے لئے انسانی جبلت ہوس اور غرض سے بالاتر ہوکر ایسا رشتہ قائم کریں جس میں محرم و نامحرم کا پاس رہے۔ اورامید و بیم کی آس رہے۔اپنے رشتوں میں پاکیزگی اور طہارت کو فروغ دیں اور کوشش کریں کہ کسی سے کوئی بھی اچھائی کریں تو صرف اور صرف اللہ تعالی کی رضا کا عنصر شامل حال رہے۔ اگر ان اصولوں کو دانت سے پکڑ کر عمل کریں گے تو آپ کی روح ہمہ وقت تسکین پاسکتی ہے۔
تسکین کام و دہن:
کسی طویل میٹنگ، اجتماع یا مشاعرے میں جہاں بہت سے لوگ موجود ہوں۔ زیادہ دیر تک کام کرنے، گفت و شنید کرنے اور مشاعرہ پڑھنے کی وجہ سے ہر ایک فرد بھوک محسوس کرتا ہے ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ایک انسان اپنی پسند کا کھانا پسند کرتا ہے۔ اس لئے ایسے مواقع پہ انواع و اقسام کے کھانے رکھے جاتے ہیں تاکہ ہر انسان اپنی اپنی طبع کے مطابق اپنی بھوک کی تسکین حاصل کرسکے۔
تسکین طبع:
تسکین طبع کسی شخص کی فطری طبع ہوتی ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ طبع پختہ ہوجاتی ہے۔ جیسے کچھ لوگ کم گو ہوتے اور خاموش طبع ہوتے ہیں اور یہ عادت ان کی آخری عمر تک برقرار رہتی ہے اور اپنی خوشی اکیلے میں ، تنہائی میں ، سمندر کنارے اور خاموشی کے ماحول میں حاصل کرتے ہیں۔ جبکہ بچے تسکین طبع زنگر برگر کھانے، آئس کریم کھانے اور کھیل کود سے حاصل کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ جنگجو صفت لوگ اپنی تسکین طبع کے لئے لوگوں کو مار کٹائی اور چھیڑ خانی سے حاصل کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی تسکین طبع کے لئے بار بار دوسری جگہوں کی سیر و سیاحت کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔

تبصرے